اقوام متحدہ نے فلسطینی اتھارٹی کے بجائےملک فلسطین استعمال کرنے کا حکم دیدیا اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

فلسطین کاحق ہے کہ بحیثیت ملک دوسرے ممالک کی طرح اقوام متحدہ کے اجلاس اورکانفرنسزمیں شرکت کرے،بان کی مون

صیہونی بستیوں کے معاملے کوعالمی عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کاامکان،اسرائیلی حلقوں میں سخت تشویش کی لہردوڑ گئی. فوٹو وکی پیڈیا

اقوام متحدہ کے نئے حکم نامے کے تحت فلسطینی اتھارٹی کوملک فلسطین کانام دیا جائے گا۔

اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اعلان کیاہے کہ اقوام متحدہ کے تمام معاملات، اجلاس اوردستاویزات میں فلسطینی اتھارٹی کے بجائے ملک فلسطین کانام استعمال کیا جائے گا۔


اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے اعلان کے مطابق اب فلسطین عالمی عدالتوں میں حساس معاملات کے جائزہ لینے کیلیے ججز کے عہدوں کیلیے اپنے امیدوار کھڑے کرسکتاہے ،اس اعلان سے اسرائیلی حلقوں میں سخت تشویش کی لہردوڑ گئی ہے کیونکہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ فلسطینی، صیہونی بستیوں کے معاملے کو عالمی عدالتوں میں چیلنج کریں۔



بان کی مون نے صیہونی حکومت کو فلسطینیوں سے مذاکرات کی ناکامی کااصل ذمے دار قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ اسرائیلی حکومت آج کل 11500مکانات تعمیرکرانے کی بات کررہی ہے اوروہ بھی گرین زون کے باہرجوعالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔بان کی مون نے واضح کیاکہ یہ فلسطین کاحق ہے کہ ایک ملک کی حیثیت سے دوسرے ممالک کی طرح اقوام متحدہ کے اجلاس اورکانفرنسزمیں شرکت کرے۔
Load Next Story