تھر میں موسم کی شدت اور غذائی قلت سے ہلاکتیں
کرپٹ عناصر کی بھوک اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ تھر واسیوں کے تن مردہ کو نوچ رہے ہیں
کرپٹ عناصر کی بھوک اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ تھر واسیوں کے تن مردہ کو نوچ رہے ہیں۔ فوٹو: فائل
صوبہ سندھ کے پسماندہ ترین علاقے تھر میں ایک بار پھر غذائی قلت اور سخت سرد موسم کی شدت کے باعث اموات کا سلسلہ جاری ہے، جس کی جانب بارہا میڈیا پر رپورٹ ہونے کے باوجود سندھ حکومت کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا۔ یہ امر قابل تشویش ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے باعث اتنی ہلاکتیں نہیں ہوئیں جتنی غذائی قلت اور طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث تھر میں ہورہی ہیں۔
ایک خبر کے مطابق سول اسپتال مٹھی اور بی ایچ یو کلوئی میں غذائی قلت اور مختلف وبائی امراض کے باعث مزید 6 بچے چل بسے۔ اس طرح رواں ماہ میں 28 ہلاکتیں ہوچکی ہیں، جب کہ موجودہ سال ہلاکتوں کی تعداد 566 ہوگئی ہے۔ ضلع تھر کے مختلف شہروں میں اسپتالوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، دواؤں کی قلت اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث ہلاکتوں کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب تھر میں سردی بڑھنے سے بچوں کی اموات کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے مگر سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان تاحال برقرار ہے، سندھ حکومت نے بچوں کی اموات کا اب تک کوئی نوٹس نہیں لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ صحت کے پاس ادویات کے لیے فنڈز بھی نہیں ہیں، جب کہ ایمبولینسوں کی مرمت اور دیگر سہولیات کے نام پر لاکھوں روپے ہڑپ کرلیے گئے ہیں، اس حوالے سے کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں۔
تھر ایک عرصہ سے نوحہ کناں ہے، اس پسماندہ ترین علاقے میں عوامی سہولیات فراہم کرنے کی کبھی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں، اگر میڈیا پر شور اٹھنے کے بعد نام نہاد ایکشن لیا بھی گیا تو اس کے ثمرات دکھائی نہیں دیے۔ کرپٹ عناصر کی بھوک اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ تھر واسیوں کے تن مردہ کو نوچ رہے ہیں، تھر کے لیے فراہم کی جانے والی امداد کی بندربانٹ اور امدادی گندم کے گوداموں میں پڑے پڑے سڑ جانے کی خبریں بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔
آخر یہ بے حسی کب تک جاری رہے گی؟ تھر کے علاقے سے کالا سونا حاصل کرنے والے عوام کو دو نوالے فراہم کرنے کے روادار نہیں ہیں۔ سندھ حکومت کو جاگنا ہوگا۔ تھر میں طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ غذائی قلت کو دور کرنے کے لیے صائب اقدامات سمیت فنڈز کی خوردبرد اور کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے بغیر چارہ نہیں۔
ایک خبر کے مطابق سول اسپتال مٹھی اور بی ایچ یو کلوئی میں غذائی قلت اور مختلف وبائی امراض کے باعث مزید 6 بچے چل بسے۔ اس طرح رواں ماہ میں 28 ہلاکتیں ہوچکی ہیں، جب کہ موجودہ سال ہلاکتوں کی تعداد 566 ہوگئی ہے۔ ضلع تھر کے مختلف شہروں میں اسپتالوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، دواؤں کی قلت اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث ہلاکتوں کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب تھر میں سردی بڑھنے سے بچوں کی اموات کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے مگر سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان تاحال برقرار ہے، سندھ حکومت نے بچوں کی اموات کا اب تک کوئی نوٹس نہیں لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ صحت کے پاس ادویات کے لیے فنڈز بھی نہیں ہیں، جب کہ ایمبولینسوں کی مرمت اور دیگر سہولیات کے نام پر لاکھوں روپے ہڑپ کرلیے گئے ہیں، اس حوالے سے کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں۔
تھر ایک عرصہ سے نوحہ کناں ہے، اس پسماندہ ترین علاقے میں عوامی سہولیات فراہم کرنے کی کبھی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں، اگر میڈیا پر شور اٹھنے کے بعد نام نہاد ایکشن لیا بھی گیا تو اس کے ثمرات دکھائی نہیں دیے۔ کرپٹ عناصر کی بھوک اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ تھر واسیوں کے تن مردہ کو نوچ رہے ہیں، تھر کے لیے فراہم کی جانے والی امداد کی بندربانٹ اور امدادی گندم کے گوداموں میں پڑے پڑے سڑ جانے کی خبریں بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔
آخر یہ بے حسی کب تک جاری رہے گی؟ تھر کے علاقے سے کالا سونا حاصل کرنے والے عوام کو دو نوالے فراہم کرنے کے روادار نہیں ہیں۔ سندھ حکومت کو جاگنا ہوگا۔ تھر میں طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ غذائی قلت کو دور کرنے کے لیے صائب اقدامات سمیت فنڈز کی خوردبرد اور کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے بغیر چارہ نہیں۔