اگر رو بھی نہ سکے
ہمارے ہاں کی رشوت اور کرپشن پر بعض پاکستانیوں نے بال بچوں سمیت اندھے کنوؤں میں کود گئے یا دریاؤں میں چھلانگ لگا دی۔
Abdulqhasan@hotmail.com
KARACHI:
مجھے اپنا وہ عروج بھی یاد ہے جو انگریزوں اور ہندوؤں سے آزادی ملنے پر ہمیں عطیہ ہوا تھا اور آج وہ زوال بھی میرے سامنے ہے جسے دیکھنے کی سکت باقی نہیں رہی۔ عروج و زوال کی ایسی کہانیاں تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے تھے لیکن کاتب تقدیر سے یہ امید نہ تھی کہ وہ ہمیں یہ تاریخ کھلی آنکھوں سے اپنے اوپر گزرتے ہوئے بھی دکھا دے گا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کسی انٹرویو میں قوم کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ آنے والے الیکشن میں بھی پہلے والے لیٹروں کو منتخب کر کے لے آئی تو پھر اسے رونے کا وقت بھی نہیں ملے گا۔ ڈاکٹر صاحب نے تو کسی خوفناک مستقبل کی ایک متوقع کربناک کیفیت بیان کی ہے لیکن ان کی خدمت میں کون عرض کرے کہ ہمیں تو آج کی تاریخ پر رونے کا وقت بھی میسر نہیں۔ اگر آج بھی کوئی پاکستانی صبر کر کے بیٹھا ہے اور پر سکون دکھائی دے رہا ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے اس بھیانک حال کو تسلیم کر لیا ہے، اب ہمیں کسی مستقبل کے انتظار کی کیا ضرورت ہے۔
گزشتہ پانچ برسوں میں اس قوم کے ساتھ جو برائی ممکن تھی وہ کر لی گئی ہے اور اسے ایک ایسا ٹیکہ لگا دیا ہے جس میں کرپشن کے مؤثر اور خون میں پھیل جانے والے جراثیم موجود تھے۔ اب یہ جراثیم ایڈز جیسے کسی مرض کی طرح لا علاج اور مسلسل آگے پھیلنے والے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کی طرح یہ جراثیم نہ جانے کتنے آنے والے برسوں میں بھی قوم کے خون میں ناچتے رہیں گے۔ یوں ہماری جمہوری حکومت نے قوم سے جو جمہوری انتقام لیا ہے وہ جاری رہے گا۔ پیپلز پارٹی کے لیڈروں کا کم از کم یہ نعرہ بالکل درست ثابت ہوا کہ جمہوریت خود بہت بڑا انتقام ہے۔
پاکستانی قوم نے ان لیڈروں کے ہاتھوں اس انتقام کا خوب مزا چکھا ہے۔ ان کے تصور میں بھی نہ تھا کہ آزاد پاکستان میں ان کی زندگی کبھی اتنی مشکل بھی ہو گی۔ اس بدنصیب قوم کے ساتھ پیپلز پارٹی نے تو شروع سے ہی انتقامی رویہ روا رکھا لیکن اس پارٹی کی اپوزیشن بھی جو کھل کر اس کا ساتھ دیتی رہی اور فیصلہ کن آخری پانچ برس میں اس حکومت نے جس قدر قومی جرم کیے اس کی اپوزیشن بھی ان تمام جرائم میں شریک تھی۔ بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر وزارتوں کا حلف لینے سے آخری وقت تک اس کا حقیقی رویہ دوستانہ ہی رہا۔
اپوزیشن کا یہ رویہ کسی غلط فہمی یا کسی حکومتی فریب کی وجہ سے بھی رہا ہو اس پر بحث کی ضرورت اب یوں نہیں کہ خود حکمرانوں نے کسی کو اصلاح کا کوئی موقع دینے ہی نہیں دیا، قوم سرطان جیسے مرض کی زد میں رہی جو کسی بھی دوا سے لاپروا ہو کر اپنا کام کرتا رہتا ہے۔
