طبقاتی نمائندگی کے بغیر
دوسرے ملکوں میں وہ سیاسی طبقات موجود نہیں جن کی گھٹی ہی میں بے ایمانی اور دھاندلی شامل رہتی ہے۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
یہ بات یقین سے کہنا ممکن نہیں کہ انتخابات وقت مقررہ پر یعنی 2018 میں ہوجائیں گے۔ ہماری سیاسی ابتری کا عالم یہ رہا ہے کہ ہمارا کوئی قومی کام اندیشہ ہائے دور دراز سے خالی نہیں ہوتا۔ انتخابات خواہ وہ لولی لنگڑی جمہوریت میں ہوں یا صاف ستھری بے داغ جمہوریت میں، عوام کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ آنے والے پانچ سال کے لیے ایسے نمایندے منتخب کریں جو ان کے مسائل حل کرسکیں۔
ہمارے ملک کی 70 سالہ تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ اس دورانیے میں جب بھی جمہوری نظام موجود رہا انتخابات متنازعہ ہی رہے۔ ہمارے سیاستدان اس حوالے سے اس قدر متعصب رہے ہیں کہ دھاندلی کے لفظ کا استعمال ان کی سیاست کا ایک لازمی حصہ رہا ہے، شاید ہی کوئی ایسے انتخابات ہوں جن پر دھاندلی کا الزام نہ لگا ہو۔ یہ روایت ہماری سیاسی جماعتوں کے درمیان عدم اعتماد کی ایسی شرمناک کہانی بن گئی ہے جو ہر انتخابات میں بڑے خلوص سے دہرائی جاتی ہے۔
اس بدنما روایت کی ایک وجہ تو سیاسی جماعتوں کی رقابت ہے، دوسری وجہ ہماری عوام میں جمہوری اخلاقیات کا فقدان ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں ہی میں نہیں بلکہ ترقی پذیر ملکوں میں بھی انتخابی دھاندلی کا وہ کلچر موجود نہیں جو پاکستان میں دیکھا جاسکتا ہے۔ انتخابات میں حسب توفیق دھاندلی تو تقریباً ساری سیاسی اور مذہبی جماعتیں کرتی ہیں لیکن دھاندلی کا ارتکاب وہ منظم جماعتیں زیادہ کرتی ہیں جن کے کارکن اس حوالے سے تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ ہم نے کئی قومی اور بلدیاتی انتخابات میں انتخابی عملے کے ذریعے ڈبے بھرنے کی کوششیں گواہ اور ثبوت کے ساتھ دیکھی ہیں۔ اس حوالے سے بعض منظم مذہبی جماعتوں پر بھی الزامات لگتے رہے ہیں کہ ان کے منظم کارکن بڑے نظم و ضبط کے ساتھ دھاندلی کا ارتکاب کرتے ہیں۔
دھاندلی کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا ماضی اور کارکردگی اس قدر مایوس کن رہی ہے کہ عوام ان سے بدظن رہتے ہیں اور اس حقیقت سے سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت واقف رہتی ہے کہ وہ عوام کے ووٹ اتنی تعداد میں حاصل نہیں کرسکیں گے کہ حکومت بنا سکیں۔ جب انھیں یقین ہوجاتا ہے کہ وہ انتخابات نہیں جیت سکیں گے تو وہ فطری طور پر دھاندلی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ابھی 2013 کے الیکشن میں دھاندلی کا اتنا شور اٹھا کہ اس آواز کی بازگشت آج تک سنائی دیتی ہے۔ اس حوالے سے ووٹوں کی جانچ پڑتال بھی ہوتی رہتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جانچ پڑتال پر بھی دھاندلی اور بے ایمانی کے الزامات لگ جاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بدنما کلچر دوسرے ترقی پذیر ملکوں میں کیوں اس شدت سے موجود نہیں؟
اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ دوسرے ملکوں میں وہ سیاسی طبقات موجود نہیں جن کی گھٹی ہی میں بے ایمانی اور دھاندلی شامل رہتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جاگیرداروں کی شکل میں وہ طبقات موجود بھی ہیں اور طاقتور بھی، جو اقتدار کو اپنا موروثی حق سمجھتے ہیں اور اس حق کے حصول کے لیے یہ طبقات جو جو طریقے استعمال کرتے ہیں ان میں سے ایک طریقہ انتخابی دھاندلی کا ہے اور المیہ یہ ہے کہ یہی طبقات 70 سال سے پاکستان پر حکومت کر رہے ہیں، لیکن ان کا سارا وقت قومی دولت کی لوٹ مار میں صرف ہوجاتا ہے اور عوام کی خدمت کرنے عوام کے مسائل حل کرنے کی انھیں توفیق نہیں ہوتی، لہٰذا وہ عوامی حمایت سے محروم ہوتے ہیں اور انتخابی دھاندلی سمیت مختلف ناجائز طریقوں سے انتخابات جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انتخابات دراصل عوام کے ہاتھوں میں وہ اختیار ہے جس کو عوام اگر عقل و شعور کے ساتھ استعمال کریں تو وہ اہل اور ایماندار امیدوار منتخب کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری زمینی اور صنعتی اشرافیہ نے عوام میں یہ احساس کمتری پیدا کر رکھا ہے کہ ان کا کام صرف انتخابات میں ووٹ ڈالنا ہے، نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انتخابات میں خود امیدوار بن سکیں۔ ایک تو عوام میں پیدا کیا ہوا یہ احساس کمتری انھیں کسی ایم این اے، ایم پی اے کے الیکشن میں امیدوار بننے سے روکتا ہے، دوسرا ہمارے نظام انتخابات کو ہماری ایلیٹ نے اس قدر مہنگا بنا رکھا ہے کہ کروڑوں کے سرمائے کے بغیر کوئی انتخابات میں امیدوار بن ہی نہیں سکتا۔ ان دو ہتھیاروں کے ذریعے اس ملک کے بالادست طبقات نے غریب عوام ہی نہیں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کو بھی انتخابی اچھوت بنا کر رکھا ہے۔
یہ سلسلہ 70 سال سے جاری و ساری ہے، یہ بڑی عجیب بات ہے کہ دوسرے پسماندہ ملکوں میں انتخابی نظام پر ایلیٹ کی وہ اجارہ داری موجود نہیں جو پاکستان میں 70 سال سے موجود ہے۔ دور کیوں جائیں، اپنے پڑوسی ملک بھارت ہی کو لے لیں، وہاں کا انتخابی نظام ایسا ہے کہ ایک عام آدمی بھی انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیتا بلکہ انتخابات جیت جاتا ہے۔ بھارت کے وزرائے اعظم ہمیشہ یا تو مڈل کلاس کے رہے ہیں یا نچلے طبقات سے ان کا تعلق رہا ہے۔ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی ہی کو دیکھ لیں، جن کا تعلق انتہائی نچلے طبقے سے ہے، وہ ایک ڈھابے میں باہر والے کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں۔ اس نظام کا کرشمہ ہے کہ وہ آج بھارت کے وزیراعظم ہیں۔
پاکستان کی 70 سالہ جمہوری تاریخ پر نظر ڈالیں، آپ کو اس 70 سالہ تاریخ میں ایک بھی وزیراعظم نریندر مودی جیسا نظر نہیں آئے گا۔ انتخابات میں امیدواروں کو سیاسی پارٹیاں نامزد کرتی ہیں جن سیاسی پارٹیوں پر اشرافیہ کا قبضہ ہے، کیا وہ کسی نچلے طبقے کے فرد کو خواہ وہ کتنا ہی اہل ایماندار اور عوام کا درد دل میں رکھنے والا ہو کبھی انتخابی ٹکٹ نہیں دیں گی، بلکہ صورت حال یہ ہے کہ اشرافیہ کے پورے کے پورے خاندان ایم این اے، ایم پی اے، وزیراعلیٰ، گورنر بنے ہوئے ہیں۔ جب اقتدار پر قبضہ اس قدر مضبوط ہو تو غریب طبقات کے اقتدار میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
جمہوریت کو عوامی جمہوریت کہا جاتا ہے، اس حوالے سے بلاشبہ جمہوریت عوامی ہے کہ انتخابات میں ووٹ عوام ہی ڈالتے ہیں لیکن اس حوالے سے یہ جمہوریت اشرافیائی ہے کہ انتخابات میں منتخب ہونے والوں کا تعلق اشرافیہ ہی سے ہوتا ہے۔ یہ ایک گہری سازش ہے جس کا مقصد عام لوگوں کو اقتدار سے دور رکھنا ہے۔ ہمارے ملک میں 6 کروڑ کے لگ بھگ مزدور رہتے ہیں۔ ہماری دیہی آبادی کا 60 فیصد حصہ ہاریوں ، کسانوں پر مشتمل ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جمہوریت عوامی ہوتی ہے اور اکثریتی ہوتی ہے تو پھر قانون ساز اداروں میں ایک بھی کسان کا نمایندہ ایک بھی مزدور کا نمایندہ کیوں نظر نہیں آتا؟ اس جمہوری ناانصافی کو ختم کرنے کا ایک آسان اور منطقی طریقہ یہ ہے کہ قانون ساز اداروں میں طبقاتی بنیاد پر نمایندگی دی جائے۔ اس کے علاوہ عوام کو قانون ساز اداروں میں بھجوانے کا کوئی اور طریقہ ہمارے ملک میں نظر نہیں آتا۔
