متبادل تلاش کئے بغیر ٹیم میں آپریشن کلین اپ ممکن نہیں
ذکا اشرف نے بھی اعجازبٹ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گرماگرم بیانات داغنے والوں کو ملازمت دے کر ان کو چپ کروا دیا ہے۔
فوٹو: فائل
دو ماہ پر مشتمل پاکستانی کرکٹ ٹیم کا دورئہ جنوبی افریقہ اب اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
5 میچز کی سیریز کا تیسرا ون ڈے آج جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا، ٹیسٹ میں کلین سوئپ کے بعد گرین شرٹس اب ایک روزہ سیریز جیت کر کچھ ازالہ کرنا چاہتے ہیں، چیمپئنز ٹرافی سے قبل یہ فتح ٹیم کا مورال بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی، ٹیسٹ میں جو کارکردگی رہی اس پر خاصی بحث ہو چکی، البتہ اب ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں پلیئرز نسبتاً بہتر کھیل کا مظاہرہ کر رہے ہیں،ہر بڑی سیریز میں شکست کے بعد چند کھلاڑیوں کی قربانی دینا پڑتی ہے، اس بار بھی چھریاں تیز ہو رہی ہوں گی، سینئرز زیادہ نشانے پر ہیں۔
اکثر ماہرین کی رائے ہے کہ ان سے چھٹکارا حاصل کر کے نیا ٹیلنٹ لایا جائے، مگر ایسا ٹیلنٹ ہے کہاں اس کا کوئی جواب نہیں دے رہا، ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے ڈھیر لگانے والے کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل مقابلوں میں جب مواقع دیئے جائیں تو وہ پرفارم نہیں کر پاتے، گزشتہ چند برسوں میں اسد شفیق، اظہر علی اور عمراکمل نے ہی کچھ بہتر پرفارم کیا، ٹیلنٹ کی فراہمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وکٹ کیپرکامران اکمل کو کئی بار غیر معیاری کارکردگی کے سبب ڈراپ کر کے واپس بلایا گیا اور وہ اب بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔
اسی طرح فاسٹ بولنگ میں ٹیلنٹ کی کمی کے بارے میں چیف سلیکٹر اقبال قاسم بھی نشاندہی کر چکے ہیں،پی سی بی کو اس جانب سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، جب تک نئے کھلاڑی سامنے نہیں آتے ٹیم دوبارہ عروج پر نہیں پہنچ سکتی، آج اگر مصباح الحق، یونس خان، شاہدآفریدی، عمر گل، کامران اکمل، شعیب ملک و دیگر سینئرز کو نکال دیں تو ان کی جگہ لینے کے لیے کتنے کھلاڑی لائن میں موجود ہیں؟ ہمیں اب تک عبدالرزاق کا نعم البدل تو نہیں مل سکا، حماد اعظم جیسے کئی کھلاڑی ٹیم میں لائے گئے جو اب گمنامی کا شکار ہو چکے ہیں، متبادل تلاش کیے بغیر ٹیم میں آپریشن کلین اپ ممکن نہیں ہو گا۔
ان دنوں قومی ٹیم کی قیادت کے حوالے سے بھی خاصی باتیں ہو رہی ہیں، محمد حفیظ کے حمایتی انھیں تینوں طرز میں کپتان دیکھنا چاہتے اوراس کے لیے بھرپور مہم چلائی ہوئی ہے، ایسے میں شاید وہ یہ بات بھول رہے ہیں کہ حفیظ حالیہ ٹیسٹ سیریز کی 6اننگز میں مجموعی طور پر بھی50رنز بھی نہیں بنا سکے تھے ایسے میں انھیں منصب قیادت پر بٹھانے کا کیا جواز ہو گا، دو الگ کپتانوں کا تجربہ فی الحال برقرار رکھنا ہی مناسب لگتا ہے۔
جنوبی افریقہ نے تو تینوں طرز میں الگ کپتان مقرر کیے ہوئے ہیں، حفیظ کے پاس ابھی وقت ہے، انھیں اپنے کھیل پر محنت کرتے ہوئے کارکردگی میں تسلسل لانا چاہیے،اسی صورت وہ ٹیسٹ کپتان بننے کا خواب پورا کر سکتے ہیں، بڑھتی عمر کی وجہ سے مصباح الحق کی اب زیادہ کرکٹ باقی نہیں رہی مگر اب چیمپئنز ٹرافی چند ماہ کی دوری پر ہے، ایسے میں اگر انھیں کپتانی سے ہٹایا گیا تو ٹیم کے لیے مشکلات مزید بڑھ جائیں گی، میگا ایونٹ میں گرین شرٹس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد ہی مستقبل کے لیے فیصلے کرنے ہوں گے۔
