گرین بس منصوبہ کے لیے 5 ارب روپے جاری
شہر کی تیز رفتار زندگی کو دیکھتے ہوئے منصوبہ کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے
منصوبہ کی تکمیل کے بعد شہر میں ٹرانسپورٹ کی موجودہ بدترین صورتحال سے نجات مل سکتی ہے۔فوٹو: فائل
وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات نے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگراموں میں مواصلات ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر اب تک ایک کھرب 11 ارب 66 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کر دیے ہیں۔ جس میں کراچی گرین لائن بس کے لیے 5 ارب 20 کروڑ روپے شامل ہیں۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی ہب میں ٹرانسپورٹ کے گوناگوں مسائل کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، بلاشبہ کراچی کو صفائی ستھرائی، پانی کی عدم فراہمی اور دیگر کئی ایک گنجلک مسائل کا سامنا ہے لیکن ایک طویل رقبے پر پھیلے ہوئے شہر میں جہاں لاکھوں افراد روزانہ آمدورفت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہوں وہاں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کے مسائل کو بھی اہم حیثیت حاصل ہے، جب کہ ایک بین الاقوامی شہر ہونے کے ناطے کراچی میں ٹرانسپورٹ کا نظام دنیا میں ہمارے ملک کی پہچان بن سکتا ہے۔
بلاشبہ شہر میں گرین لائن بس منصوبہ پر کام جاری ہے لیکن صائب ہوگا کہ شہر کی تیز رفتار زندگی کو دیکھتے ہوئے منصوبہ کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے جب کہ اس منصوبہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف گرین لائن کے روٹ تک ہی محدود نہ رہا جائے بلکہ منصوبہ کی جزئیات میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کو بھی شامل کیا جائے جس کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں اور عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
منصوبہ کی تکمیل کے بعد شہر میں ٹرانسپورٹ کی موجودہ بدترین صورتحال سے نجات مل سکتی ہے، اس وقت حالات یہ ہیں کہ دو کروڑ سے زائد نفوس کی آبادی والے شہر میں برائے نام پبلک ٹرانسپورٹ ہے، پبلک بسوں اور ویگنوں کی دگرگوں حالت اور ناکافی ٹرانسپورٹ کی وجہ سے شہری روز سفر کے نام پر عذاب بھگتتے ہیں، اس پر مستزاد ٹرانسپورٹ مافیا کی من مانیوں، بڑھتے کرایوں، ڈرائیور اور کنڈیکٹروں کے بداخلاق رویوں سے شہری شاکی ہیں، ڈرائیوروں کی خون آشام ریسیں روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک حادثات کا باعث بن رہی ہیں۔
شہری پرامید ہیں کہ گرین لائن ٹرانزٹ بس منصوبہ مکمل ہونے کے بعد انھیں مذکورہ بالا مسائل سے کسی حد تک نجات مل جائے گی۔ صائب ہوگا کہ منصوبہ جلد مکمل کیا جائے۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی ہب میں ٹرانسپورٹ کے گوناگوں مسائل کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، بلاشبہ کراچی کو صفائی ستھرائی، پانی کی عدم فراہمی اور دیگر کئی ایک گنجلک مسائل کا سامنا ہے لیکن ایک طویل رقبے پر پھیلے ہوئے شہر میں جہاں لاکھوں افراد روزانہ آمدورفت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے ہوں وہاں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کے مسائل کو بھی اہم حیثیت حاصل ہے، جب کہ ایک بین الاقوامی شہر ہونے کے ناطے کراچی میں ٹرانسپورٹ کا نظام دنیا میں ہمارے ملک کی پہچان بن سکتا ہے۔
بلاشبہ شہر میں گرین لائن بس منصوبہ پر کام جاری ہے لیکن صائب ہوگا کہ شہر کی تیز رفتار زندگی کو دیکھتے ہوئے منصوبہ کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے جب کہ اس منصوبہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف گرین لائن کے روٹ تک ہی محدود نہ رہا جائے بلکہ منصوبہ کی جزئیات میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کو بھی شامل کیا جائے جس کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں اور عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
منصوبہ کی تکمیل کے بعد شہر میں ٹرانسپورٹ کی موجودہ بدترین صورتحال سے نجات مل سکتی ہے، اس وقت حالات یہ ہیں کہ دو کروڑ سے زائد نفوس کی آبادی والے شہر میں برائے نام پبلک ٹرانسپورٹ ہے، پبلک بسوں اور ویگنوں کی دگرگوں حالت اور ناکافی ٹرانسپورٹ کی وجہ سے شہری روز سفر کے نام پر عذاب بھگتتے ہیں، اس پر مستزاد ٹرانسپورٹ مافیا کی من مانیوں، بڑھتے کرایوں، ڈرائیور اور کنڈیکٹروں کے بداخلاق رویوں سے شہری شاکی ہیں، ڈرائیوروں کی خون آشام ریسیں روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک حادثات کا باعث بن رہی ہیں۔
شہری پرامید ہیں کہ گرین لائن ٹرانزٹ بس منصوبہ مکمل ہونے کے بعد انھیں مذکورہ بالا مسائل سے کسی حد تک نجات مل جائے گی۔ صائب ہوگا کہ منصوبہ جلد مکمل کیا جائے۔