چیف جسٹس آف پاکستان کی دو ٹوک باتیں
مقننہ کی ذمے داری ہے کہ وہ پرانے اور دقیانوسی قوانین کو بدلنے کے لیے قانون سازی کرے،جسٹس ثاقب نثار
مقننہ کی ذمے داری ہے کہ وہ پرانے اور دقیانوسی قوانین کو بدلنے کے لیے قانون سازی کرے،جسٹس ثاقب نثار۔ فوٹو: فائل
لاہور:
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ہفتے کو پاکستان بار کونسل کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ کے فیصلوں پر ہونے والے تنقیدی تبصروں اور عوامی رائے کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ عدلیہ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں' عدلیہ پر دباؤ ڈالنے والا کوئی پیدا نہیں ہوا' جتنے فیصلے کیے ضمیر اور قانون کے مطابق کیے' کسی پلان کا حصہ ہیں نہ بنیں گے' اگر عدلیہ آزاد نہ ہوتی تو حدیبیہ پیپر ملز کا جو فیصلہ آیا وہ نہ آتا۔
گزشتہ کچھ عرصے سے عدلیہ حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جاری رسہ کشی کے باعث ایک دوسرے پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات اور مختلف سیاسی فیصلوں میں الجھی ہوئی ہے۔ عدلیہ نے پاناما کیس' سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی نااہلی اور عمران خان اور جہانگیر ترین کے کیس کے حوالے سے جو بھی فیصلے کیے اس پر میڈیا سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے تبصروں کی جو لہر چلی اور عوامی و سیاسی حلقوں کی جانب سے جس رائے کے اظہار کا اعادہ کیا جانے لگا اس سے ایسے تاثر کی فضا قائم ہوئی کہ عدلیہ کی جانب سے جو فیصلے آئے وہ کسی دباؤ کا نتیجہ تھے اور متاثرہ فریقین کو انصاف نہیں ملا۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ تبصرہ کرنے والے لوگ جنہوں نے فیصلہ نہیں پڑھا ہوتا' حالات کا پتہ نہیں ہوتا وہ ایسا قصہ بیان کرتے ہیں کہ عدلیہ بھی حیران رہ جاتی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا بالکل بجا ہے اس سلسلے میں میڈیا پر تبصرہ نگاروں کو بھی حالات اور واقعات کی مکمل آگاہی اور باریک بینی سے اس کے مطالعے کے بعد احتیاط کا دامن تھامے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے اور تنقید کرتے ہوئے ایسا تاثر قائم نہیں کرنا چاہیے کہ حکومتی اور ریاستی ادارے مکمل ناکام ہو چکے ' اس سے عوام میں مایوسی اور ناامیدی جنم لیتی ہے۔
مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے بھی اپنی نااہلی کے بعد اپنی تقریروں اور بیانات میں اسی تاثر کو ابھارا کہ ان کے خلاف آنے والا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں تھا اور انھیں بطور خاص نشانہ بنایا گیا اور یہ کہ یہ طے شدہ فیصلہ تھا۔ حدیبیہ پیپر ملز کیس' عمران خان اور جہانگیر ترین کیس کے فیصلوں کے بعد عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے دبے لفظوں اس رائے کا اظہار کیا جانے لگا کہ یہ فیصلے انصاف پر مبنی نہیں بلکہ کسی دباؤ کا نتیجہ ہیںیا یہ کوئی نام نہاد توازن پیدا کرنے کے لیے کیا گیا' میاں نواز شریف نے بھی اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
عوامی اور سیاسی حلقوں میں جنم لینے والے اس تاثر کی چیف جسٹس آف پاکستان نے مکمل نفی کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں عدلیہ آزاد ہے ، تمام فیصلے آئین اور قانون کے تحت پوری ایمانداری اور دیانتداری سے کر رہی ہے۔