ہم پاکستانی اپنی رائے اتنی تیزی سے تبدیل کرتے ہیں کہ اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا، کل ہی کی بات ہے مصباح پر بے حد لعن طعن ہو رہی تھی، سابق کرکٹرز انھیں ٹیم سے نکالنے کی باتیں کر رہے تھے، مگر دوسرے ون ڈے میں میچ وننگ نصف سنچری کے بعد اچانک وہ دوبارہ سب کی آنکھوں کا تارا بن گئے، اب خدانخواستہ اگر پھر ٹیم کو شکست ہو گئی تو ناقدین کی توپوں کا رخ دوبارہ مصباح کی جانب ہو جائے گا، یہ کلچر تبدیل کرنا چاہیے، پاکستان میں ویسے ہی آج کل ہر کوئی کرکٹ کا ماہر بنا ہوا ہے، ایسے ایسے تبصرے ہوتے ہیں جنھیں سن کر لگے کہ کہنے والا خود ڈان بریڈمین ہو، سابق کھلاڑیوں کے کیا کہنے، جب تک بورڈ انھیں لفٹ نہ کرائے تنقید کے مواقع ڈھونڈھتے رہتے ہیں مگر جب کوئی کام مل جائے تو میڈیا میں نظر ہی نہیں آتے۔
یقینا شائقین کرکٹ عبدالقادر، باسط علی اور محمد الیاس جیسے سابق کھلاڑیوں کے گرماگرم بیانات کو اب مس کررہے ہوں گے، تینوں کی صلاحیتوں سے پی سی بی ان دنوں خوب مستفید ہو رہا ہے، ذکا اشرف نے بھی اعجازبٹ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گرماگرم بیانات داغنے والے سابق کرکٹرز کو ملازمت دے کر ان کو چپ کروا دیا ہے۔ جیسے ہی یہ سلسلہ ختم ہوا پھر دیکھیں کیسی کیسی خامیاں سامنے آتی ہیں، سرفراز نواز اس کی واضح مثال ہیں جیسے ہی وہ بورڈ سے الگ ہوئے گھن گرج کے ساتھ میڈیا میں دوبارہ نظر آنے لگے،ماضی میں چیئرمین بننے کے لیے ''خدمات'' پیش کرنے والے ظہیر عباس اب بیٹنگ کوچ بننے کے خواہاں ہیں، اگر انھیں عہدہ مل گیا تو وہ بھی ''سب اچھا ہے'' کے راگ الاپنے لگیں گے ، یہ ٹرینڈ درست نہیں، جب تک سابق کھلاڑی غیر جانبدارانہ تبصرے نہیں کریں ٹیم میں بہتری کیسے آئے گی، ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر رائے دیں تو ہی کرکٹ کی کچھ خدمت ہو سکتی ہے۔
پاکستانی ٹیم میں ان دنوں سیاست زوروں پر ہے، چند کھلاڑی اپنے ہی ساتھیوں کی جڑیں کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں، پی سی بی کو بھی بروقت اس کی اطلاع ہو چکی اور اس نے درپردہ کارروائی بھی شروع کر دی ہے، آئندہ چند روز کے دوران خاموشی سے چند کھلاڑی ٹیم سے باہر کر دیے جائیں گے جن پر ٹیم میں اختلافات کو ہوا دینے کا الزام ہے،ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل چند اوسط درجے کے پلیئرز کی بھی بعض ناپسندیدہ حرکات کا حکام نے سختی سے نوٹس لیا اور ان کے خلاف بھی کارروائی یقینی ہے، یہ ''ٹارگیٹڈ آپریشن'' ہو گا جس کی عام افراد کو ہوا بھی نہیں لگنے دی جائے گی۔
بس خاموشی سے سلیکشن کمیٹی سے کہہ دیا جائے گا کہ فلاں فلاں کھلاڑی کو فی الحال منتخب نہ کریں، ایک کرکٹر جن کی ٹیم میں شمولیت اہم شخصیت کی سفارش پر ہوئی، وہ تاحال کارکردگی کا لوہا منوانے میں تو ناکام ہیں البتہ ان کی کوشش ہے کہ سیاست کے ذریعے دیگر پلیئرز کو لڑوایا جائے، ان کے بارے میں رپورٹ بھی چیئرمین بورڈ کی ٹیبل پر موجود ہے، ماضی میں بھی بعض باصلاحیت کھلاڑی سیاست میں پڑ کر اپنا کیریئر دائو پر لگا چکے اور اب چند دیگر بھی یہی غلطی دوہرا رہے ہیں، انھیں شاہد آفریدی اور یونس خان سے سبق سیکھنا چاہیے جو خاموشی سے ایک سائیڈ پر رہ کر اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
