عوام کی قوت کا درست استعمال

عوام نے بوجوہ اپنی اجتماعی طاقت کو ایسے امیدواروں کے حق میں استعمال نہیں کیا جو قوم و ملک سے مخلص ہوں۔

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

اس میں کوئی شک نہیں کہ قوت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں لیکن جب عوام کی قوت بٹ جاتی ہے تو عوام کمزوری کا سرچشمہ بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں 70سال سے قوت کا یہ سرچشمہ کمزوری، انتشار اور بدنظمی کا سرچشمہ بنا ہوا ہے اور اپنی قوت کو استحصالی طبقات کے حق میں استعمال کرکے اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارتا چلا آرہا ہے۔

ہمارے ملک میں لولی لنگڑی، اندھی بہری جیسی بھی ہو اتنی جمہوریت تو ہے کہ عوام اپنا ووٹ اگر چاہیں تو آزادی کے ساتھ جس کے حق میں چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔ جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ الیکشن کمپین کے دوران جس قدر چاہیں جھوٹ بولیں، جھوٹے وعدے کریں، عوام کو طرح طرح کے سبز باغ دکھائیں، ان کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے زبان، قومیت، فرقوں کے حوالے سے عوام کے جذبات کا استعمال کریں یعنی ووٹ حاصل کرنے کے لیے عوام کے جذبات سے کھیلنے کی خواص کو آزادی حاصل ہوتی ہے۔

ہمارے ملک میں سیاسی اشرافیہ انتخابات میں عوامی جذبات کے استعمال کے ساتھ ساتھ دولت کا بے تحاشا استعمال کرتی ہے، ہمارے سیاستدان خاص طور پر حکمران طبقات اپنے جلسوں کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے ایم این ایز، ایم پی ایز کو کوٹے دے دیتے ہیں، اگر ایک ایم این اے کی ذمے داری 500 عوام کو جلسے میں گھسیٹ لانا ہے تو وہ یہ ذمے داری بحسن خوبی اس لیے پوری کرتا ہے کہ اسے ٹرانسپورٹ، کھانے اور دیہاڑی کے لیے بھاری رقم دی جاتی ہے، اسی طرح ایم پی ایز کو بھی عوام کو مقررہ تعداد میں جلسوں میں لاکر جلسے کو تاریخی بنانے کا ٹاسک دیا جاتا ہے اور یہ حضرات بڑے اطمینان سے یہ ذمے داریاں اس لیے پوری کرتے ہیں کہ ان کی جیب بھری ہوئی ہوتی ہے۔

جب سیاسی نوشے اپنے تابعداروں کی محنت کو جلسہ گاہوں میں عوام کے ہجوم کی شکل میں دیکھتے ہیں تو سینہ پھلاکر عوام سے اس طرح خطاب کرتے ہیں کہ عوام ان کے شیدائی ہیں، حالانکہ عوام بے چارے مختلف مجبوریوں کے حوالے سے جلسہ گاہوں میں جبراً بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ مناظر عموماً پسماندہ ملکوں میں دیکھے جاتے ہیں جہاں عوام معاشی مجبوریوں، ذات برادری، قومیت زبان، فقہ وغیرہ کے بندھنوں میں بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔

پچھلے دنوں ایک پارٹی کے جلسے کے حوالے سے میڈیا میں یہ خوش کن اور چشم کشا خبر چھی تھی کہ اس پارٹی کے رہنماؤں نے ایم این ایز، ایم پی ایز کو 300 عوام فی کس جلسے میں لانے کی ذمے داری دی تھی۔ اس قسم کے جلسوں میں نعرے لگانے والوں کے گروہ بھی متعین کیے جاتے ہیں جس کا مقصد تاثر دینا ہوتا ہے کہ عوام لیڈران کے کس قدر عقیدت مند ہیں۔

ہمارا اصل موضوع آج 2018ء کے ممکنہ انتخابات ہیں، اگرچہ فہمیدہ سیاسی حلقے اس حوالے سے سخت مایوسی کا شکار ہیں اور کوئی یقین کے ساتھ نہیں کہہ پا رہا ہے کہ 2018ء میں الیکشن ضرور ہوں گے، اس کی ایک بڑی وجہ وہ نامہ اعمال ہے جو انتخابات کے حوالے سے سیاستدانوں میں تذبذب کا باعث بنا ہوا ہے۔ ہمارے اسپیکر قومی اسمبلی ایک سنجیدہ اور محتاط اسپیکر مانے جاتے ہیں، وہ لوز ٹاکر نہیں ہیں، کوئی بات کرتے ہیں تو سوچ سمجھ کر کرتے ہیں، پچھلے دنوں انھوں نے 2018ء کے الیکشن کے حوالے سے جس مایوسی کا اظہار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ کوئی ضروری نہیں کہ مارشل لا ہی آئے بلکہ کوئی عبوری سیٹ اپ بھی آ سکتا ہے۔


