پاکستان بار نے نگراں حکومت کیلیے ریٹائرڈ ججز کے نام مسترد کردیے
ناصر اسلم نے مخصوص افراد کو فائدہ پہنچایا، طارق پرویزکو ریٹائرہوئے2سال نہیں ہوئے
ججوں کا تقرر جمہوری حکومت میں ہونا چاہیے، قلب حسن کی عابدساقی کیساتھ پریس کانفرنس فوٹو : فائل
پاکستان بارکونسل نے نگراں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کیلیے ریٹائرڈ ججوں کے نام مسترد کر دیے ہیں۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین قلب حسن نے لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر عابد ساقی کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ جسٹس(ر) ناصر اسلم زاہد نے بطورجج کوئٹہ بنچ میں مخصوص افراد کو فائدہ پہنچایا جبکہ خیبرپختونخوا کے نگراں وزیراعلیٰ طارق پرویزکوبطورجج ریٹائرڈہوئے ابھی 2سال مکمل نہیں ہوئے لہٰذا وہ سیاسی عہدہ پرفائزنہیں ہوسکتے۔
ایسا لگتا ہے ریٹائرڈ ججوں اور جرنیلوں کے علاوہ کوئی ملک کی باگ دوڑنہیں سنبھال سکتا، انہوں نے کہا کہ اعلٰی عدلیہ میں ججوں کی تقرری منتخب جمہوری حکومت میں ہونی چاہئے، نگران سیٹ اپ میں ایسا نہیں ہونا چاہئے، ایڈیشنل ججوں کو کنفرم یا فارغ کردیا جائے، انکی عبوری مدت میں توسیع جیسے اقدامات ختم کرنے چاہئیں کیونکہ یہ آئین اور قانون کے منافی ہے جبکہ خالی اسامیوں کو30روز میں پر کیا جائے، جوڈیشل کمیشن کے رولز میں ترمیم ہونی چاہئے اور کمیشن کے ہر ممبر کو جج کیلئے نام دینے کا اختیار ہونا چاہئے۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین قلب حسن نے لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر عابد ساقی کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ جسٹس(ر) ناصر اسلم زاہد نے بطورجج کوئٹہ بنچ میں مخصوص افراد کو فائدہ پہنچایا جبکہ خیبرپختونخوا کے نگراں وزیراعلیٰ طارق پرویزکوبطورجج ریٹائرڈہوئے ابھی 2سال مکمل نہیں ہوئے لہٰذا وہ سیاسی عہدہ پرفائزنہیں ہوسکتے۔
ایسا لگتا ہے ریٹائرڈ ججوں اور جرنیلوں کے علاوہ کوئی ملک کی باگ دوڑنہیں سنبھال سکتا، انہوں نے کہا کہ اعلٰی عدلیہ میں ججوں کی تقرری منتخب جمہوری حکومت میں ہونی چاہئے، نگران سیٹ اپ میں ایسا نہیں ہونا چاہئے، ایڈیشنل ججوں کو کنفرم یا فارغ کردیا جائے، انکی عبوری مدت میں توسیع جیسے اقدامات ختم کرنے چاہئیں کیونکہ یہ آئین اور قانون کے منافی ہے جبکہ خالی اسامیوں کو30روز میں پر کیا جائے، جوڈیشل کمیشن کے رولز میں ترمیم ہونی چاہئے اور کمیشن کے ہر ممبر کو جج کیلئے نام دینے کا اختیار ہونا چاہئے۔