ٹیم کی جنوبی افریقہ میں تاحال غیرمعیاری مجموعی کارکردگی پر سلیکشن کمیٹی بھی آج کل زیرعتاب ہے، اقبال قاسم نے ماضی میں آسٹریلیا میں ایسی ہی درگت بننے کے بعد عہدہ چھوڑ دیا تھا، اب دیکھیں وہ کیا کرتے ہیں، درحقیقت انھیں آزادی سے کام کرنے کا موقع بھی نہیں ملتا، چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف تک سے بات کرنے کے لیے سابق اسٹار کو پہلے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ انتخاب عالم سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، دونوں کپتان مصباح الحق اور محمد حفیظ چیئرمین کے لاڈلے ہیں اور ایسوں کی ناراضی چیف سلیکٹر کیسے سہہ سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر بار ان کی منتخب شدہ ٹیم میں لال نشان لگا کر چند نام تبدیل ہو جاتے ہیں۔
اقبال قاسم ایک شریف النفس انسان اور سلیکشن کا کام اعزازی طور پر انجام دیتے ہیں، وہ نیشنل بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائز اور اب عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں عہدوں کے پیچھے بھاگنے کا زیادہ شوق باقی نہیں رہ جاتا، لوگوں کو اس حقیقت کا علم نہیں ہو گا کہ حالیہ دور میں بھی کئی بار ان کے سلیکشن پر اتنے سنگین اختلافات ہوئے کہ نوبت عہدہ چھوڑنے تک بھی پہنچ گئی تاہم پھر معاملات حل ہو گئے، وہ اپنے طور پر ایمانداری سے فرائض انجام دے رہے ہیں، گرائونڈ میں اگر پلیئرز سوفیصد صلاحیتوں کا مظاہرہ نہ کریں تو ان کا کیا قصور ہے۔
سینچورین میں ٹیم نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دوسرے ون ڈے میں کامیابی حاصل کی، یہ وہی مقام ہے جہاں پاکستان نے گذشتہ دنوں ٹی ٹوئنٹی میں بھی فتح پائی تھی، میں اس وقت وہیں موجود تھا اور ایک یادگار واقعہ بھی پیش آیا جو قارئین کو بھی بتاتا ہوں، سینچورین اور جوہانسبرگ میں تقریباً44 کلومیٹر کا فاصلہ ہے، ٹیمیں اور صحافی سب ہی جوہانسبرگ میں قیام کو ترجیح دیتے اور میچ سے چند گھنٹے قبل وینیو پہنچ جاتے ہیں، کوریج کے لیے پاکستان سے آئے ہوئے مجھ سمیت دیگر صحافی قمر احمد، سہیل عمران، کیمرہ مین جواد حیدر ایک پاکستانی ڈرائیور کے ساتھ اسٹیڈیم جانے لگے، راستے میں ایک جگہ پولیس کی کار کھڑی تھی اس نے ہم سب کو روک کر ایسے تلاشی لی جیسے کوئی بہت بڑے مجرم پکڑ لیے ہوں۔
ان میں ایک مرد اور دوسری خاتون اہلکار تھی ، دونوں کے ہاتھوں میں بڑی سے گنز موجود اور خاصی خونخوار سی نگاہوں سے ہم سب کو دیکھ رہے تھے، صحافیوں نے جب انھیں جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے میڈیا ایکری ڈیشن کارڈ دکھائے تو جواب دیا کہ ''ایسے کارڈز تو ہم بھی گھر پر چھاپ سکتے ہیں، کیا پتا تم لوگ اسٹیڈیم کو بم سے اڑانے جا رہے ہو'' پھر اس نے سب کی اچھی طرح تلاشی لی کچھ نہ ملا تو سامان کو کھنگال ڈالا، اس کے بعد پاسپورٹس اچھی طرح چیک کیے، ہمارے ایک ساتھی کے پاس پاسپورٹ نہیں تھا تو اسے پولیس اسٹیشن لے جانے کی دھمکی دی تاہم پھر اچانک ہی کہا کہ '' ہم اپنی ڈیوٹی کر رہے تھے، اب آپ لوگ جا سکتے ہیں''۔
