نئے پاکستان کا بیانیہ
عمران خان کے ممکنہ نئے پاکستان کا جائزہ لینے سے قبل پرانے پاکستان پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان عوام کو مسلسل یہ بتا رہے ہیں کہ وہ ایک نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں، اگرچہ عوام اب تک نئے پاکستان کی اصطلاح کو نہیں سمجھ سکے ہیں، لیکن اتنا بہرحال سمجھ رہے ہیں کہ وہ 70 سال سے جس پاکستان میں رہ رہے ہیں عمران خان کا پاکستان اس 70 سالہ پاکستان سے کچھ مختلف ہوگا اور بہتر ہوگا۔
عوام میں نئے پاکستان کے حوالے سے یہ ابہام اس لیے ہے کہ عمران خان نے کبھی اس نئے پاکستان کا ناک نقشہ عوام کو نہیں دکھایا، جو وہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ سوال اس لیے اہم تھے کہ جب تک عمران خان اپنے نئے پاکستان کی ماہیت سے عوام کو پوری طرح واقف نہیں کرائیں گے عوام میں وہ جوش و خروش پیدا نہیں ہوگا جو ان کے مفادات، ان کی خواہشوں کے مطابق پاکستان کی تشکیل سے پیدا ہو سکتا ہے۔
عمران خان کے ممکنہ نئے پاکستان کا جائزہ لینے سے قبل پرانے پاکستان پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ 1947ء میں جب پاکستان وجود میں آیا، پاکستان میں شامل ہونے والے صوبے قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کا گڑھ تھے، اس حوالے سے المیہ یہ رہا ہے کہ جس سیاسی جماعت کے جھنڈے تلے پاکستان کی تحریک چلائی گئی اگرچہ اس کے سربراہ محمد علی جناح ایک روشن خیال اور ماڈریٹ انسان تھے لیکن مسلم لیگ پر کنٹرول جاگیردار طبقے کا تھا اور یہی طبقہ قیام پاکستان کے بعد اقتدار میں آیا۔
چونکہ وزیراعظم لیاقت علی خان جاگیردار خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود عوامی طرز زندگی گزار رہے تھے اور ان پر مہاجر ہونے کا ٹھپہ بھی لگا ہوا تھا، سو وہ پاکستان کے جاگیردار طبقے کی نظروں میں کھٹکنے لگے۔ آخرکار اس طبقے کے ظالموں نے انھیں اپنے راستے سے ہٹا دیا۔ اور بدقسمتی سے پاکستان بننے کے تھوڑے ہی عرصے بعد جناح بھی انتقال کرگئے تھے۔ یوں جاگیردار طبقہ آزاد ہوگیا اور آزادی کے ساتھ اقتدار کا کھیل کھیلنے لگا۔ اس طبقے کے ساتھ سول بیورو کریسی اقتدار کے کھیل میں شامل ہوگئی اور حکومتیں کپڑوں کی طرح بدلی جانے لگیں۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل ایوب خان نے 1958ء میں اقتدار پر قبضہ کرلیا۔
ایوب خان کو احساس تھا کہ اس کے اقتدار کے لیے اگر کوئی طبقہ خطرہ بن سکتا ہے تو وہ جاگیردار طبقہ ہی ہوگا، سو ایوب خان نے اس خطرے کو کنٹرول کرنے کے لیے زرعی اصلاحات نافذ کیں، جس کی وجہ سے جاگیردار طبقہ سخت دباؤ میں آگیا اور ایوب خان سے مصالحت پر مجبور ہوا۔ کنونشن لیگ بناکر جاگیرداروں نے ایوب خان کو سیاسی بیساکھیاں مہیا کیں اور اس کی حکومت میں شامل ہوکر اسے مضبوط بنایا، اس طرح انھیں اپنی زمینیں واپس لینے کی راہ ہموار ہوئی اور جاگیردار طبقہ اور مضبوط ہوگیا۔
ایوب خان کے بعد سے جنرل (ر) پرویز مشرف تک جاگیردار طبقہ مسلسل اقتدار کا حصہ رہا۔ اس طبقے کے اقتدار پر قبضے کی وجہ ملک تعلیم سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پسماندہ رہا اور پاکستان کے عوام کو عملاً ہاری بنا کر رکھا گیا۔ قانون ساز اداروں میں غریب طبقات ہاری کسانوں کی بات تو دور کی رہی مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے اہل لوگوں کی بھی رسائی ناممکن بنادی گئی۔
