صوبائی اسمبلیاں تحلیل نہ ہوئیں تو الیکشن شفاف نہیں ہونگے عمران خان
ن لیگ قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعدبھی اگر اقتدارمیں رہی تواسے الیکشن میں دھاندلی کاموقع مل جائے گا، چیئرمین تحریک انصاف
شریف برادران پنجاب پراپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں،23مارچ کا جلسہ سبوتاژ کرنیکی کوشش ہورہی ہے فوٹو: فائل
KARACHI:
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پنجاب اورسندھ حکومتوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ مدت اقتدارمیں رہنے کی منصوبہ بندی پرسخت تحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ ذاتی مفادات کے حصول کایہ رجحان آئین کی روح کے خلاف ہے۔
اگریہ حکومتیں اسی طرح اقتدارسے چمٹی رہیں توآزادانہ اور شفاف انتخابات کاانعقادممکن نہیں ہو سکتا۔ ایک بیان میں عمران خان نے کہاکہ سرکاری مشینری کے غلط استعمال اورتھانہ کچہری کی سیاست کوجاری رکھنے کیلیے نت نئے حیلے بہانے تراشے جارہے ہیں،صوبائی حکومتوں کوعام انتخابات کے نتائج پراثراندازہونے کے بھرپورمواقع میسر ہونگے۔
عمران خان نے کہاکہ اگر مسلم لیگ(ن)کوقومی اسمبلی تحلیل کیے جانے کے بعدبھی کام کرنے کی اجازت دی گئی تویہ بڑے پیمانے پر قبل ازانتخابات دھاندلی کے اختیارات دینے کے مترادف ہوگااورمخالفین کوہراساں کرنے، نشانہ بنائے جانے اور امیدواروں کو وفادایاں تبدیل کرنے پرمجبورکیاجائیگا،مسلم لیگ(ن)نے ضمنی انتخابات میں بھی اسی قسم کا مظاہرہ کیاتھا۔
انھوں نے کہا کہ یہ تحریک انصاف کے23مارچ کے جلسے کوسبوتاژکرنے کا حربہ ہے کیونکہ شریف برادران پنجاب پراپنا قبضہ برقرار رکھنے کیلیے کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پنجاب اورسندھ حکومتوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ مدت اقتدارمیں رہنے کی منصوبہ بندی پرسخت تحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ ذاتی مفادات کے حصول کایہ رجحان آئین کی روح کے خلاف ہے۔
اگریہ حکومتیں اسی طرح اقتدارسے چمٹی رہیں توآزادانہ اور شفاف انتخابات کاانعقادممکن نہیں ہو سکتا۔ ایک بیان میں عمران خان نے کہاکہ سرکاری مشینری کے غلط استعمال اورتھانہ کچہری کی سیاست کوجاری رکھنے کیلیے نت نئے حیلے بہانے تراشے جارہے ہیں،صوبائی حکومتوں کوعام انتخابات کے نتائج پراثراندازہونے کے بھرپورمواقع میسر ہونگے۔
عمران خان نے کہاکہ اگر مسلم لیگ(ن)کوقومی اسمبلی تحلیل کیے جانے کے بعدبھی کام کرنے کی اجازت دی گئی تویہ بڑے پیمانے پر قبل ازانتخابات دھاندلی کے اختیارات دینے کے مترادف ہوگااورمخالفین کوہراساں کرنے، نشانہ بنائے جانے اور امیدواروں کو وفادایاں تبدیل کرنے پرمجبورکیاجائیگا،مسلم لیگ(ن)نے ضمنی انتخابات میں بھی اسی قسم کا مظاہرہ کیاتھا۔
انھوں نے کہا کہ یہ تحریک انصاف کے23مارچ کے جلسے کوسبوتاژکرنے کا حربہ ہے کیونکہ شریف برادران پنجاب پراپنا قبضہ برقرار رکھنے کیلیے کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