میں نے جب ڈرائیور سے کہا کہ یہ پولیس والے جب اتنے ''مستعد '' ہیں تو کیوں جنوبی افریقہ میں جرائم کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے تو اس نے بتایا کہ '' یہ پاکستانی پولیس جیسے ہیں، چند سو رینڈ دے دیتے تو کوئی سوال نہ پوچھتے اور جانے دیتے''۔ ماضی میں مجھے اس قسم کے رویے کا سامنا بھارت میں ہی کرنا پڑا جہاں ہوٹل میں سی آئی ڈی کے لوگ آکر پوچھ گچھ کرتے ہیں، افسوس کہ ہم پاکستانیوں کی اب دیارغیر میں کوئی عزت نہیں رہ گئی اور ہر کوئی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ورلڈکپ2011ء کی کوریج کے لیے بنگلہ دیش جانے سے قبل جب ویزا لینے سفارتخانے گیا تو انھوں نے بھی پہلے ایک خط لیا کہ وہاں جا کرکوئی ملازمت نہیں کریں گے اور وقت پر واپسی ہو گی، ایسا وہ سب ہی پاکستانیوں کے ساتھ کرتے ہیں، اب یہ وقت آگیا کہ بنگلہ دیش ہمارے ساتھ ایسا کرتا ہے دیگر ممالک کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔
اب دوبارہ حالیہ سیریز کی جانب آ جاتے ہیں،دوسرے ون ڈے میں پاکستان کی جانب سے محمد عرفان نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے چار وکٹیں لیں، طویل القامت پیسر کو میڈیا میں بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا لیکن وہ تاحال تسلسل سے عمدہ بولنگ نہیں کر پائے ہیں،مذکورہ میچ میں بھی وہ ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہو گئے، ان کی فٹنس پر سوالیہ نشان پہلے بھی ثبت تھے جو اب مزید نمایاں ہو گئے، عظیم بولرز کی صف میں شامل ہونے کے لیے عرفان کو اپنی فٹنس پر خاص توجہ دینا ہو گی، پاکستانی اسپنرز سے ڈر کر جنوبی افریقہ نے رواں سیریز میں کوئی ایسی پچ نہیں بنائی جہاں تھوڑا بھی ٹرن موجود ہو۔
کاش اب بھی ہمارے پاس وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے پیسرز ہوتے تو پروٹیز تین دن میں ٹیسٹ میچ ہار رہے ہوتے، حالیہ سیریز میں پیس اٹیک بے دانت کا شیر نظر آیا، اس کی کمان ایک ایسے کوچ کے پاس ہے جن کے بارے میں جاننے کے لیے عام انسان کو ''گوگل'' پر سرچ کرنا پڑتی ہے، اگر محمد اکرم کی جگہ کسی اہل شخص کو بولنگ کوچ بنایا جائے تو یقینا پاکستانی بولنگ میں بہتری آئے گی، بورڈ لیول ون، ٹو کورسز کی بات کرتا ہے، ایسی ڈگریز ون ڈے میں پہلی ہیٹ ٹرک کرنے والے جلال الدین کے پاس بھی ہیں مگر چونکہ وہ انتخاب عالم جیسے اعلیٰ حکام کے منظورِ نظر نہیں لہٰذا لفٹ نہیں کرائی جاتی، ثقلین مشتاق اور مشتاق احمد جیسے سابق عظیم بولرز کو نظر انداز کرتے ہوئے پی سی بی نے اکرم کو عہدہ سونپا، کاش ان دونوں کی بھی کسی اعلیٰ شخصیت سے واقفیت ہوتی تو ٹیم کو کوئی اچھا رہنما تو مل جاتا۔
پاکستانی ٹیم کے کوچ ڈیوواٹمور بھی ان دنوں خاصی تنقید کی زد میں ہیں، ان کے دور میں ٹیم کی پرفارمنس ملی جلی رہی ہے، سابق کوچ محسن خان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی کوچنگ میں ٹیم نے بڑی بڑی سیریز جیتیں، مگر انھیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یو اے ای میں اسپنرز کے لیے سازگار پچز بنا کر پاکستان اگر کل بھی جنوبی افریقہ سے سیریز شروع کرے تو جیت جائے گا، سب جانتے ہیں کہ وہ دیر تک سوتے اور پھرفیلڈ میں کرسی ڈال کر ہدایات دیتے رہتے تھے، اپنے ماضی کے قصے سنانے کے علاوہ ان کے پاس کوچنگ کی کوئی نئی تکنیک بھی نہ تھی۔
پہلے ڈمی چیف سلیکٹر اور پھر غیرفعال کوچ بننے کے بعد محسن اب ناقد بن چکے ہیں، ان کے لیے یہی کام بہتر ہے، کوچنگ اگر کسی اور کو سونپنی بھی ہو تو عاقب جاوید کو یو اے ای سے بلانا مناسب رہے گا، وہ فیلڈ میں متحرک بھی رہیں گے اور ڈگریز بھی موجود ہیں، رہی بات معاوضے کی تو جب واٹمور کو کروڑوں روپے دے رہے ہیں تو چند لاکھ اپنے کوچ کو دینے میں کیا حرج ہے۔ جنوبی افریقہ سے ٹیم کی واپسی پر کئی تبدیلیاں تو متوقع ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہو گا؟
