شیڈول میں ردوبدل سے نئی پچزکومناسب وقت نہیں ملا ڈائریکٹر آپریشنز ہارون رشید

 ناقص پچز اور غیر معیاری گیندوں پر شکوے شکایتوں کے ڈھیر لگ گئے

کئی ٹیمیں ڈرافٹ سسٹم میں بہتر کمبی نیشن تشکیل دینے میں ناکام رہیں فوٹو: سوشل میڈیا

ڈومیسٹک کرکٹ کی تباہ حال عمارت سے دھول اڑنے لگی ناقص پچز اور غیر معیاری گیندوں پر شکوے شکایتوں کے ڈھیر لگنے کے بعد ڈائریکٹر آپریشنز ہارون رشید وضاحتیں دینے کیلیے سوشل میڈیا کا سہارا لینے پر مجبور ہوگئے.

ہارون رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ ابھی تک آنے والی رپورٹس میں کپتان، منیجرز اور امپائرز نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، شیڈول میں ردوبدل کی وجہ سے نئی پچز کو مناسب وقت نہیں مل سکا،گیندوں کی چمک برقرار رہی،بال ٹیمپرنگ بھی ختم ہوگئی۔ دراصل بیٹسمین تکنیکی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے کریز پر قیام نہیں کرسکے، لواسکورنگ میچز پر کوچز اور کھلاڑیوں سے پوچھا جانا چاہیے، کئی ٹیمیں ڈرافٹ سسٹم میں بہتر کمبی نیشن تشکیل دینے میں ناکام رہیں، سیزن کے اختتام پر تمام معاملات کا جائزہ لے کرآئندہ کا لائحہ عمل تیار کرینگے۔تفصیلات کے مطابق ایک عرصے سے ڈومیسٹک کرکٹ میں تجربات کا سلسلہ جاری ہے،ماضی میں کئی بار ایک سسٹم کو بہترین قرار دیتے ہوئے اگلے میں تبدیلیاں کرنے کے بیشتر منصوبوں میں سابق ٹیسٹ کرکٹر ہارون رشید اور شکیل شیخ پیش پیش رہے۔

اس بار بھی ملکی سطح کے مقابلوں کو مسابقتی بنانے کے دعوے کیے گئے،ڈرافٹ سسٹم متعارف کراتے ہوئے دیگر ریجنز سے کرکٹرز منتخب کرنے کی پالیسی بھی اپنائی گئی لیکن شیڈول میں جلد بازی،رکاوٹوں، ناقص پچز اور غیر معیاری گیندوں کی وجہ سے شکوے شکایتوں کے ڈھیر لگ گئے،سابق کپتان مصباح الحق نے بھی پچز کی صورتحال کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، قائد ٹرافی اعظم سپر ایٹ مرحلے کے ایک میچ میں دونوں ٹیموں کی 4اننگز میں ایک بار بھی 100کا ہندسہ پار نہ کیا جاسکا تو اظہر علی نے بھی سوال اٹھا دیا۔


اس صورتحال میں ڈائریکٹر آپریشنز ہارون رشید وضاحتیں دینے کیلیے سوشل میڈیا کا سہارا لینے پر مجبور ہوگئے، پی سی بی کے اکاؤنٹ پر موجود انٹرویو میں سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ گیندوں کے حوالے سے گزشتہ 10سال سے شکایات سامنے آرہی تھیں، انگلینڈ میں ڈیوک بال بنانے والی کمپنی سے کہا کہ پاکستانی کنڈیشنز کیلیے موزوں بالز فراہم کریں، ہمیں اس بار اننگز کے دوران خراب ہونے پر گیندیں تبدیل نہیں کرنا پڑیں، آخر تک چمک برقرار رہی، نرم بھی نہیں پڑیں، ہیڈ کوچ مکی آرتھر بھی ان کے حق میں ہیں، وہ انٹرنیشنل ہوم سیریز میں بھی انہی بالز کا استعمال چاہتے ہیں،ابھی تک آنے والی رپورٹس میں کپتان، منیجرز اور امپائرز نے ان پر اطمینان کا اظہارکیا ہے،ان کی وجہ سے بال ٹیمپرنگ بھی ختم ہوگئی۔

اس سے قبل 10یا 15اوورز کے بعد گیند ریورس سوئنگ ہونا شروع ہوجاتی تھی،اب ایسا نہیں ہورہا۔ ہارون رشید نے لواسکورنگ میچز کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کیریبیئن پریمیئر لیگ اور ورلڈ الیون کیخلاف سیریز کی وجہ سے شیڈول میں ردوبدل کرنا پڑا، پچز نئی بنی تھیں، ان کو سیٹ ہونے کیلیے مناسب وقت نہیں مل سکا، حیدرآباد سمیت چند سینٹرز پر طویل فارمیٹ کے زیادہ میچ نہیں ہوتے، اس لیے وہاں موجود پچز کو فوری طور پر تیار کریں تو گھاس چھوڑنا پڑتی ہے، موسم سرد رہنے کی وجہ سے ٹرف خشک نہیں ہوئی اور بیٹسمین مشکل میں رہے لیکن ایک اور پہلو بھی نظر میں رکھنا چاہیے۔

میں نے خود ویڈیوز دیکھی ہیں، پچز اپنی جگہ مگر بیٹسمین تکنیکی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے کریز پر قیام نہیں کرسکے،جب تک گیند پر چمک اور سیم ہورہی ہو بیٹنگ سائیڈ مشکل میں نظر آتی ہے، لو اسکورنگ میچز پر کوچز اور کھلاڑیوں سے پوچھا جانا چاہیے،انھوں نے کہا کہ ایک پروفیشنل کرکٹرز کو ہر طرح کی کنڈیشنز میں کارکردگی دکھانے کیلیے تیار ہونا چاہیے،بیٹسمین کمزوریوں کا شکار ہوکر وکٹیں گنواتے رہیں تو حریف کپتان بولرز کے اسپیل لمبے کرے گا۔

انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی تو ہمیشہ آسان یا مشکل پچز نہیں ملتیں،ڈومیسٹک کرکٹ میں بیٹسمینوں کے مسائل بھی اُجاگر ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ڈرافٹ سسٹم کا مقصد تھا کہ کراچی یا لاہور جیسے بڑے شہروں میں زیادہ کرکٹ ہے، ایبٹ آباد و دیگر کی ٹیمیں کمزور نہ رہیں، میرے خیال میں کئی ٹیمیں بہتر کمبی نیشن تشکیل دینے میں ناکام رہیں، سیزن کے اختتام پر تمام معاملات کا جائزہ لے کرآئندہ کا لائحہ عمل تیار کرینگے۔
Load Next Story