ضیا الحق کے دور میں ایک صنعت کار گھرانے کو آگے لایا گیا اور پنجاب کے اقتدار پر اس کو بٹھا دیا گیا، یہاں سے سیاست میں ایک معنوی تبدیلی یہ آئی کہ اقتدار میں جاگیرداروں کے ساتھ صنعتکار بھی حصہ دار بن گئے اور یہ سلسلہ بڑی خوش اسلوبی سے 2013ء تک چلتا رہا اور باری باری کی وہ سیاست مستحکم ہوئی جو جاگیرداروں، صنعتکاروں کی ساجھے داری میں چلتی رہی۔ پھر سیاست پر بلاشرکت غیرے قبضے کی وجہ حکمران طبقہ خوف اور احتیاط سے اس طرح آزاد ہوگیا کہ دونوں ہاتھوں سے اربوں کھربوں کی قومی دولت کی لوٹ مار شروع کردی گئی۔ اشرافیہ کی دولت میں جس تیزی سے اضافہ ہونے لگا اسی تیزی سے عوام کی غربت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ مہنگائی، بیروزگاری اور کرپشن کی وجہ عوام کی زندگی جہنم میں بدل گئی۔
2014ء میں عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنوں کی وجہ سے اس کرپٹ حکومت کی چولیں ہل گئیں اور عوام میں یہ امید پیدا ہوگئی کہ شاید انھیں کرپٹ مافیا سے نجات مل جائے لیکن قادری اور عمران کی مسلسل غلطیوں نے تبدیلی کے اس امکان کو ختم کردیا۔ اور عوام مایوسی کا شکار ہوگئے۔ 2014ء کی تحریک کی ناکامی کے بعد پاناما لیکس کا اسکینڈل سامنے آیا تو عمران خان نے بڑی بے جگری اور تسلسل کے ساتھ اقتدار مافیا کے خلاف آواز اٹھائی کہ اس کا نتیجہ نواز شریف کی نااہلی،ان کے خاندان کے خلاف عدالتوں میں ریفرنسز کے نتیجے میں نہ صرف اقتدار پر حکمرانوں کی گرفت ڈھیلی ہوگئی بلکہ پارٹی میں بھی ایک خاموش ہلچل جڑیں پکڑنے لگی، اگرچہ حکومت بڑے رعب داب بلکہ باغیانہ انداز میں عدلیہ کے خلاف شور مچا رہی ہے لیکن اندر سے جو حالت پیدا ہو رہی ہے اس کا اندازہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے اس بیان سے ہوسکتا ہے جس میں انھوں نے حکومت کے جانے اور ایک نئے سیٹ اپ کے آنے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
یہ ہیں وہ حالات جس میں یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ شاید موجودہ حالات 70 سالہ سیٹ اپ کے خاتمے کا باعث بن جائیں اور تحریک انصاف کے لیے راستہ کھل جائے۔ 70 سال سے زندگی کے عذاب بھگتنے والے عوام میں یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ شاید انھیں اس جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ سیٹ اپ سے نجات مل جائے اور میدان سیاست میں تحریک انصاف کے علاوہ کوئی دوسری مقبول عوام طاقت موجود نہیں، یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے جلسوں میں عوام صورت سیلاب امڈ کر آرہے ہیں۔
عمران خان کے نئے پاکستان کے نعروں سے بھی عوام میں یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ شاید انھیں پرانے کرپٹ پاکستان سے نجات مل جائے۔ عمران خان کے نئے پاکستان کا ابہام اب دور ہونا چاہیے۔ نئے پاکستان کا مطلب سب سے پہلے زرعی اصلاحات کے ذریعے سیاست اور اقتدار سے اشرافیہ کا خاتمہ کرنا ہے۔ دوسرا کام انتخابی اصلاحات ہے۔ ایسی انتخابی اصلاحات جس میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے اہل لوگوں کو قانون ساز اداروں میں پہنچنے کا موقع ملے۔
ملک میں تعلیم مفت اور لازمی ہو۔ ملک میں علاج کی جملہ سہولتیں بلاقیمت عوام کو مہیا ہوں۔ بیروزگاری کو ختم کرنے کا ایک جامعہ منصوبہ، مذہبی انتہا پسندی کی سختی سے حوصلہ شکنی کرکے دہشتگردی کو روکا جائے، سائنس ٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبوں میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرکے پاکستان کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں لاکھڑا کیا جائے، مہنگائی کے خلاف رسمی اقدامات نہیں سخت ٹھوس اور منصوبہ بند اقدامات، کرپشن کو روکنے کے لیے چین کی طرز کے تعزیری اقدامات اگر نئے پاکستان کی بنیادیں ان اقدامات پر رکھی جائیں تو تحریک انصاف کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔
عوام میں نئے پاکستان کے حوالے سے یہ ابہام اس لیے ہے کہ عمران خان نے کبھی اس نئے پاکستان کا ناک نقشہ عوام کو نہیں دکھایا، جو وہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ سوال اس لیے اہم تھے کہ جب تک عمران خان اپنے نئے پاکستان کی ماہیت سے عوام کو پوری طرح واقف نہیں کرائیں گے عوام میں وہ جوش و خروش پیدا نہیں ہوگا جو ان کے مفادات، ان کی خواہشوں کے مطابق پاکستان کی تشکیل سے پیدا ہو سکتا ہے۔
عمران خان کے ممکنہ نئے پاکستان کا جائزہ لینے سے قبل پرانے پاکستان پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ 1947ء میں جب پاکستان وجود میں آیا، پاکستان میں شامل ہونے والے صوبے قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کا گڑھ تھے، اس حوالے سے المیہ یہ رہا ہے کہ جس سیاسی جماعت کے جھنڈے تلے پاکستان کی تحریک چلائی گئی اگرچہ اس کے سربراہ محمد علی جناح ایک روشن خیال اور ماڈریٹ انسان تھے لیکن مسلم لیگ پر کنٹرول جاگیردار طبقے کا تھا اور یہی طبقہ قیام پاکستان کے بعد اقتدار میں آیا۔
چونکہ وزیراعظم لیاقت علی خان جاگیردار خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود عوامی طرز زندگی گزار رہے تھے اور ان پر مہاجر ہونے کا ٹھپہ بھی لگا ہوا تھا، سو وہ پاکستان کے جاگیردار طبقے کی نظروں میں کھٹکنے لگے۔ آخرکار اس طبقے کے ظالموں نے انھیں اپنے راستے سے ہٹا دیا۔ اور بدقسمتی سے پاکستان بننے کے تھوڑے ہی عرصے بعد جناح بھی انتقال کرگئے تھے۔ یوں جاگیردار طبقہ آزاد ہوگیا اور آزادی کے ساتھ اقتدار کا کھیل کھیلنے لگا۔ اس طبقے کے ساتھ سول بیورو کریسی اقتدار کے کھیل میں شامل ہوگئی اور حکومتیں کپڑوں کی طرح بدلی جانے لگیں۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل ایوب خان نے 1958ء میں اقتدار پر قبضہ کرلیا۔
ایوب خان کو احساس تھا کہ اس کے اقتدار کے لیے اگر کوئی طبقہ خطرہ بن سکتا ہے تو وہ جاگیردار طبقہ ہی ہوگا، سو ایوب خان نے اس خطرے کو کنٹرول کرنے کے لیے زرعی اصلاحات نافذ کیں، جس کی وجہ سے جاگیردار طبقہ سخت دباؤ میں آگیا اور ایوب خان سے مصالحت پر مجبور ہوا۔ کنونشن لیگ بناکر جاگیرداروں نے ایوب خان کو سیاسی بیساکھیاں مہیا کیں اور اس کی حکومت میں شامل ہوکر اسے مضبوط بنایا، اس طرح انھیں اپنی زمینیں واپس لینے کی راہ ہموار ہوئی اور جاگیردار طبقہ اور مضبوط ہوگیا۔
ایوب خان کے بعد سے جنرل (ر) پرویز مشرف تک جاگیردار طبقہ مسلسل اقتدار کا حصہ رہا۔ اس طبقے کے اقتدار پر قبضے کی وجہ ملک تعلیم سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پسماندہ رہا اور پاکستان کے عوام کو عملاً ہاری بنا کر رکھا گیا۔ قانون ساز اداروں میں غریب طبقات ہاری کسانوں کی بات تو دور کی رہی مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے اہل لوگوں کی بھی رسائی ناممکن بنادی گئی۔