5 میچز کی سیریز کا تیسرا ون ڈے آج جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا، ٹیسٹ میں کلین سوئپ کے بعد گرین شرٹس اب ایک روزہ سیریز جیت کر کچھ ازالہ کرنا چاہتے ہیں، چیمپئنز ٹرافی سے قبل یہ فتح ٹیم کا مورال بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی، ٹیسٹ میں جو کارکردگی رہی اس پر خاصی بحث ہو چکی، البتہ اب ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں پلیئرز نسبتاً بہتر کھیل کا مظاہرہ کر رہے ہیں،ہر بڑی سیریز میں شکست کے بعد چند کھلاڑیوں کی قربانی دینا پڑتی ہے، اس بار بھی چھریاں تیز ہو رہی ہوں گی، سینئرز زیادہ نشانے پر ہیں۔
اکثر ماہرین کی رائے ہے کہ ان سے چھٹکارا حاصل کر کے نیا ٹیلنٹ لایا جائے، مگر ایسا ٹیلنٹ ہے کہاں اس کا کوئی جواب نہیں دے رہا، ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے ڈھیر لگانے والے کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل مقابلوں میں جب مواقع دیئے جائیں تو وہ پرفارم نہیں کر پاتے، گزشتہ چند برسوں میں اسد شفیق، اظہر علی اور عمراکمل نے ہی کچھ بہتر پرفارم کیا، ٹیلنٹ کی فراہمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وکٹ کیپرکامران اکمل کو کئی بار غیر معیاری کارکردگی کے سبب ڈراپ کر کے واپس بلایا گیا اور وہ اب بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔
اسی طرح فاسٹ بولنگ میں ٹیلنٹ کی کمی کے بارے میں چیف سلیکٹر اقبال قاسم بھی نشاندہی کر چکے ہیں،پی سی بی کو اس جانب سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، جب تک نئے کھلاڑی سامنے نہیں آتے ٹیم دوبارہ عروج پر نہیں پہنچ سکتی، آج اگر مصباح الحق، یونس خان، شاہدآفریدی، عمر گل، کامران اکمل، شعیب ملک و دیگر سینئرز کو نکال دیں تو ان کی جگہ لینے کے لیے کتنے کھلاڑی لائن میں موجود ہیں؟ ہمیں اب تک عبدالرزاق کا نعم البدل تو نہیں مل سکا، حماد اعظم جیسے کئی کھلاڑی ٹیم میں لائے گئے جو اب گمنامی کا شکار ہو چکے ہیں، متبادل تلاش کیے بغیر ٹیم میں آپریشن کلین اپ ممکن نہیں ہو گا۔
ان دنوں قومی ٹیم کی قیادت کے حوالے سے بھی خاصی باتیں ہو رہی ہیں، محمد حفیظ کے حمایتی انھیں تینوں طرز میں کپتان دیکھنا چاہتے اوراس کے لیے بھرپور مہم چلائی ہوئی ہے، ایسے میں شاید وہ یہ بات بھول رہے ہیں کہ حفیظ حالیہ ٹیسٹ سیریز کی 6اننگز میں مجموعی طور پر بھی50رنز بھی نہیں بنا سکے تھے ایسے میں انھیں منصب قیادت پر بٹھانے کا کیا جواز ہو گا، دو الگ کپتانوں کا تجربہ فی الحال برقرار رکھنا ہی مناسب لگتا ہے۔
جنوبی افریقہ نے تو تینوں طرز میں الگ کپتان مقرر کیے ہوئے ہیں، حفیظ کے پاس ابھی وقت ہے، انھیں اپنے کھیل پر محنت کرتے ہوئے کارکردگی میں تسلسل لانا چاہیے،اسی صورت وہ ٹیسٹ کپتان بننے کا خواب پورا کر سکتے ہیں، بڑھتی عمر کی وجہ سے مصباح الحق کی اب زیادہ کرکٹ باقی نہیں رہی مگر اب چیمپئنز ٹرافی چند ماہ کی دوری پر ہے، ایسے میں اگر انھیں کپتانی سے ہٹایا گیا تو ٹیم کے لیے مشکلات مزید بڑھ جائیں گی، میگا ایونٹ میں گرین شرٹس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد ہی مستقبل کے لیے فیصلے کرنے ہوں گے۔
