عدالت نے بھتہ طلبی ثابت ہونے پر مجرم کو 14 سال قید سنادی

عادل بلوچ اور مفرور ساتھی نے مرسلین کی دکان پر کریکر مارکر دھماکا کیا تھا۔

طالبہ سے زیادتی پر مجرم کو 10 برس قید کی سزا۔ فوٹو: فائل

انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بھتہ طلب کرنے سے انکار پر کریکر سے حملہ کرکے ہراساں اور اقدام قتل کے الزامات میں ملوث ملزم محمد عادل بلوچ کو جرم ثابت ہونے پر 14برس قید اور50ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے ۔

مجرم کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید ایک برس قید بھگتنا ہوگی،استغاثہ کے مطابق اپریل2011کو سزا یافتہ مجرم نے اپنے مفرور ساتھی نصرت علی بلوچ کے ساتھ ڈیفنس میں واقع دکان کے مالک محمد مرسلین سے موبائل فون کے ذریعے قتل کی دھمکی دیکر 10لاکھ روپے بھتہ طلب کیا تھا تاہم انکار پر ملزمان نے 24اپریل2011 کو ان کے گھر پر کریکر سے دھماکا کرکے انھیں ہراساں اور خوف میں مبتلا کیا تھا ۔

جس پر محمد مرسلین نے تھانہ ڈیفنس اور سی پی ایل سی میں رپورٹ درج کرائی تھی پولیس نے سی پی ایل سی کے تعاون سے 5 مئی کو مذکورہ ملزم کو گرفتار کیا تھا ملزم کی جانب سے مدعی کو کیے گئے فون ڈیٹا نے استغاثہ کو سپورٹ کیا ملزمان کو عدالت میں شناخت بھی کیا گیا تھا ہفتے کو جرم ثابت ہونے پر فاضل عدالت نے سزا سنادی۔




ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی زاہدہ سکندر نے اسکول طالبہ سے زیادتی کا الزام ثابت ہونے پرمجرم کو 10برس قید کی سزا سنائی ہے مجرم ضمانت پر رہا تھا تاہم فاضل عدالت نے ضمانت منسوخ کرکے جیل بھیج دیا ہے استغاثہ کے مطابق تھانہ ملزم رکشہ ڈرائیور تھا اور اسکول کی طالبہ کو گھر سے اسکول اور گھر چھورٹا تھا مارچ 2008کو مجرم نے بچی کو قتل کی دھمکی دیکر ذیادتی کا نشانہ بنایا تھا متاثرہ کے والدہ اشفاق نے تھانہ مومن آباد میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔

پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا بعدازاں ملزم کو عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا تھا دوران سماعت میڈیکل رپورٹ اور متاثرہ کے بیانات سے جرم ثابت ہوا اور ہفتے کو فاضل عدالت نے مجرم کو سزا سنادی ہے ملزم کے خلاف تھانہ مومن آباد میں مقدمہ درج تھا۔
Load Next Story