ضیا الحق کے دور میں ایک صنعت کار گھرانے کو آگے لایا گیا اور پنجاب کے اقتدار پر اس کو بٹھا دیا گیا، یہاں سے سیاست میں ایک معنوی تبدیلی یہ آئی کہ اقتدار میں جاگیرداروں کے ساتھ صنعتکار بھی حصہ دار بن گئے اور یہ سلسلہ بڑی خوش اسلوبی سے 2013ء تک چلتا رہا اور باری باری کی وہ سیاست مستحکم ہوئی جو جاگیرداروں، صنعتکاروں کی ساجھے داری میں چلتی رہی۔ پھر سیاست پر بلاشرکت غیرے قبضے کی وجہ حکمران طبقہ خوف اور احتیاط سے اس طرح آزاد ہوگیا کہ دونوں ہاتھوں سے اربوں کھربوں کی قومی دولت کی لوٹ مار شروع کردی گئی۔ اشرافیہ کی دولت میں جس تیزی سے اضافہ ہونے لگا اسی تیزی سے عوام کی غربت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ مہنگائی، بیروزگاری اور کرپشن کی وجہ عوام کی زندگی جہنم میں بدل گئی۔
2014ء میں عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنوں کی وجہ سے اس کرپٹ حکومت کی چولیں ہل گئیں اور عوام میں یہ امید پیدا ہوگئی کہ شاید انھیں کرپٹ مافیا سے نجات مل جائے لیکن قادری اور عمران کی مسلسل غلطیوں نے تبدیلی کے اس امکان کو ختم کردیا۔ اور عوام مایوسی کا شکار ہوگئے۔ 2014ء کی تحریک کی ناکامی کے بعد پاناما لیکس کا اسکینڈل سامنے آیا تو عمران خان نے بڑی بے جگری اور تسلسل کے ساتھ اقتدار مافیا کے خلاف آواز اٹھائی کہ اس کا نتیجہ نواز شریف کی نااہلی،ان کے خاندان کے خلاف عدالتوں میں ریفرنسز کے نتیجے میں نہ صرف اقتدار پر حکمرانوں کی گرفت ڈھیلی ہوگئی بلکہ پارٹی میں بھی ایک خاموش ہلچل جڑیں پکڑنے لگی، اگرچہ حکومت بڑے رعب داب بلکہ باغیانہ انداز میں عدلیہ کے خلاف شور مچا رہی ہے لیکن اندر سے جو حالت پیدا ہو رہی ہے اس کا اندازہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے اس بیان سے ہوسکتا ہے جس میں انھوں نے حکومت کے جانے اور ایک نئے سیٹ اپ کے آنے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
یہ ہیں وہ حالات جس میں یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ شاید موجودہ حالات 70 سالہ سیٹ اپ کے خاتمے کا باعث بن جائیں اور تحریک انصاف کے لیے راستہ کھل جائے۔ 70 سال سے زندگی کے عذاب بھگتنے والے عوام میں یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ شاید انھیں اس جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ سیٹ اپ سے نجات مل جائے اور میدان سیاست میں تحریک انصاف کے علاوہ کوئی دوسری مقبول عوام طاقت موجود نہیں، یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے جلسوں میں عوام صورت سیلاب امڈ کر آرہے ہیں۔
عمران خان کے نئے پاکستان کے نعروں سے بھی عوام میں یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ شاید انھیں پرانے کرپٹ پاکستان سے نجات مل جائے۔ عمران خان کے نئے پاکستان کا ابہام اب دور ہونا چاہیے۔ نئے پاکستان کا مطلب سب سے پہلے زرعی اصلاحات کے ذریعے سیاست اور اقتدار سے اشرافیہ کا خاتمہ کرنا ہے۔ دوسرا کام انتخابی اصلاحات ہے۔ ایسی انتخابی اصلاحات جس میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے اہل لوگوں کو قانون ساز اداروں میں پہنچنے کا موقع ملے۔
ملک میں تعلیم مفت اور لازمی ہو۔ ملک میں علاج کی جملہ سہولتیں بلاقیمت عوام کو مہیا ہوں۔ بیروزگاری کو ختم کرنے کا ایک جامعہ منصوبہ، مذہبی انتہا پسندی کی سختی سے حوصلہ شکنی کرکے دہشتگردی کو روکا جائے، سائنس ٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبوں میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرکے پاکستان کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں لاکھڑا کیا جائے، مہنگائی کے خلاف رسمی اقدامات نہیں سخت ٹھوس اور منصوبہ بند اقدامات، کرپشن کو روکنے کے لیے چین کی طرز کے تعزیری اقدامات اگر نئے پاکستان کی بنیادیں ان اقدامات پر رکھی جائیں تو تحریک انصاف کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