چھ ملکی اسپیکرز کانفرنس کا اعلامیہ

دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب اور نسلی گروہ سے منسلک نہیں کیا جا سکتا، مشترکہ اعلامیہ

دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب اور نسلی گروہ سے منسلک نہیں کیا جا سکتا، مشترکہ اعلامیہ ۔ فوٹو : اے پی پی : فائل

اسلام آباد میں اتوار کو ''دہشت گردی اوربین العلاقائی رابطے '' کے عنوان سے ہونے والی پہلی چھ ملکی اسپیکرز کانفرنس کے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب اور نسلی گروہ سے منسلک نہیں کیا جا سکتا، داعش خطے کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے، خطے میں باہمی روابط سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی جب کہ بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بہتری آئے گی، خطے کے ملکوں کے درمیان معلومات کا تبادلہ اور مہارتوں سے استفادہ کیا جائے گا ،مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے، مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔

کانفرنس میں پاکستان، ایران، ترکی، افغانستان، چین اور روس کے پارلیمانی سربراہان اورمندوبین شریک ہوئے۔ اعلامیے کے مطابق رکن ملکوں نے روابط کے فروغ کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا جب کہ سلامتی، معیشت اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کے فروغ کا عزم کیا۔ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا گیا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا کہ دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے میں ہماری مسلح افواج خصوصی تجربہ اور مہارت رکھتی ہیں جس سے ہمارے ہمسایہ ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں، مسئلہ کشمیر نے برصغیر کا امن داؤ پر لگا رکھا ہے، یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے تاکہ جنگ کے بادل چھٹ سکیں۔

جنوبی ایشیا میں پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے لیکن حیرت انگیز امر ہے کہ امریکا ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت پاکستان ہی پر دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات عائد کرتے ہوئے دھمکی دیتا ہے کہ اسے امریکی صدر نے نوٹس پر رکھا ہوا ہے' ڈومور کے لیے دباؤ ڈالنا تو معمول کی بات ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جتنی قربانیاں دی ہیں دنیا کے کسی ملک نے اتنی قربانیاں نہیں دیں' دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کا دنیا بھر میں اعتراف کیا گیا ہے لیکن اس سب کے باوجود امریکا پاکستان ہی کو نشانہ بنانے پر تلا بیٹھا ہے۔ دوسری جانب بھارت امریکی آشیر باد پر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لیے سازشوں کے تانے بانے بن رہا ہے۔

اس پیچیدہ اور گمبھیر صورت حال کے تناظر میں یہ ضروری ہو چکا ہے کہ پاکستان خود کو دنیا میں تنہائی سے بچانے اور پرامن ملک ثابت کرنے کے لیے ایسے ممالک کے ساتھ اپنے روابط مضبوط بنائے جو اس کے خیالات سے ہم آہنگ ہوں۔ اس صورتحال کے تناظر میں عالمی سطح پر امریکا سے چین اور روس کے مفادات کے ٹکراؤ کا پاکستان بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے، 6ملکی اسپیکرز کانفرنس جس میں پاکستان' ایران' ترکی' افغانستان' چین اور روس کے پارلیمانی سربراہان اور مندوبین نے شرکت کی' پاکستان کو ایک پرامن اور دہشت گردوں کا دشمن ملک ثابت کرنے کی ایک مثبت اور خوش آیند کوشش ہے۔

اگر یہ تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تو نہ صرف اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرسکتے ہیں بلکہ دہشت گردی پر بھی قابو پا سکتے ہیں۔یہ ممالک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں تو امریکا پر انحصار بھی کم کرسکتے ہیں جس کا عالمی سطح پر بھی بہت زیادہ اثر پڑے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان امریکا پر انحصار کرنے کے بجائے انھی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط بنانے پر توجہ دے، یہ پاکستان کے قریبی اور ہمسایہ ممالک بھی ہیں جو تجارتی اور اقتصادی لحاظ سے بھی اسے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں لہٰذا ان کے ساتھ قربت یقیناً تاریخ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔


