دہشتگردوں کی فعالیت سوالیہ نشان

یہ درد انگیز صورتحال بلاشبہ دہشتگردی کے مسلط کردہ عفریت نے ملک میں پیدا کی ہے

یہ درد انگیز صورتحال بلاشبہ دہشتگردی کے مسلط کردہ عفریت نے ملک میں پیدا کی ہے۔ فوٹو: فائل

اتوار کو کوئٹہ میں چرچ حملے کا مقدمہ تھانہ سول لائنز میں ایس ایچ او کی مدعیت میں نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف درج کر لیا گیا جس میں قتل، اقدام قتل، ایکسپلوزیوایکٹ اور انسداد دہشتگردی سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔ حقیقت میں اس مقدمہ کا تعلق دہشتگردوں کے اس قبیلہ ، نسل اور نیٹ ورک سے ہے جسے ریاستی رٹ قبول نہیں جو مذہب کا مخصوص برانڈ ملک پر مسلط کرنے کی ایک بے منزل بزدلانہ جنگ لڑ رہے ہیں،ان انتہا پسند قوتوں کو عالمی برادری کی طرف سے کسی قانونی محاسبہ کا خوف نہیں،ان کے ڈانڈے عالمی جہادی اور امن دشمن طاقتوں سے ملے ہوئے ہیں۔

ان کو داعش اور القاعدہ کا نام دیں ،طالبان کہیں ، یہ کہیں ''را'' کے روپ میں حملے کرتے ہیں اور کہیں مسیحی برادری جیسی بے ضرر، ملکی سیاسی و سماجی زندگی کے حاشیہ پر رہنے والی پرامن، بے بس اقلیت کی کرسمس کی خوشیاں خون میں ڈبو دیتے ہیں، ان کے ظلم وستم اور بربریت سے ہزارہ برادری بھی محفوظ نہیں، وہ محنت کش بھی جو پنجاب اور سندھ سے بلوچستان کے راستے بیرون وطن جاکر تلاش رزق کی جستجو میں آسودہ خاک ہوئے، ان کے گھروں میں کہرام برپا ہوا، اپنے جواں سال بیٹوں اور بھائیوں کی میتیں دیکھ کر مائیں اور بہنیں صدمہ سے بے ہوش ہوگئیں اور ایسا سانحہ پہلی بار نہیں ہوا ،مسیحی گرجا گھروں ،اقلیتوں کے مقدس مقامات، مزاروں ، مساجد اور سرکاری تنصیبات پر دہشتگردوں کے پے در پے حملے اب چیلنج سے زیادہ ملکی بقا اور وجود کی مخالف قوتوں کی سرکشی اور بے رحمی کا باغیانہ اعلان بن چکے ہیں۔

اس لیے اب ایڈ ہاک ازم ، غیر مربوط سیکیورٹی میکنزم اور حکمت عملی سے بڑھ کر نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہونا چاہیے، مسیحی برادری پر یہ دہشتگردوں کا ایک اور بہیمانہ حملہ تھا جو اس سے پہلے حملوں کی نسبت ان کے اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت اور فعالیت کی نشاندہی کرتا ہے جب کہ ضرب کاری ان کی اسی وارداتی مستعدی پر لگانے کی ہے، ہمارے سیکیورٹی پیراڈائم میں دشمن پر پہلے وار کرنے کی اسٹرٹیجی ابھی بھی نظر ثانی کی محتاج ہے جب کہ بلوچستان جیسے عسکری اعتبار سے محفوظ زون میں ان کی پھر سے واردات لمحہ فکریہ ہے ۔


یہ درد انگیز صورتحال بلاشبہ دہشتگردی کے مسلط کردہ عفریت نے ملک میں پیدا کی ہے جب کہ انسانیت کے دشمنوں کے خلاف پوری قوم، عسکری قوت، سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی جاری جنگ میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑی ہے مگر چند سوالات ایسے ہیں جن کے جواب حکمرانوں، سیکیورٹی حکام ، بلوچستان انتظامیہ ، سول سوسائٹی اور مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کو بھی دینے ہیں جو جمہوری اور سیاسی عمل کو عاقبت نااندیشی سے میدان جنگ میں بدل چکی ہیں، ایسے میں مخالف قوتوں کو کیا ضرورت ہے کہ مزید درد سر اٹھائیں ،انھیں پلیئنگ فیلڈ تو سیاست دان خود مہیا کرتے ہیں۔ان سوالات کا براہ راست تعلق ملکی سلامتی، صوبائی اکائیوں میں امن و امان، مجموعی داخلی سیکیورٹی صورتحال اور سرحدوں پر پیدا شدہ گھمبیرتا سے ہے۔

ارباب اختیار کو درست ادراک ہے کہ ملک حالت جنگ میں ہے،دہشتگرد قوتوں نے بلوچستان کی تہہ در تہہ پیچیدہ قبائلی ، سیاسی، قومیتی ، لسانی، مذہبی ، مسلکی اور علاقائی کشیدگی سے اپنا خونیں روڈ میپ تیار کیا ہے اس کو ملیامیٹ کرنے کی ٹھان لیجیے۔ کوئٹہ میں گرجاگھر پر خودکش حملے کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں، میڈیا ہاؤسز اور دیگر اہم مقامات پر سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جب کہ انٹیلی جنس ادارے نے راولپنڈی ریجن کے 193 گرجا گھروں سمیت پنجاب بھر کے 1077 کی سیکیورٹی غیر تسلی بخش قرار دیکر ان کی سیکیورٹی فول پروف بنانے کی سفارش کی ہے۔ ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ سیکیورٹی ادارے نے گرجا گھروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے مفصل رپورٹ پنجاب حکومت کو ارسال کردی ہے جس میں پنجاب بھر کے 1077گرجا گھروں کی سیکیورٹی غیر تسلی بخش قرار دی گئی ہے۔

سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ97 فیصد یعنی 1048گرجا گھروں میں واک تھرو گیٹ ہی موجود نہیں، ان میں 193گرجا گھرراولپنڈی ریجن میں واقع ہیں۔ لاہور میں 40گرجا گھروں پر واک تھرو گیٹ نہیں۔ سیکیورٹی آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 67گرجا گھروں کے پاس پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈ نہیں اور 722 چرچ سیکیورٹی گارڈ کے بغیر ہیں، رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ گرجا گھروں کی سیکیورٹی کے لیے مختص 884 پوائنٹس پر سیکیورٹی اہلکار غائب پائے گئے۔

722 میں پارکنگ انتظام اور 645 میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں۔ 639 میں بارودی مواد کی نشاندہی کے آلات میسر نہیں۔ رپورٹ میں کرسمس سے قبل گرجا گھروں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ ادھر کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے، مسیحی برادری کے حوصلے پر فخر ہے جنھوں نے اپنے پیاروں کی قربانی کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا ہے، یہ عزم بھی لازم ہے کہ دہشتگردوں کی ٹائمنگ اور اہداف تک پہنچنے کا خواب اب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔
Load Next Story