اے ایف یو کراچی وی بوک کے بعد جی ڈی فائلنگ 70 فیصد کم

کسٹم ریونیو بھی45 فیصد کم، وجہ تربیت یافتہ عملے کی قلت اور بدعنوانی ہے، ذرائع

ایف بی آر اسکلڈ اپریزرز کی تعداد 15، کلیئرنس کیلیے دو شفٹیں لگائے، ٹریڈ سیکٹر فوٹو : ایکسپریس

محکمہ کسٹمز ایئر فریٹ یونٹ کراچی میں وی بوک کلیئرنس سسٹم متعارف ہونے کے بعد گڈزڈیکلریشن کی فائلنگ 70 فیصد کم ہوگئی ہے جو ایف بی آر کے کسٹم ریونیو میں 45 فیصد سے زائد کی کمی کا باعث بن گئی ہے۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایف بی آر کی جانب سے کسٹمز ایئرفریٹ یونٹ کراچی کو 14 فروری سے وی بوک کلیئرنس سسٹم کے ساتھ منسلک تو کردیا گیا ہے لیکن اے ایف یو میں کمپیوٹراسکلڈ اپریزرز کی تقرریاں نہ ہونے سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران کلیئرنس کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کسٹمز اے ایف یو کراچی میں وی بوک سسٹم متعارف ہونے سے قبل تک اوسطاً ماہانہ 12 ہزار گڈزڈیکلریشن فائل کی جاتی تھیں جو اب گھٹ کر3400 رہ گئیں۔

ذرائع نے بتایا کہ اے ایف یوکراچی میں 7 میں سے صرف 2 اپریزرز کمپیوٹراسکلڈ ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران اے ایف یو میں فضائی راستے سے درآمد ہونے والی شپمنٹس کی کلیئرنس مستقل التوا کا شکار ہورہی ہیں۔ ٹریڈ سیکٹر کا کہنا ہے کہ کلیئرنس میں سستی سے 2 کمپیوٹراسکلڈ اپریزرز نے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے اور انہوں نے کسٹمز کلیئرنس کومن مانی اسپیڈ منی کے عوض مشروط کر دیا ہے۔




جبکہ دوسری طرف اسسٹنٹ کلکٹرتوصیف گورچانی کلیئرنس مسائل سے نمٹنے کیلیے نہ صرف رات گئے تک کام کررہے ہیں بلکہ مختلف گروپوں کا دورہ کرکے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کو یقینی بنارہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کسٹمز کلیئرنس میں تاخیر سے کارگوہینڈلنگ کرنے والی کمپنیوں کی چاندی ہوگئی ہے جن کاگودام رینٹ ودیگر چارجز کی مد میں آمدنی دگنی ہو گئی ہے، درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس میں مستقل تاخیر کے باعث 50 فیصد سے زائد درآمدکنندگان نے ملک کے دیگر شہروں میں قائم ایئر فریٹ یونٹس کا رخ کرلیا ہے۔

ٹریڈ سیکٹر کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کو ایئرفریٹ یونٹ کراچی میں وی بوک کلیئرنس سسٹم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلیے 12 سے 15 کمپیوٹراسکلڈ اپریزرز کی تقرریوں کے ساتھ زیرالتوا کیسز پر قابو پانے کیلیے کلیئرنس خدمات کے اوقات کارکو صبح 9 تا3 اور سہ پہر3 تا رات 10 تک کی دوشفٹوں میں کرنے کے احکام جاری کرنے چاہئیں۔
Load Next Story