قوم نے گزشتہ پانچ برسوں میں نہ صرف اپنی بے حد مشکل زندگی کو برداشت کیا بلکہ یہ بھی دیکھا کہ اس کی مشکلات میں اضافے کے راستے تو تلاش کیے جا رہے ہیں لیکن اس کی مشکلات کو حل کرنے کی طرف توجہ بالکل ہی نہیں دی جا رہی' عجب تماشے ہوتے رہے کہ ایک وزیر نے جب جی بھر کر مال بنایا اور بنوایا یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے اسے مجرم قرار دے کر گرفتاری تک کا حکم دے دیا تو اس وزیر کو ترقی دے کر وزیر اعظم بنا دیا گیا۔
اس سے پہلے ایک وزیر اعظم کو عدالت نے اپنے سامنے مختصر سی ہی سہی قید کی سزا دی اور اس طرح یہ وزارت عظمیٰ سے نکل گیا، یہ نیا وزیر اعظم بھی اسی کا نعم البدل تھا۔ جس ملک کے چیف ایگزیکٹو کی یکے بعد دیگرے یہ حالت ہو ایسے ملک اور اس کی قوم پر کون رحم کھا سکتا ہے۔ جو رحم کرنے کا اختیار رکھتا ہے اس نے رحم کرنے کے لیے کچھ قاعدے مقرر کر دیئے ہیں اور اللہ اپنے طریقوں کو تبدیل نہیں کرتا۔ اس لیے قوم پر جو کچھ گزرا وہ عین اس کے قومی اعمال کے مطابق تھا۔ اسے کسی قاعدے کے مطابق سزا دی گئی، کوئی بے انصافی نہیں ہوئی' ہمارے ہاں کی رشوت اور کرپشن نے بعض پاکستانیوں کے لیے زندگی نا ممکن بنا دی وہ بال بچوں سمیت اندھے کنوؤں میں کود گئے یا دریاؤں میں چھلانگ لگا دی۔
پاکستانی زندگی کی ناقابل بیان اذیتیں بیان کرنے کی ہمت نہیں۔ لوگوں نے کونوں کھدروں میں سر چھپا کر اپنے آپ سے چھپ کر اپنی عزتیں بیچ دیں۔ زندگی کے لیے یہ ان کی آخری قربانی تھی لیکن کسی حکمران نے یہ نہ سوچا کہ وہ عام پاکستانیوں کی زندگی کو اس قدر مشکل کیوں بنا رہا ہے۔ یہ سب پاکستان سے کس انتقام کی بات تھی۔ کراچی کے فٹ پاتھ سے صدارت کے ایوانوں تک اس ملک پاکستان اور اس کے محنت کش عوام نے اگر کسی کو پہنچا دیا ہے تو انھیں اس جرم میں آخر کس انتقام کا حقدار بنا دیا گیا ہے کہ دال روٹی والی زندگی بھی اس پر حرام کر دی گئی، حالات ایسے بنا دیئے گئے کہ پاکستانیوں کی محنت اور ہنرمندی سے بھر پور زندگی بھی جواب دے گئی، شکست کھا گئی۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی آگے نکل کر ملک اور قوم کی پاکستانی سر زمین تک پہنچ گئی ہے اور مستند خبر یہ ملی کہ کراچی کے قریب ''جزیرے بیچ دیئے گئے ہیں اور جس خریدار کا نام آ رہا ہے وہ حکمرانوں کا اپنا ہے، اتنا اپنا کہ شک یہ گزرا ہے کہ اس میں حکمران بھی حصہ دار ہیں کیونکہ خدا نے ہمیں جن حکمرانوں کے قابل سمجھا ہے وہ ایسے ہی ہیں۔ ہم کبھی تو کشمیر کے لیے روتے ہیں کہ وہ ہمارا ہے اور کبھی مشرقی پاکستان کی یاد میں آنسو بہاتے ہیں لیکن ہم وہ ہیں کہ ورثے میں ملا ہوا اپنا ملک خود ہی بیچ رہے ہیں۔ کراچی میں کچھ آوازیں اٹھی ہیں لیکن پورا ملک چپ ہے اگر یہ چپ باقی رہی اور کل کچھ اور ہو گیا تو کون بولے گا بلکہ محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کے الفاظ میں رونے کا وقت بھی نہیں ملے گا۔
