گوادر پورٹ پر بھارت کا واویلا
پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ گوادر بندرگاہ صرف تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوگی
پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ گوادر بندرگاہ صرف تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوگی۔ فوٹو: فائل
بھارت اور امریکا نے گوادر پورٹ سے متعلق بے بنیاد خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں چین اسے فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرے گا، پینٹاگان سے جون میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مستقبل میں گوادر چین کا فوجی اڈا بن سکتا ہے، بھارت اس سے پہلے ہی اس قسم کے خدشات ظاہر کرچکا ہے تاہم چین نے واضح طور پر اس کی تردید کردی تھی۔
پاکستانی بندرگاہ گوادر کا موازنہ سری لنکا کی بندرگاہ سے کیا جارہا ہے جہاں ہمبنٹوٹا کا چھوٹا گاؤں ایک بندرگاہی کمپلیکس میں تبدیل ہوگیا تھا، گزشتہ ہفتے سری لنکا نے 99 سال کی لیز پر اسے چین کے حوالے کردیا ہے تاہم گوادر بندرگاہ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ چین کی طرف سے گوادر میں کسی بھی پاکستانی مقام پر فوجی اڈے کی تعمیر ایک خالص ذہنی اختراع ہے جس کی چینی وزارت دفاع کے ترجمان ووسیان بھی تردید کرچکے ہیں۔
پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ گوادر بندرگاہ صرف تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوگی۔ دوسری جانب پاکستان کے معاشی مستقبل میں اہم کردار ادا کرنے والا سی پیک منصوبہ حریف ممالک کی نگاہوں میں بری طرح کھٹک رہا ہے اور وقتاً فوقتاً سی پیک سے متعلق منفی پروپیگنڈے کے ساتھ الزام تراشیوں اور بے بنیاد خدشات کا اظہار کرکے رائے عامہ ہموار کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ اس سے پیشتر بھی سی پیک جیسے عظیم منصوبے پر بھارت کی جانب سے خوب واویلا کیا جاتا رہا ہے، جس میں کبھی متنازع علاقے اور تحفظات کا ذکر کیا گیا اور اب سی پیک منصوبہ پر مختلف جہات میں بھی منفی پروپیگنڈہ جاری ہے تاکہ عوام میں غلط فہمی پیدا کی جاسکے۔
اس سلسلے میں چین کی جانب سے فراہم کیے جانے والے قرض پر بھاری شرح سود اور منصوبوں کے لیے رقوم کی فراہمی روکنے کی غلط خبریں بھی گردش میں ہیں، جس پر چین نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں سی پیک منصوبوں کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے سے گریز کیا جائے۔
چین نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو سی پیک سے متعلقہ منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے چینی حکومت کی طرف سے دیے گئے رعایتی قرضوں پر صرف ایک یا دو فیصد سود ادا کرنا ہے، جب کہ سی پیک سے متعلق تین منصوبوں کے لیے رقوم کی فراہمی روکنے کے بارے میں میڈیا اطلاعات درست نہیں ہیں، کسی منصوبے کے بارے میں کسی مالیاتی انتظام پر نظر ثانی کو منفی انداز میں نہیں لیا جانا چاہیے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ سی پیک پاکستانی معیشت کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے، عوام کو اس سے متعلق کسی منفی پروپیگنڈے پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔
پاکستانی بندرگاہ گوادر کا موازنہ سری لنکا کی بندرگاہ سے کیا جارہا ہے جہاں ہمبنٹوٹا کا چھوٹا گاؤں ایک بندرگاہی کمپلیکس میں تبدیل ہوگیا تھا، گزشتہ ہفتے سری لنکا نے 99 سال کی لیز پر اسے چین کے حوالے کردیا ہے تاہم گوادر بندرگاہ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ چین کی طرف سے گوادر میں کسی بھی پاکستانی مقام پر فوجی اڈے کی تعمیر ایک خالص ذہنی اختراع ہے جس کی چینی وزارت دفاع کے ترجمان ووسیان بھی تردید کرچکے ہیں۔
پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ گوادر بندرگاہ صرف تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوگی۔ دوسری جانب پاکستان کے معاشی مستقبل میں اہم کردار ادا کرنے والا سی پیک منصوبہ حریف ممالک کی نگاہوں میں بری طرح کھٹک رہا ہے اور وقتاً فوقتاً سی پیک سے متعلق منفی پروپیگنڈے کے ساتھ الزام تراشیوں اور بے بنیاد خدشات کا اظہار کرکے رائے عامہ ہموار کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔ اس سے پیشتر بھی سی پیک جیسے عظیم منصوبے پر بھارت کی جانب سے خوب واویلا کیا جاتا رہا ہے، جس میں کبھی متنازع علاقے اور تحفظات کا ذکر کیا گیا اور اب سی پیک منصوبہ پر مختلف جہات میں بھی منفی پروپیگنڈہ جاری ہے تاکہ عوام میں غلط فہمی پیدا کی جاسکے۔
اس سلسلے میں چین کی جانب سے فراہم کیے جانے والے قرض پر بھاری شرح سود اور منصوبوں کے لیے رقوم کی فراہمی روکنے کی غلط خبریں بھی گردش میں ہیں، جس پر چین نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں سی پیک منصوبوں کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے سے گریز کیا جائے۔
چین نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو سی پیک سے متعلقہ منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے چینی حکومت کی طرف سے دیے گئے رعایتی قرضوں پر صرف ایک یا دو فیصد سود ادا کرنا ہے، جب کہ سی پیک سے متعلق تین منصوبوں کے لیے رقوم کی فراہمی روکنے کے بارے میں میڈیا اطلاعات درست نہیں ہیں، کسی منصوبے کے بارے میں کسی مالیاتی انتظام پر نظر ثانی کو منفی انداز میں نہیں لیا جانا چاہیے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ سی پیک پاکستانی معیشت کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے، عوام کو اس سے متعلق کسی منفی پروپیگنڈے پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