ہم پاکستانی اپنی رائے اتنی تیزی سے تبدیل کرتے ہیں کہ اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا، کل ہی کی بات ہے مصباح پر بے حد لعن طعن ہو رہی تھی، سابق کرکٹرز انھیں ٹیم سے نکالنے کی باتیں کر رہے تھے، مگر دوسرے ون ڈے میں میچ وننگ نصف سنچری کے بعد اچانک وہ دوبارہ سب کی آنکھوں کا تارا بن گئے، اب خدانخواستہ اگر پھر ٹیم کو شکست ہو گئی تو ناقدین کی توپوں کا رخ دوبارہ مصباح کی جانب ہو جائے گا، یہ کلچر تبدیل کرنا چاہیے، پاکستان میں ویسے ہی آج کل ہر کوئی کرکٹ کا ماہر بنا ہوا ہے، ایسے ایسے تبصرے ہوتے ہیں جنھیں سن کر لگے کہ کہنے والا خود ڈان بریڈمین ہو، سابق کھلاڑیوں کے کیا کہنے، جب تک بورڈ انھیں لفٹ نہ کرائے تنقید کے مواقع ڈھونڈھتے رہتے ہیں مگر جب کوئی کام مل جائے تو میڈیا میں نظر ہی نہیں آتے۔
یقینا شائقین کرکٹ عبدالقادر، باسط علی اور محمد الیاس جیسے سابق کھلاڑیوں کے گرماگرم بیانات کو اب مس کررہے ہوں گے، تینوں کی صلاحیتوں سے پی سی بی ان دنوں خوب مستفید ہو رہا ہے، ذکا اشرف نے بھی اعجازبٹ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گرماگرم بیانات داغنے والے سابق کرکٹرز کو ملازمت دے کر ان کو چپ کروا دیا ہے۔ جیسے ہی یہ سلسلہ ختم ہوا پھر دیکھیں کیسی کیسی خامیاں سامنے آتی ہیں، سرفراز نواز اس کی واضح مثال ہیں جیسے ہی وہ بورڈ سے الگ ہوئے گھن گرج کے ساتھ میڈیا میں دوبارہ نظر آنے لگے،ماضی میں چیئرمین بننے کے لیے ''خدمات'' پیش کرنے والے ظہیر عباس اب بیٹنگ کوچ بننے کے خواہاں ہیں، اگر انھیں عہدہ مل گیا تو وہ بھی ''سب اچھا ہے'' کے راگ الاپنے لگیں گے ، یہ ٹرینڈ درست نہیں، جب تک سابق کھلاڑی غیر جانبدارانہ تبصرے نہیں کریں ٹیم میں بہتری کیسے آئے گی، ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر رائے دیں تو ہی کرکٹ کی کچھ خدمت ہو سکتی ہے۔
پاکستانی ٹیم میں ان دنوں سیاست زوروں پر ہے، چند کھلاڑی اپنے ہی ساتھیوں کی جڑیں کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں، پی سی بی کو بھی بروقت اس کی اطلاع ہو چکی اور اس نے درپردہ کارروائی بھی شروع کر دی ہے، آئندہ چند روز کے دوران خاموشی سے چند کھلاڑی ٹیم سے باہر کر دیے جائیں گے جن پر ٹیم میں اختلافات کو ہوا دینے کا الزام ہے،ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل چند اوسط درجے کے پلیئرز کی بھی بعض ناپسندیدہ حرکات کا حکام نے سختی سے نوٹس لیا اور ان کے خلاف بھی کارروائی یقینی ہے، یہ ''ٹارگیٹڈ آپریشن'' ہو گا جس کی عام افراد کو ہوا بھی نہیں لگنے دی جائے گی۔
بس خاموشی سے سلیکشن کمیٹی سے کہہ دیا جائے گا کہ فلاں فلاں کھلاڑی کو فی الحال منتخب نہ کریں، ایک کرکٹر جن کی ٹیم میں شمولیت اہم شخصیت کی سفارش پر ہوئی، وہ تاحال کارکردگی کا لوہا منوانے میں تو ناکام ہیں البتہ ان کی کوشش ہے کہ سیاست کے ذریعے دیگر پلیئرز کو لڑوایا جائے، ان کے بارے میں رپورٹ بھی چیئرمین بورڈ کی ٹیبل پر موجود ہے، ماضی میں بھی بعض باصلاحیت کھلاڑی سیاست میں پڑ کر اپنا کیریئر دائو پر لگا چکے اور اب چند دیگر بھی یہی غلطی دوہرا رہے ہیں، انھیں شاہد آفریدی اور یونس خان سے سبق سیکھنا چاہیے جو خاموشی سے ایک سائیڈ پر رہ کر اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