مجھے اپنا وہ عروج بھی یاد ہے جو انگریزوں اور ہندوؤں سے آزادی ملنے پر ہمیں عطیہ ہوا تھا اور آج وہ زوال بھی میرے سامنے ہے جسے دیکھنے کی سکت باقی نہیں رہی۔ عروج و زوال کی ایسی کہانیاں تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے تھے لیکن کاتب تقدیر سے یہ امید نہ تھی کہ وہ ہمیں یہ تاریخ کھلی آنکھوں سے اپنے اوپر گزرتے ہوئے بھی دکھا دے گا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کسی انٹرویو میں قوم کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ آنے والے الیکشن میں بھی پہلے والے لیٹروں کو منتخب کر کے لے آئی تو پھر اسے رونے کا وقت بھی نہیں ملے گا۔ ڈاکٹر صاحب نے تو کسی خوفناک مستقبل کی ایک متوقع کربناک کیفیت بیان کی ہے لیکن ان کی خدمت میں کون عرض کرے کہ ہمیں تو آج کی تاریخ پر رونے کا وقت بھی میسر نہیں۔ اگر آج بھی کوئی پاکستانی صبر کر کے بیٹھا ہے اور پر سکون دکھائی دے رہا ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے اس بھیانک حال کو تسلیم کر لیا ہے، اب ہمیں کسی مستقبل کے انتظار کی کیا ضرورت ہے۔
گزشتہ پانچ برسوں میں اس قوم کے ساتھ جو برائی ممکن تھی وہ کر لی گئی ہے اور اسے ایک ایسا ٹیکہ لگا دیا ہے جس میں کرپشن کے مؤثر اور خون میں پھیل جانے والے جراثیم موجود تھے۔ اب یہ جراثیم ایڈز جیسے کسی مرض کی طرح لا علاج اور مسلسل آگے پھیلنے والے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کی طرح یہ جراثیم نہ جانے کتنے آنے والے برسوں میں بھی قوم کے خون میں ناچتے رہیں گے۔ یوں ہماری جمہوری حکومت نے قوم سے جو جمہوری انتقام لیا ہے وہ جاری رہے گا۔ پیپلز پارٹی کے لیڈروں کا کم از کم یہ نعرہ بالکل درست ثابت ہوا کہ جمہوریت خود بہت بڑا انتقام ہے۔
پاکستانی قوم نے ان لیڈروں کے ہاتھوں اس انتقام کا خوب مزا چکھا ہے۔ ان کے تصور میں بھی نہ تھا کہ آزاد پاکستان میں ان کی زندگی کبھی اتنی مشکل بھی ہو گی۔ اس بدنصیب قوم کے ساتھ پیپلز پارٹی نے تو شروع سے ہی انتقامی رویہ روا رکھا لیکن اس پارٹی کی اپوزیشن بھی جو کھل کر اس کا ساتھ دیتی رہی اور فیصلہ کن آخری پانچ برس میں اس حکومت نے جس قدر قومی جرم کیے اس کی اپوزیشن بھی ان تمام جرائم میں شریک تھی۔ بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر وزارتوں کا حلف لینے سے آخری وقت تک اس کا حقیقی رویہ دوستانہ ہی رہا۔
اپوزیشن کا یہ رویہ کسی غلط فہمی یا کسی حکومتی فریب کی وجہ سے بھی رہا ہو اس پر بحث کی ضرورت اب یوں نہیں کہ خود حکمرانوں نے کسی کو اصلاح کا کوئی موقع دینے ہی نہیں دیا، قوم سرطان جیسے مرض کی زد میں رہی جو کسی بھی دوا سے لاپروا ہو کر اپنا کام کرتا رہتا ہے۔