ہمارے ملک کی 70 سالہ تاریخ کا یہ المیہ ہے کہ اس دورانیے میں جب بھی جمہوری نظام موجود رہا انتخابات متنازعہ ہی رہے۔ ہمارے سیاستدان اس حوالے سے اس قدر متعصب رہے ہیں کہ دھاندلی کے لفظ کا استعمال ان کی سیاست کا ایک لازمی حصہ رہا ہے، شاید ہی کوئی ایسے انتخابات ہوں جن پر دھاندلی کا الزام نہ لگا ہو۔ یہ روایت ہماری سیاسی جماعتوں کے درمیان عدم اعتماد کی ایسی شرمناک کہانی بن گئی ہے جو ہر انتخابات میں بڑے خلوص سے دہرائی جاتی ہے۔
اس بدنما روایت کی ایک وجہ تو سیاسی جماعتوں کی رقابت ہے، دوسری وجہ ہماری عوام میں جمہوری اخلاقیات کا فقدان ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں ہی میں نہیں بلکہ ترقی پذیر ملکوں میں بھی انتخابی دھاندلی کا وہ کلچر موجود نہیں جو پاکستان میں دیکھا جاسکتا ہے۔ انتخابات میں حسب توفیق دھاندلی تو تقریباً ساری سیاسی اور مذہبی جماعتیں کرتی ہیں لیکن دھاندلی کا ارتکاب وہ منظم جماعتیں زیادہ کرتی ہیں جن کے کارکن اس حوالے سے تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ ہم نے کئی قومی اور بلدیاتی انتخابات میں انتخابی عملے کے ذریعے ڈبے بھرنے کی کوششیں گواہ اور ثبوت کے ساتھ دیکھی ہیں۔ اس حوالے سے بعض منظم مذہبی جماعتوں پر بھی الزامات لگتے رہے ہیں کہ ان کے منظم کارکن بڑے نظم و ضبط کے ساتھ دھاندلی کا ارتکاب کرتے ہیں۔
دھاندلی کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا ماضی اور کارکردگی اس قدر مایوس کن رہی ہے کہ عوام ان سے بدظن رہتے ہیں اور اس حقیقت سے سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت واقف رہتی ہے کہ وہ عوام کے ووٹ اتنی تعداد میں حاصل نہیں کرسکیں گے کہ حکومت بنا سکیں۔ جب انھیں یقین ہوجاتا ہے کہ وہ انتخابات نہیں جیت سکیں گے تو وہ فطری طور پر دھاندلی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ابھی 2013 کے الیکشن میں دھاندلی کا اتنا شور اٹھا کہ اس آواز کی بازگشت آج تک سنائی دیتی ہے۔ اس حوالے سے ووٹوں کی جانچ پڑتال بھی ہوتی رہتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جانچ پڑتال پر بھی دھاندلی اور بے ایمانی کے الزامات لگ جاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بدنما کلچر دوسرے ترقی پذیر ملکوں میں کیوں اس شدت سے موجود نہیں؟
اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ دوسرے ملکوں میں وہ سیاسی طبقات موجود نہیں جن کی گھٹی ہی میں بے ایمانی اور دھاندلی شامل رہتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جاگیرداروں کی شکل میں وہ طبقات موجود بھی ہیں اور طاقتور بھی، جو اقتدار کو اپنا موروثی حق سمجھتے ہیں اور اس حق کے حصول کے لیے یہ طبقات جو جو طریقے استعمال کرتے ہیں ان میں سے ایک طریقہ انتخابی دھاندلی کا ہے اور المیہ یہ ہے کہ یہی طبقات 70 سال سے پاکستان پر حکومت کر رہے ہیں، لیکن ان کا سارا وقت قومی دولت کی لوٹ مار میں صرف ہوجاتا ہے اور عوام کی خدمت کرنے عوام کے مسائل حل کرنے کی انھیں توفیق نہیں ہوتی، لہٰذا وہ عوامی حمایت سے محروم ہوتے ہیں اور انتخابی دھاندلی سمیت مختلف ناجائز طریقوں