ٹیم کی جنوبی افریقہ میں تاحال غیرمعیاری مجموعی کارکردگی پر سلیکشن کمیٹی بھی آج کل زیرعتاب ہے، اقبال قاسم نے ماضی میں آسٹریلیا میں ایسی ہی درگت بننے کے بعد عہدہ چھوڑ دیا تھا، اب دیکھیں وہ کیا کرتے ہیں، درحقیقت انھیں آزادی سے کام کرنے کا موقع بھی نہیں ملتا، چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف تک سے بات کرنے کے لیے سابق اسٹار کو پہلے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ انتخاب عالم سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، دونوں کپتان مصباح الحق اور محمد حفیظ چیئرمین کے لاڈلے ہیں اور ایسوں کی ناراضی چیف سلیکٹر کیسے سہہ سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر بار ان کی منتخب شدہ ٹیم میں لال نشان لگا کر چند نام تبدیل ہو جاتے ہیں۔
اقبال قاسم ایک شریف النفس انسان اور سلیکشن کا کام اعزازی طور پر انجام دیتے ہیں، وہ نیشنل بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائز اور اب عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں عہدوں کے پیچھے بھاگنے کا زیادہ شوق باقی نہیں رہ جاتا، لوگوں کو اس حقیقت کا علم نہیں ہو گا کہ حالیہ دور میں بھی کئی بار ان کے سلیکشن پر اتنے سنگین اختلافات ہوئے کہ نوبت عہدہ چھوڑنے تک بھی پہنچ گئی تاہم پھر معاملات حل ہو گئے، وہ اپنے طور پر ایمانداری سے فرائض انجام دے رہے ہیں، گرائونڈ میں اگر پلیئرز سوفیصد صلاحیتوں کا مظاہرہ نہ کریں تو ان کا کیا قصور ہے۔
سینچورین میں ٹیم نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دوسرے ون ڈے میں کامیابی حاصل کی، یہ وہی مقام ہے جہاں پاکستان نے گذشتہ دنوں ٹی ٹوئنٹی میں بھی فتح پائی تھی، میں اس وقت وہیں موجود تھا اور ایک یادگار واقعہ بھی پیش آیا جو قارئین کو بھی بتاتا ہوں، سینچورین اور جوہانسبرگ میں تقریباً44 کلومیٹر کا فاصلہ ہے، ٹیمیں اور صحافی سب ہی جوہانسبرگ میں قیام کو ترجیح دیتے اور میچ سے چند گھنٹے قبل وینیو پہنچ جاتے ہیں، کوریج کے لیے پاکستان سے آئے ہوئے مجھ سمیت دیگر صحافی قمر احمد، سہیل عمران، کیمرہ مین جواد حیدر ایک پاکستانی ڈرائیور کے ساتھ اسٹیڈیم جانے لگے، راستے میں ایک جگہ پولیس کی کار کھڑی تھی اس نے ہم سب کو روک کر ایسے تلاشی لی جیسے کوئی بہت بڑے مجرم پکڑ لیے ہوں۔
ان میں ایک مرد اور دوسری خاتون اہلکار تھی ، دونوں کے ہاتھوں میں بڑی سے گنز موجود اور خاصی خونخوار سی نگاہوں سے ہم سب کو دیکھ رہے تھے، صحافیوں نے جب انھیں جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے میڈیا ایکری ڈیشن کارڈ دکھائے تو جواب دیا کہ ''ایسے کارڈز تو ہم بھی گھر پر چھاپ سکتے ہیں، کیا پتا تم لوگ اسٹیڈیم کو بم سے اڑانے جا رہے ہو'' پھر اس نے سب کی اچھی طرح تلاشی لی کچھ نہ ملا تو سامان کو کھنگال ڈالا، اس کے بعد پاسپورٹس اچھی طرح چیک کیے، ہمارے ایک ساتھی کے پاس پاسپورٹ نہیں تھا تو اسے پولیس اسٹیشن لے جانے کی دھمکی دی تاہم پھر اچانک ہی کہا کہ '' ہم اپنی ڈیوٹی کر رہے تھے، اب آپ لوگ جا سکتے ہیں''۔
