سندھ انویسٹمنٹ بورڈ کا محکمہ اچانک ختم عملہ محکمہ خزانہ میں ضم
نوٹیفکیشن جاری،سیکریٹری کوایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنیکی ہدایت،محکمہ قانون سے رائے بھی طلب نہیں کی<br />
گئی
نوٹیفکیشن جاری،سیکریٹری کوایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنیکی ہدایت،محکمہ قانون سے رائے بھی طلب نہیں کی گئی , فوٹو فائل
MOGADISHU:
حکومت سندھ نے سندھ انویسٹمنٹ بورڈکا محکمہ اچانک ختم کردیا ہے اوراس کے عملے کومحکمہ خزانہ میں ضم کردیا ہے۔ سیکریٹری سندھ انویسٹمنٹ بورڈناہیدایس درانی کاتبادلہ کرکے انھیں سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس ضمن میں پیر کو نوٹیفیکیشن جاری کردیاگیا۔اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ کے سابق مشیر زبیر موتی والا سندھ انویسٹمنٹ بورڈ کے چیئرمین تھے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سندھ انویسٹمنٹ بورڈ کا محکمہ عجلت میں ختم کیا گیا ہے ۔
اس حوالے سے محکمہ قانون سے رائے بھی طلب نہیں کی اور نہ ہی ابھی تک یہ طے کیا گیا ہے کہ بورڈ کے اثاثوں اور اسے کراچی کے علاقوں گڈاپ اور بن قاسم میں الاٹ کردہ اربوں روپے کی اراضی کا کیا ہوگا ؟ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ چین ، کوریا اور دیگر غیر ملکی کمپنیوں اور حکومتوں نے سندھ میں سرمایہ کاری کیلیے بورڈ کے ساتھ جن مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز ) پر دستخط کیے تھے
ان کی کیا حیثیت ہوگی۔واضح رہے کہ سندھ میں ونڈ انرجی،تھرکول،آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کئی ایم او یوز دستخط کیے گئے تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بورڈ کو ختم کرنے کیلیے ابھی تک سمری بھی منظور نہیں کی ہے ۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی جمال مصطفی قاضی سے لیاری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کا اضافی چارج لے کر ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ علیم لاشاری کو پروجیکٹ ڈائریکٹر لیاری مقررکیاگیا ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر غربی گنور خان لغاری کو ملیر ، غربی اور رول ڈیولپمنٹ پیکیج کراچی کا اضافی چارج دیدیا گیا ہے ۔
حکومت سندھ نے سندھ انویسٹمنٹ بورڈکا محکمہ اچانک ختم کردیا ہے اوراس کے عملے کومحکمہ خزانہ میں ضم کردیا ہے۔ سیکریٹری سندھ انویسٹمنٹ بورڈناہیدایس درانی کاتبادلہ کرکے انھیں سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس ضمن میں پیر کو نوٹیفیکیشن جاری کردیاگیا۔اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ کے سابق مشیر زبیر موتی والا سندھ انویسٹمنٹ بورڈ کے چیئرمین تھے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سندھ انویسٹمنٹ بورڈ کا محکمہ عجلت میں ختم کیا گیا ہے ۔
اس حوالے سے محکمہ قانون سے رائے بھی طلب نہیں کی اور نہ ہی ابھی تک یہ طے کیا گیا ہے کہ بورڈ کے اثاثوں اور اسے کراچی کے علاقوں گڈاپ اور بن قاسم میں الاٹ کردہ اربوں روپے کی اراضی کا کیا ہوگا ؟ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ چین ، کوریا اور دیگر غیر ملکی کمپنیوں اور حکومتوں نے سندھ میں سرمایہ کاری کیلیے بورڈ کے ساتھ جن مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز ) پر دستخط کیے تھے
ان کی کیا حیثیت ہوگی۔واضح رہے کہ سندھ میں ونڈ انرجی،تھرکول،آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کئی ایم او یوز دستخط کیے گئے تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بورڈ کو ختم کرنے کیلیے ابھی تک سمری بھی منظور نہیں کی ہے ۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی جمال مصطفی قاضی سے لیاری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کا اضافی چارج لے کر ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ علیم لاشاری کو پروجیکٹ ڈائریکٹر لیاری مقررکیاگیا ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر غربی گنور خان لغاری کو ملیر ، غربی اور رول ڈیولپمنٹ پیکیج کراچی کا اضافی چارج دیدیا گیا ہے ۔