سے انتخابات جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انتخابات دراصل عوام کے ہاتھوں میں وہ اختیار ہے جس کو عوام اگر عقل و شعور کے ساتھ استعمال کریں تو وہ اہل اور ایماندار امیدوار منتخب کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری زمینی اور صنعتی اشرافیہ نے عوام میں یہ احساس کمتری پیدا کر رکھا ہے کہ ان کا کام صرف انتخابات میں ووٹ ڈالنا ہے، نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انتخابات میں خود امیدوار بن سکیں۔ ایک تو عوام میں پیدا کیا ہوا یہ احساس کمتری انھیں کسی ایم این اے، ایم پی اے کے الیکشن میں امیدوار بننے سے روکتا ہے، دوسرا ہمارے نظام انتخابات کو ہماری ایلیٹ نے اس قدر مہنگا بنا رکھا ہے کہ کروڑوں کے سرمائے کے بغیر کوئی انتخابات میں امیدوار بن ہی نہیں سکتا۔ ان دو ہتھیاروں کے ذریعے اس ملک کے بالادست طبقات نے غریب عوام ہی نہیں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کو بھی انتخابی اچھوت بنا کر رکھا ہے۔
یہ سلسلہ 70 سال سے جاری و ساری ہے، یہ بڑی عجیب بات ہے کہ دوسرے پسماندہ ملکوں میں انتخابی نظام پر ایلیٹ کی وہ اجارہ داری موجود نہیں جو پاکستان میں 70 سال سے موجود ہے۔ دور کیوں جائیں، اپنے پڑوسی ملک بھارت ہی کو لے لیں، وہاں کا انتخابی نظام ایسا ہے کہ ایک عام آدمی بھی انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیتا بلکہ انتخابات جیت جاتا ہے۔ بھارت کے وزرائے اعظم ہمیشہ یا تو مڈل کلاس کے رہے ہیں یا نچلے طبقات سے ان کا تعلق رہا ہے۔ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی ہی کو دیکھ لیں، جن کا تعلق انتہائی نچلے طبقے سے ہے، وہ ایک ڈھابے میں باہر والے کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں۔ اس نظام کا کرشمہ ہے کہ وہ آج بھارت کے وزیراعظم ہیں۔
پاکستان کی 70 سالہ جمہوری تاریخ پر نظر ڈالیں، آپ کو اس 70 سالہ تاریخ میں ایک بھی وزیراعظم نریندر مودی جیسا نظر نہیں آئے گا۔ انتخابات میں امیدواروں کو سیاسی پارٹیاں نامزد کرتی ہیں جن سیاسی پارٹیوں پر اشرافیہ کا قبضہ ہے، کیا وہ کسی نچلے طبقے کے فرد کو خواہ وہ کتنا ہی اہل ایماندار اور عوام کا درد دل میں رکھنے والا ہو کبھی انتخابی ٹکٹ نہیں دیں گی، بلکہ صورت حال یہ ہے کہ اشرافیہ کے پورے کے پورے خاندان ایم این اے، ایم پی اے، وزیراعلیٰ، گورنر بنے ہوئے ہیں۔ جب اقتدار پر قبضہ اس قدر مضبوط ہو تو غریب طبقات کے اقتدار میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
جمہوریت کو عوامی جمہوریت کہا جاتا ہے، اس حوالے سے بلاشبہ جمہوریت عوامی ہے کہ انتخابات میں ووٹ عوام ہی ڈالتے ہیں لیکن اس حوالے سے یہ جمہوریت اشرافیائی ہے کہ انتخابات میں منتخب ہونے والوں کا تعلق اشرافیہ ہی سے ہوتا ہے۔ یہ ایک گہری سازش ہے جس کا مقصد عام لوگوں کو اقتدار سے دور رکھنا ہے۔ ہمارے ملک میں 6 کروڑ کے لگ بھگ مزدور رہتے ہیں۔ ہماری دیہی آبادی کا 60 فیصد حصہ ہاریوں ، کسانوں پر مشتمل ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جمہوریت عوامی ہوتی ہے اور اکثریتی ہوتی ہے تو پھر قانون ساز اداروں میں ایک بھی کسان کا نمایندہ ایک بھی مزدور کا نمایندہ کیوں نظر نہیں آتا؟ اس جمہوری ناانصافی کو ختم کرنے کا ایک آسان اور منطقی طریقہ یہ ہے کہ قانون ساز اداروں میں طبقاتی بنیاد پر نمایندگی دی جائے۔ اس کے علاوہ عوام کو قانون ساز اداروں میں بھجوانے کا کوئی اور طریقہ ہمارے ملک میں نظر نہیں آتا۔