میں نے جب ڈرائیور سے کہا کہ یہ پولیس والے جب اتنے ''مستعد '' ہیں تو کیوں جنوبی افریقہ میں جرائم کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے تو اس نے بتایا کہ '' یہ پاکستانی پولیس جیسے ہیں، چند سو رینڈ دے دیتے تو کوئی سوال نہ پوچھتے اور جانے دیتے''۔ ماضی میں مجھے اس قسم کے رویے کا سامنا بھارت میں ہی کرنا پڑا جہاں ہوٹل میں سی آئی ڈی کے لوگ آکر پوچھ گچھ کرتے ہیں، افسوس کہ ہم پاکستانیوں کی اب دیارغیر میں کوئی عزت نہیں رہ گئی اور ہر کوئی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، ورلڈکپ2011ء کی کوریج کے لیے بنگلہ دیش جانے سے قبل جب ویزا لینے سفارتخانے گیا تو انھوں نے بھی پہلے ایک خط لیا کہ وہاں جا کرکوئی ملازمت نہیں کریں گے اور وقت پر واپسی ہو گی، ایسا وہ سب ہی پاکستانیوں کے ساتھ کرتے ہیں، اب یہ وقت آگیا کہ بنگلہ دیش ہمارے ساتھ ایسا کرتا ہے دیگر ممالک کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔
اب دوبارہ حالیہ سیریز کی جانب آ جاتے ہیں،دوسرے ون ڈے میں پاکستان کی جانب سے محمد عرفان نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے چار وکٹیں لیں، طویل القامت پیسر کو میڈیا میں بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا لیکن وہ تاحال تسلسل سے عمدہ بولنگ نہیں کر پائے ہیں،مذکورہ میچ میں بھی وہ ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہو گئے، ان کی فٹنس پر سوالیہ نشان پہلے بھی ثبت تھے جو اب مزید نمایاں ہو گئے، عظیم بولرز کی صف میں شامل ہونے کے لیے عرفان کو اپنی فٹنس پر خاص توجہ دینا ہو گی، پاکستانی اسپنرز سے ڈر کر جنوبی افریقہ نے رواں سیریز میں کوئی ایسی پچ نہیں بنائی جہاں تھوڑا بھی ٹرن موجود ہو۔
کاش اب بھی ہمارے پاس وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے پیسرز ہوتے تو پروٹیز تین دن میں ٹیسٹ میچ ہار رہے ہوتے، حالیہ سیریز میں پیس اٹیک بے دانت کا شیر نظر آیا، اس کی کمان ایک ایسے کوچ کے پاس ہے جن کے بارے میں جاننے کے لیے عام انسان کو ''گوگل'' پر سرچ کرنا پڑتی ہے، اگر محمد اکرم کی جگہ کسی اہل شخص کو بولنگ کوچ بنایا جائے تو یقینا پاکستانی بولنگ میں بہتری آئے گی، بورڈ لیول ون، ٹو کورسز کی بات کرتا ہے، ایسی ڈگریز ون ڈے میں پہلی ہیٹ ٹرک کرنے والے جلال الدین کے پاس بھی ہیں مگر چونکہ وہ انتخاب عالم جیسے اعلیٰ حکام کے منظورِ نظر نہیں لہٰذا لفٹ نہیں کرائی جاتی، ثقلین مشتاق اور مشتاق احمد جیسے سابق عظیم بولرز کو نظر انداز کرتے ہوئے پی سی بی نے اکرم کو عہدہ سونپا، کاش ان دونوں کی بھی کسی اعلیٰ شخصیت سے واقفیت ہوتی تو ٹیم کو کوئی اچھا رہنما تو مل جاتا۔
پاکستانی ٹیم کے کوچ ڈیوواٹمور بھی ان دنوں خاصی تنقید کی زد میں ہیں، ان کے دور میں ٹیم کی پرفارمنس ملی جلی رہی ہے، سابق کوچ محسن خان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی کوچنگ میں ٹیم نے بڑی بڑی سیریز جیتیں، مگر انھیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یو اے ای میں اسپنرز کے لیے سازگار پچز بنا کر پاکستان اگر کل بھی جنوبی افریقہ سے سیریز شروع کرے تو جیت جائے گا، سب جانتے ہیں کہ وہ دیر تک سوتے اور پھرفیلڈ میں کرسی ڈال کر ہدایات دیتے رہتے تھے، اپنے ماضی کے قصے سنانے کے علاوہ ان کے پاس کوچنگ کی کوئی نئی تکنیک بھی نہ تھی۔
پہلے ڈمی چیف سلیکٹر اور پھر غیرفعال کوچ بننے کے بعد محسن اب ناقد بن چکے ہیں، ان کے لیے یہی کام بہتر ہے، کوچنگ اگر کسی اور کو سونپنی بھی ہو تو عاقب جاوید کو یو اے ای سے بلانا مناسب رہے گا، وہ فیلڈ میں متحرک بھی رہیں گے اور ڈگریز بھی موجود ہیں، رہی بات معاوضے کی تو جب واٹمور کو کروڑوں روپے دے رہے ہیں تو چند لاکھ اپنے کوچ کو دینے میں کیا حرج ہے۔ جنوبی افریقہ سے ٹیم کی واپسی پر کئی تبدیلیاں تو متوقع ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہو گا؟