قوم نے گزشتہ پانچ برسوں میں نہ صرف اپنی بے حد مشکل زندگی کو برداشت کیا بلکہ یہ بھی دیکھا کہ اس کی مشکلات میں اضافے کے راستے تو تلاش کیے جا رہے ہیں لیکن اس کی مشکلات کو حل کرنے کی طرف توجہ بالکل ہی نہیں دی جا رہی' عجب تماشے ہوتے رہے کہ ایک وزیر نے جب جی بھر کر مال بنایا اور بنوایا یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے اسے مجرم قرار دے کر گرفتاری تک کا حکم دے دیا تو اس وزیر کو ترقی دے کر وزیر اعظم بنا دیا گیا۔
اس سے پہلے ایک وزیر اعظم کو عدالت نے اپنے سامنے مختصر سی ہی سہی قید کی سزا دی اور اس طرح یہ وزارت عظمیٰ سے نکل گیا، یہ نیا وزیر اعظم بھی اسی کا نعم البدل تھا۔ جس ملک کے چیف ایگزیکٹو کی یکے بعد دیگرے یہ حالت ہو ایسے ملک اور اس کی قوم پر کون رحم کھا سکتا ہے۔ جو رحم کرنے کا اختیار رکھتا ہے اس نے رحم کرنے کے لیے کچھ قاعدے مقرر کر دیئے ہیں اور اللہ اپنے طریقوں کو تبدیل نہیں کرتا۔ اس لیے قوم پر جو کچھ گزرا وہ عین اس کے قومی اعمال کے مطابق تھا۔ اسے کسی قاعدے کے مطابق سزا دی گئی، کوئی بے انصافی نہیں ہوئی' ہمارے ہاں کی رشوت اور کرپشن نے بعض پاکستانیوں کے لیے زندگی نا ممکن بنا دی وہ بال بچوں سمیت اندھے کنوؤں میں کود گئے یا دریاؤں میں چھلانگ لگا دی۔
پاکستانی زندگی کی ناقابل بیان اذیتیں بیان کرنے کی ہمت نہیں۔ لوگوں نے کونوں کھدروں میں سر چھپا کر اپنے آپ سے چھپ کر اپنی عزتیں بیچ دیں۔ زندگی کے لیے یہ ان کی آخری قربانی تھی لیکن کسی حکمران نے یہ نہ سوچا کہ وہ عام پاکستانیوں کی زندگی کو اس قدر مشکل کیوں بنا رہا ہے۔ یہ سب پاکستان سے کس انتقام کی بات تھی۔ کراچی کے فٹ پاتھ سے صدارت کے ایوانوں تک اس ملک پاکستان اور اس کے محنت کش عوام نے اگر کسی کو پہنچا دیا ہے تو انھیں اس جرم میں آخر کس انتقام کا حقدار بنا دیا گیا ہے کہ دال روٹی والی زندگی بھی اس پر حرام کر دی گئی، حالات ایسے بنا دیئے گئے کہ پاکستانیوں کی محنت اور ہنرمندی سے بھر پور زندگی بھی جواب دے گئی، شکست کھا گئی۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی آگے نکل کر ملک اور قوم کی پاکستانی سر زمین تک پہنچ گئی ہے اور مستند خبر یہ ملی کہ کراچی کے قریب ''جزیرے بیچ دیئے گئے ہیں اور جس خریدار کا نام آ رہا ہے وہ حکمرانوں کا اپنا ہے، اتنا اپنا کہ شک یہ گزرا ہے کہ اس میں حکمران بھی حصہ دار ہیں کیونکہ خدا نے ہمیں جن حکمرانوں کے قابل سمجھا ہے وہ ایسے ہی ہیں۔ ہم کبھی تو کشمیر کے لیے روتے ہیں کہ وہ ہمارا ہے اور کبھی مشرقی پاکستان کی یاد میں آنسو بہاتے ہیں لیکن ہم وہ ہیں کہ ورثے میں ملا ہوا اپنا ملک خود ہی بیچ رہے ہیں۔ کراچی میں کچھ آوازیں اٹھی ہیں لیکن پورا ملک چپ ہے اگر یہ چپ باقی رہی اور کل کچھ اور ہو گیا تو کون بولے گا بلکہ محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کے الفاظ میں رونے کا وقت بھی نہیں ملے گا۔