اسپیکر کے اس مایوسانہ بیان نے ان حلقوں میں بھی تذبذب کی کیفیت پیدا کر دی ہے جو انتخابات جیتنے کی پوری تیاری کیے بیٹھے تھے۔ ویسے بھی ایک عرصے سے عبوری سیٹ اپ لانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں اور ایک عدم اطمینان، شکوک و شبہات کی فضا قائم ہے۔

بلاشبہ انتخابات کا التوا بہت سارے مسائل کا سبب بنتا ہے اور سیاستدان التوا کو سیاست اور جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں سمجھتے۔ ہماری سیاست میں آٹے میں نمک کے برابر ہی سہی ایسے سیاستدان موجود ہیں جو جمہوریت سے مخلص ہیں، حقیقی معنوں میں ایسے ہی سیاستدانوں کو حقیقی معنوں میں ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے تشویش لاحق ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں ایسی صورتحال کیوں پیدا ہوتی ہے؟

ہمارے ملک میں چار بار فوجی حکومتیں برسر اقتدار آئیں اور جمہوری حکومتوں کو سول صدور نے بھی برخاست کیا اور اسے اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کہ جب بھی جمہوری حکومتوں کا بوریا بستر لپیٹا گیا اس الزام کے ساتھ ہی لپیٹا گیا کہ حکومتیں کرپشن کا ارتکاب کر رہی تھیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی جمہوری حکومت کے خاتمے کے موقع پر خواہ اس کا خاتمہ کسی نے کیا ہو ہماری جمہوری پسند سیاسی جماعتوں نے کوئی موثر احتجاج کیا؟ کوئی مضبوط تحریک چلائی؟ بدقسمتی سے اس کا جواب نفی ہی میں نہیں ملتا بلکہ یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ ہمارے جمہوریت کے چیمپئن سیاستدان تمام فوجی حکومتوں میں شامل رہے اور اپنی سیاسی پارٹیوں کو آمروں کی خدمت میں پیش کیا۔

ان خدشات، ان شکوک و شبہات کے باوجود ہم امید کرتے ہیں کہ انتخابات اپنے وقت مقررہ پر 2018ء میں ہوں گے اور عوام کو اپنے ووٹ کاسٹ کرنے کا موقع ملے گا۔ سیاسی مفکرین نے اگر عوام کو قوت کا سرچشمہ کہا ہے تو غلط نہیں کہا۔ جمہوری نظام میں عوام کے ووٹس کی اجتماعی طاقت ہی ہوتی ہے جو عوام کو قوت کا سرچشمہ بنادیتی ہے لیکن اس حوالے سے عوام نے بوجوہ اپنی اجتماعی طاقت کو ایسے امیدواروں کے حق میں استعمال نہیں کیا جو قوم و ملک سے مخلص ہوں۔ عوام کے بہتر مستقبل کے دل سے خواہش مند ہوں ایماندار ہوں باصلاحیت ہوں؟

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بااختیار ایلیٹ نے انتخابی نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ اس میں صرف وہی امیدوار حصہ لے سکتا ہے جو کروڑوں روپوں کا مالک ہو اور انتخابی مہم پر کروڑوں روپے خرچ کر سکتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات اشرافیہ کی میراث بن گئے ہیں اور اشرافیہ کے لیے یہ کبھی گھاٹے کا سودا نہیں رہے بلکہ ایک ایسی منافع بخش سرمایہ کاری بنے ہوئے ہیں جس میں سرمایہ کار ایک کروڑ لگا کر اکیس کروڑ واپس لیتا ہے۔

اس فراڈ نظام کا سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک عوام اپنے امیدوار اپنے طبقے اپنی آبادیوں سے نہیں نکالیں گے عوام کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ان کے طبقات میں ان کی بستیوں میں ایسے اہل اور مخلص اور ایماندار لوگ موجود ہیں جو لٹیری اشرافیہ کے مقابلے میں حکومت کا کاروبار زیادہ بہتر طریقے سے چلا سکتے ہیں بشرطیکہ قوت کا سرچشمہ عوام اپنی قوت کا صحیح طریقے سے استعمال کریں اور قیادت اپنے اندر سے نکالیں۔
Load Next Story