پنجاب نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیلیے جسٹس زاہد اور حفیظ رندھاوا پر غور

دیگر جماعتوں کے مشورے سے مزیدنام زیر غور آئینگے، پرویز الٰہی اور وٹو کی پریس کانفرنس

تلافی برائے کم نمائندگی آرڈیننس پرغور موخر، ایجنڈا ختم ہونے پراجلاس صرف20 منٹ ہی چل سکا، ایم کیوایم کا احتجاج

پنجاب میں نگراں حکومت کے لیے مسلم لیگ(ق) اور پیپلزپارٹی میں گزشتہ روز مشاورت ہوئی جس میں نگراں وزیراعلیٰ پر اتفاق رائے کیلیے سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید زاہد حسین، سابق چیف سیکرٹری حفیظ اختر رندھاوا کے ناموں پر غور کیا گیا۔

بعد ازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ق لیگ کے رہنما پرویزالٰہی اور پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر منظور وٹو نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن پنجاب موجودہ حکومت کی تعینات کردہ پوری انتظامیہ فوری طورپر تبدیل کرے۔ منظور وٹو نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کیلیے وزیراعلیٰ پنجاب ''کاریگر لوگ'' تعینات کر رہے ہیں، شفاف الیکشن اور الیکشن کمیشن کی ساکھ برقرار رکھنے کیلیے ان کی جگہ غیر جانبدار اور دیانتدار افسروں کا تقررلازمی ہے، پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر پر مکمل اعتماد ہے۔




پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے تھے، شریف برادران پری پول دھاندلی کیلیے مزید تقرریاں کرنے کی خاطراسمبلی نہیں توڑ رہے، دونوں رہنماؤں نے کہاکہ ان دو ناموں کے علاوہ دیگر جماعتوں کے مشورہ سے مزیدنام زیر غور آئیں گے۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ وفاق اور باقی صوبے ایک ہی دن اسمبلیاں تحلیل کرنے اور الیکشن کرانے پر راضی ہیں مگر شریف برادران اپنی دھاندلی کی کارروائیوں کے لئے مزید چند دن حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ نوازشریف اور شہبازشریف نے آئندہ عام انتخابات میں دھاندلی کیلئے اپنی من پسند بیوروکریسی تعینات کی ہے اور پٹواری سے لے کر اعلیٰ ترین عہدہ تک اپنی مرضی کے لوگ لگائے ہیں۔ اب شاید وہ پولیس اہلکار بھی مرضی کے لگانا چاہتے ہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story