چھ ملکی اسپیکرز کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے اس کے موقف کی تائید اس امر کی مظہر ہے کہ یہ ممالک جغرافیائی طور پر پاکستان کی اہمیت سے بخوبی آگاہ اور اس سے اپنے بہتر تعلقات قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ عالمی سطح پر امریکی پالیسیاں تنقید کی زد میں ہیں' گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی سفارتخانہ القدس منتقل کرنے کے مسئلے پر امریکا کو جو شکست ہوئی وہ اس حقیقت کی عکاس ہے کہ دنیا امریکا کی جارحانہ اور استحصال پر مبنی پالیسیوں کو نا پسند کرنے لگی ہے۔

امریکا افغانستان میں اپنی ناکامیوں کی ذمے داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن پاکستان بھی اب امریکی دباؤ میں آنے کے بجائے کھلم کھلا کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان کو اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے کہ نائن الیون کے واقعے کے بعد اسے دہشت گردی کے نام پر جس جنگ کی دلدل میں گھسیٹا گیا ۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو پہنچا۔ پاکستان کے دانشور اور فہمیدہ حلقے اب اس نکتہ پر زور دے رہے ہیں کہ دہشت گردی سے نجات کے لیے پاکستان کو امریکا کی نام نہاد دہشت گردی کی جنگ سے باہر نکلنا ہو گا' اگر بنظر غائر صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو تحریک طالبان پاکستان اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی تشکیل اور نمو میں امریکی ایجنسیوں ہی کا ہاتھ نکلے گا۔ شام اور عراق سے نکل کر افغانستان میں داعش کے قدم جمانے سے یہ گمان تقویت پکڑتا ہے کہ اس سب معاملے کے پیچھے امریکی منصوبہ ساز شامل ہیں' جو سوچی سمجھی پالیسی کے تحت مسلم ممالک میں دہشت گردی کو فروغ دے کر انھیں دفاعی لحاظ سے کمزور کر رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس حقیقت کو اجاگر کرنے کے لیے پاکستان نے چھ ملکی اسپیکرز کانفرنس منعقد کر کے چین' روس اور دیگر ہمسایہ ممالک سے دہشت گردی کے خلاف نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں اور تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے قدم اٹھایا ہے۔ دہشت گردی مقامی معاملہ نہیں رہا بلکہ کچھ بیرونی طاقتوں کی مداخلت اور پالیسیوں کے باعث یہ عالمی حیثیت اختیار کر چکا ہے اس لیے وقت آ گیا ہے کہ اپنی خود مختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے پاکستان امریکی سازشوں سے بچنے کے لیے دوست ہمسایہ ممالک کے تعاون سے خطے کو پرامن بنانے کے لیے متحرک ہو۔ یہی بدلتے ہوئے حالات کے تحت بہترین حل ہے جس سے خطے میں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

داعش اس خطے میں موجودگی ظاہر کرچکی ہے، افغانستان میں یہ خاصی حد تک جڑیں پکڑ چکی ہے۔ اسپیکرز کانفرنس میں شریک ممالک کسی نہ کسی حوالے سے دہشت گردی سے متاثر ہیں، پاکستان تو خیر عرصے سے اس عفریت سے نبردآزما ہے جب کہ روس بھی برسوں سے دہشت گرد تنظیموں سے لڑ رہا ہے۔رشین فیڈریشن میں شامل علاقے آج بھی مشکلات کا شکار ہیں جب کہ چین کے صوبے سنکیانگ میں بھی مسائل موجود ہیں جب کہ ایران اور ترکی بھی مشکلات کا شکار ہیں ، یوں دیکھا جائے تو ان ممالک کے کم ازکم دہشت گردی کی حد تک مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اگر یہ متحد ہوکر کوشش کریں تو دہشت گردی کو بھی شکست دی جاسکتی اور امریکی اور یورپی بالادستی کو بھی کاونٹر کیا جاسکتا ہے، اس لیے چھ ممالک کی اسپیکرز کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اسے مستقبل میں بڑے اسٹرٹیجک اتحاد میں ڈھالنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
Load Next Story