جسٹس میاں ثاقب نثار نے عدلیہ کے ادارے کے اندر موجود بہت سے مسائل اور انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا بھی کھل کر اظہار کیا۔ انھوں نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ جس کے خلاف فیصلہ آ جائے وہ عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہنے لگتا ہے کہ عدلیہ کسی پلان کا حصہ بن گئی ہے۔ انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں فیصلے ضمیر کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے بھاری فیسیں وصول کرنے والے وکلاء کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اب تو وکلاء کی فیسیں ڈھائی ڈھائی کروڑ تک جا پہنچی ہیں' کیس بنتا نہیں اور وکیل سائل کو دھوکا دیتے ہوئے کہہ دیتا ہے کہ اس کی جج سے بات ہو گئی ہے' کیا پاکستان بار نے ایسے وکلا کے خلاف کارروائی کی؟
جسٹس ثاقب نثار نے وکلاء سے اپیل کی کہ وہ سائلین کی فیسوں میں رعایت کا اعلان کریں' عدلیہ بھی وکلاء کو ہر سہولت دینے کے لیے تیار ہے۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے ججوں کے ساتھ ہونے والے نامناسب رویے کا بھی شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک لیڈی سول جج کے ساتھ انتہا کی بدتمیزی کی گئی' چیمبر میں جا کر ججز کو گالیاں دینا کون سا شیوہ ہے۔ ججز کے ساتھ ایسا ناشائستہ رویہ بحیثیت قوم ہمارے اخلاقی زوال کی نشانی ہے۔ سائلین کو بروقت انصاف نہ ملنا بھی عدلیہ کے ادارے کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انصاف کی بروقت فراہمی میں تاخیر سب سے بڑی خرابی ہے۔ یہ ہمارے معاشرے اور انصاف کا استحصال ہے جس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
انھی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ مقننہ کی ذمے داری ہے کہ وہ پرانے اور دقیانوسی قوانین کو بدلنے کے لیے قانون سازی کرے' انھوں نے واضح کیا کہ اگر مقننہ نے اپنی ذمے داری پوری نہ کی تو عدلیہ کو خود آگے بڑھ کر نئے طریقے متعارف کروانا پڑیں گے۔ اب یہ ذمے داری مقننہ اور عدلیہ کے کندھوں پر آگئی ہے کہ وہ فوری اور سستے انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ہفتے کو پاکستان بار کونسل کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ کے فیصلوں پر ہونے والے تنقیدی تبصروں اور عوامی رائے کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ عدلیہ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں' عدلیہ پر دباؤ ڈالنے والا کوئی پیدا نہیں ہوا' جتنے فیصلے کیے ضمیر اور قانون کے مطابق کیے' کسی پلان کا حصہ ہیں نہ بنیں گے' اگر عدلیہ آزاد نہ ہوتی تو حدیبیہ پیپر ملز کا جو فیصلہ آیا وہ نہ آتا۔
گزشتہ کچھ عرصے سے عدلیہ حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جاری رسہ کشی کے باعث ایک دوسرے پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات اور مختلف سیاسی فیصلوں میں الجھی ہوئی ہے۔ عدلیہ نے پاناما کیس' سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی نااہلی اور عمران خان اور جہانگیر ترین کے کیس کے حوالے سے جو بھی فیصلے کیے اس پر میڈیا سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے تبصروں کی جو لہر چلی اور عوامی و سیاسی حلقوں کی جانب سے جس رائے کے اظہار کا اعادہ کیا جانے لگا اس سے ایسے تاثر کی فضا قائم ہوئی کہ عدلیہ کی جانب سے جو فیصلے آئے وہ کسی دباؤ کا نتیجہ تھے اور متاثرہ فریقین کو انصاف نہیں ملا۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ تبصرہ کرنے والے لوگ جنہوں نے فیصلہ نہیں پڑھا ہوتا' حالات کا پتہ نہیں ہوتا وہ ایسا قصہ بیان کرتے ہیں کہ عدلیہ بھی حیران رہ جاتی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا بالکل بجا ہے اس سلسلے میں میڈیا پر تبصرہ نگاروں کو بھی حالات اور واقعات کی مکمل آگاہی اور باریک بینی سے اس کے مطالعے کے بعد احتیاط کا دامن تھامے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے اور تنقید کرتے ہوئے ایسا تاثر قائم نہیں کرنا چاہیے کہ حکومتی اور ریاستی ادارے مکمل ناکام ہو چکے ' اس سے عوام میں مایوسی اور ناامیدی جنم لیتی ہے۔
مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے بھی اپنی نااہلی کے بعد اپنی تقریروں اور بیانات میں اسی تاثر کو ابھارا کہ ان کے خلاف آنے والا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں تھا اور انھیں بطور خاص نشانہ بنایا گیا اور یہ کہ یہ طے شدہ فیصلہ تھا۔ حدیبیہ پیپر ملز کیس' عمران خان اور جہانگیر ترین کیس کے فیصلوں کے بعد عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے دبے لفظوں اس رائے کا اظہار کیا جانے لگا کہ یہ فیصلے انصاف پر مبنی نہیں بلکہ کسی دباؤ کا نتیجہ ہیںیا یہ کوئی نام نہاد توازن پیدا کرنے کے لیے کیا گیا' میاں نواز شریف نے بھی اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔
عوامی اور سیاسی حلقوں میں جنم لینے والے اس تاثر کی چیف جسٹس آف پاکستان نے مکمل نفی کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں عدلیہ آزاد ہے ، تمام فیصلے آئین اور قانون کے تحت پوری ایمانداری اور دیانتداری سے کر رہی ہے۔
جسٹس میاں ثاقب نثار نے عدلیہ کے ادارے کے اندر موجود بہت سے مسائل اور انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا بھی کھل کر اظہار کیا۔ انھوں نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ جس کے خلاف فیصلہ آ جائے وہ عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہنے لگتا ہے کہ عدلیہ کسی پلان کا حصہ بن گئی ہے۔ انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں فیصلے ضمیر کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے بھاری فیسیں وصول کرنے والے وکلاء کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اب تو وکلاء کی فیسیں ڈھائی ڈھائی کروڑ تک جا پہنچی ہیں' کیس بنتا نہیں اور وکیل سائل کو دھوکا دیتے ہوئے کہہ دیتا ہے کہ اس کی جج سے بات ہو گئی ہے' کیا پاکستان بار نے ایسے وکلا کے خلاف کارروائی کی؟
جسٹس ثاقب نثار نے وکلاء سے اپیل کی کہ وہ سائلین کی فیسوں میں رعایت کا اعلان کریں' عدلیہ بھی وکلاء کو ہر سہولت دینے کے لیے تیار ہے۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے ججوں کے ساتھ ہونے والے نامناسب رویے کا بھی شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک لیڈی سول جج کے ساتھ انتہا کی بدتمیزی کی گئی' چیمبر میں جا کر ججز کو گالیاں دینا کون سا شیوہ ہے۔ ججز کے ساتھ ایسا ناشائستہ رویہ بحیثیت قوم ہمارے اخلاقی زوال کی نشانی ہے۔ سائلین کو بروقت انصاف نہ ملنا بھی عدلیہ کے ادارے کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انصاف کی بروقت فراہمی میں تاخیر سب سے بڑی خرابی ہے۔ یہ ہمارے معاشرے اور انصاف کا استحصال ہے جس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
انھی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ مقننہ کی ذمے داری ہے کہ وہ پرانے اور دقیانوسی قوانین کو بدلنے کے لیے قانون سازی کرے' انھوں نے واضح کیا کہ اگر مقننہ نے اپنی ذمے داری پوری نہ کی تو عدلیہ کو خود آگے بڑھ کر نئے طریقے متعارف کروانا پڑیں گے۔ اب یہ ذمے داری مقننہ اور عدلیہ کے کندھوں پر آگئی ہے کہ وہ فوری اور سستے انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