دہشتگردی کے خلاف ٹرمپ کا تازہ بیانیہ
افغانستا ن میں فوجی انخلا کی مصنوعی ڈیڈلائن کے پابند نہیں ہیں،ٹرمپ
افغانستان میں فوجی انخلا کی مصنوعی ڈیڈلائن کے پابند نہیں ہیں،ٹرمپ۔ فوٹو:فائل
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی فارن پالیسی تقریر میںکہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے،اس کے لیے پاکستان کو ہرسال بڑی رقم دی جاتی ہے اوراسلام آباد کو مددکرنا ہوگی ۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ دیرپا پارٹنر شپ کے خواہشمند ہیں،انھوں نے مزید کہا کہ افغانستا ن میں فوجی انخلا کی مصنوعی ڈیڈلائن کے پابند نہیں ہیں، صدر ٹرمپ کا خطاب ڈو مور سے مختلف نہیں، اپنے پالیسی بیان میں ٹرمپ نے پاکستان سے بہتر تعلقات اور دوطرفہ مفاہمت کی خواہش کا اظہار کیا مگر ان کے درپردہ جنگجویانہ انتباہ سے ارباب اختیار کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے، امریکی حکام جن میں ریکس ٹلرسن بھی شامل ہیں اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی میں پاکستان جن علاقوں مین کارروائی سے امریکا مخالف طرز عمل عمل رکھے گا وہاں امریکی ایکشن سے پاکستان اپنے بعض علاقوں سے بھی محروم ہوسکتا ہے، ٹرمپ نے روس اور چین کی درجہ بندی کرتے ہوئے انھیں اسٹرٹیجک پارٹنرز کے درجہ سے گھٹا کر مسابقتی حریف کی حیثیت سے مخاطب کیا ہے۔
اسی طرح وہ پاکستان کو بھی آیندہ چل کر کسی نئے نام سے پکار سکتا ہے، ٹرمپ نے عالم اسلام کو اپنے یکطرفہ فیصلہ سے برہم کیا ہے اور اس کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ سلامتی کونسل میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لینے کی قرارداد ویٹو کردی۔دریں اثنا پاکستان کے ایوان بالا نے ڈرون حملوں کے متاثرین کا امریکی حکومت سے معاوضہ طلب کرنے کی قرارداد منظور کی ہے جس میں ایوان نے زور دیا کہ اس قرارداد کی کاپی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، نیٹو، یورپی یونین، کامن ویلتھ اور اے پی اے کے رکن ممالک کو بھیجی جائے تاکہ ڈرون حملوں کے متاثرین کو ہونیوالے معاشرتی، معاشی اور نفسیاتی اثرات کو نمایاں کیا جا سکے۔
ادھر مشیر قومی سلامتی ناصر خان جنجوعہ نے کہا ہے کہ امریکا بھارت کی زبان بول رہا ہے اور دہشتگردی کے خلاف ہماری غیر معمولی قربانیوں کو نظرانداز کردیا ہے، وہ پیر کو یہاں سینٹر فار گلوبل اینڈ اسٹرٹیجک اسٹڈیز تھنک ٹینک کے زیر اہتمام قومی سلامتی پالیسی کے متعلق سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔
ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ واشنگٹن پاک چین اقتصادی راہداری کی مخالفت کررہا ہے، حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی کا الزام مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا پاکستان کوغلط طور پر مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے کہ وہ افغانستان میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے جب کہ پاکستان نے کبھی دہشتگردی کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی دہشتگردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکی عزائم سے خبردار رہتے ہوئے ملکی سالمیت پر پوری قوم یک زبان ہوکر دنیا کو یہ پیغام دے کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے مگر اس کی امن کی خواہش کا احترام نہیں کیا جاتا الٹا اسے ڈومور پر مجبور کیا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ دیرپا پارٹنر شپ کے خواہشمند ہیں،انھوں نے مزید کہا کہ افغانستا ن میں فوجی انخلا کی مصنوعی ڈیڈلائن کے پابند نہیں ہیں، صدر ٹرمپ کا خطاب ڈو مور سے مختلف نہیں، اپنے پالیسی بیان میں ٹرمپ نے پاکستان سے بہتر تعلقات اور دوطرفہ مفاہمت کی خواہش کا اظہار کیا مگر ان کے درپردہ جنگجویانہ انتباہ سے ارباب اختیار کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے، امریکی حکام جن میں ریکس ٹلرسن بھی شامل ہیں اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی میں پاکستان جن علاقوں مین کارروائی سے امریکا مخالف طرز عمل عمل رکھے گا وہاں امریکی ایکشن سے پاکستان اپنے بعض علاقوں سے بھی محروم ہوسکتا ہے، ٹرمپ نے روس اور چین کی درجہ بندی کرتے ہوئے انھیں اسٹرٹیجک پارٹنرز کے درجہ سے گھٹا کر مسابقتی حریف کی حیثیت سے مخاطب کیا ہے۔
اسی طرح وہ پاکستان کو بھی آیندہ چل کر کسی نئے نام سے پکار سکتا ہے، ٹرمپ نے عالم اسلام کو اپنے یکطرفہ فیصلہ سے برہم کیا ہے اور اس کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ سلامتی کونسل میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لینے کی قرارداد ویٹو کردی۔دریں اثنا پاکستان کے ایوان بالا نے ڈرون حملوں کے متاثرین کا امریکی حکومت سے معاوضہ طلب کرنے کی قرارداد منظور کی ہے جس میں ایوان نے زور دیا کہ اس قرارداد کی کاپی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، نیٹو، یورپی یونین، کامن ویلتھ اور اے پی اے کے رکن ممالک کو بھیجی جائے تاکہ ڈرون حملوں کے متاثرین کو ہونیوالے معاشرتی، معاشی اور نفسیاتی اثرات کو نمایاں کیا جا سکے۔
ادھر مشیر قومی سلامتی ناصر خان جنجوعہ نے کہا ہے کہ امریکا بھارت کی زبان بول رہا ہے اور دہشتگردی کے خلاف ہماری غیر معمولی قربانیوں کو نظرانداز کردیا ہے، وہ پیر کو یہاں سینٹر فار گلوبل اینڈ اسٹرٹیجک اسٹڈیز تھنک ٹینک کے زیر اہتمام قومی سلامتی پالیسی کے متعلق سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔
ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ واشنگٹن پاک چین اقتصادی راہداری کی مخالفت کررہا ہے، حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی کا الزام مسترد کرتے ہوئے انھوں نے کہا پاکستان کوغلط طور پر مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے کہ وہ افغانستان میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے جب کہ پاکستان نے کبھی دہشتگردی کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی دہشتگردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکی عزائم سے خبردار رہتے ہوئے ملکی سالمیت پر پوری قوم یک زبان ہوکر دنیا کو یہ پیغام دے کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے مگر اس کی امن کی خواہش کا احترام نہیں کیا جاتا الٹا اسے ڈومور پر مجبور کیا جاتا ہے۔