امریکا عقل کے ناخن لے

ہمارے حکمران انتخابات کے موقعے پر جس زور وشور سے ترقیاتی اور عوامی بہبود کے کام کررہے ہیں ان میں خلوص کم ہے۔

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

ISLAMABAD:
امریکا کے مسلسل دبائوکے باوجود ایران اور پاکستان کی قیادت نے 11مارچ کو گیس لائن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا، اس اقدام سے اب یہ توقع کی جارہی ہے کہ پاکستان اپنی روایتی امریکا نواز پالیسی سے باہر نکلنے کی کوشش کررہاہے، پاک ایران سرحد کے قریب شہر چابہارگبد پوائنٹ پر منعقدہ اس خصوصی تقریب میں دونوں ملکوں کے درمیان785کلو میٹر طویل گیس لائن بچھانے کے کام کا آغاز ہوگیا۔

ایرانی صدر احمدی نژاد نے اس تاریخی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس منصوبے سے پاکستان کی گیس کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی، یہ منصوبہ2014میں مکمل ہوجائے گا اور پاکستان کو یومیہ2کروڑ 15 لاکھ مکعب میٹرگیس ملنی شروع ہوجائے گی، یہ منصوبہ دو بنیادی اہمیتوں کا حامل ہے، ایک یہ کہ یہ منصوبہ صرف ایک سال کے مختصر عرصے میں مکمل ہوجائے گا۔ ایران نے پاکستان کی بجلی کی قلت دور کرنے کے لیے دو ہزار میگا واٹ کا بجلی گھر بھی تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے ان منصوبوں کے مختصر مدت میں مکمل ہونے سے پاکستان کو اپنے انرجی بحران سے نکلنے میں بہت مدد ملے گی۔

منصوبے کے افتتاح کے موقعے پر صدر آصف علی زرداری نے کہاکہ پاکستان اور ایران کی خوشحالی ایک دوسرے کے تعاون سے منسلک ہے، انھوںنے کہاکہ پاکستان ایک خود کفیل ملک بننے کی کوشش کررہاہے، بین الاقوامی طاقتوں کو علاقائی ملکوں کی مشکلات اور ان کے حل کا کوئی ادراک نہیں، ایرانی صدر نے اس موقعے پر کہا اس منصوبے سے دونوں ملکوں کی ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ مخالفین کو ہماری راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ منصوبہ دونوں ملکوں کے عزم اور حوصلے کی علامت ہے۔

انھوںنے کہاکہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ایران کے خلاف پابندیوں کے باوجود اس منصوبے کا آغاز سامراجی بالادستی کے خلاف ایک کامیاب مزاحمت کی علامت ہے، زرداری کی یہ بات بڑی معنی خیز ہے کہ ''کوئی ہمیں ہماری شناخت نہ بتائے، ہم اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کرسکتے، ہم اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کریںگے۔ اس منصوبے پر بات چیت کا آغاز19سال پہلے ہواتھا لیکن امریکا کے شدید دبائو کی وجہ سے یہ بات چیت آگے نہیں بڑھ پارہی تھی، جب اس منصوبے کی پلاننگ کی جارہی تھی تو بھارت بھی اس منصوبے میں شامل تھا لیکن امریکا کے شدید دبائو کی وجہ سے بھارت اس منصوبے سے الگ ہوگیا، یہ بات بڑی دلچسپ اور حیرت انگیز ہے کہ غیر جانبدار ملکوں کی سربراہی کا اعزاز رکھنے اور آزاد خارجہ پالیسی کا دعویدار بھارت امریکی دبائو کو برداشت نہ کرسکا لیکن امریکا کا تابعدار ہونے کی شناخت رکھنے والا پاکستان امریکا کے دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے تیار ہوگیاہے۔

پاکستان کی پوری تاریخ امریکا کی غلامی کی تاریخ ہے، لیاقت علی خان سے لے کر پرویز مشرف تک یہی تاریخ ہمارا ورثہ بنی رہی لیکن موجودہ حکومت نے اپنی تمام تر نا اہلیوں، کمزوریوں کے باوجود گیس منصوبے کے حوالے سے جس جرأت کا مظاہرہ کیا ہے اس کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی، لیکن وہیں پر موجودہ حکومت اور سابقہ حکومتوں کی اس نا اہلی کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ انرجی کے مسئلے پر جو اقدامات آج کیے جارہے ہیں وہ عشروں پہلے کیے جانے چاہیے تھے، لیکن ساری جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں نے اس حوالے سے مجرمانہ غفلت کامظاہرہ کیا، کسی بھی حکومت اور اپوزیشن کو ان کی مجرمانہ غفلت سے بری الذمہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔


ہمارے حکمران انتخابات کے موقعے پر جس زور وشور سے ترقیاتی اور عوامی بہبود کے کام کررہے ہیں ان میں خلوص کم ہے اور انتخابات میں فوائد حاصل کرنے کی خواہش زیادہ ہے، لیکن پچھلے چار سال کے دوران عوامی طاقت اور عوامی فکر میں جو تبدیلیاں دیکھی جارہی ہیں ان کے پیش نظر اب اس بات کا کم ہی امکان نظر آرہاہے کہ اہل سیاست اب عوام کو بے وقوف بنانے میں کامیاب ہوتے رہیںگے۔ اس تبدیلی کا سہرا ہمارے میڈیا کے سر جاتاہے ۔

پاکستانی سیاست کی داخلی کمزوریوں اور گیس پائپ لائن کے حوالے سے زرداری حکومت کے جرأت مندانہ فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد اب ہم امریکا کی خارجہ پالیسیوں،امتیازی اور حاکمانہ رویوں کا بدلتی ہوئی دنیا کے تناظرمیں جائزہ لیںگے، دوسری عالمی جنگ کے بعد جب نو آبادیاتی طاقتیں کمزور ہوگئیں تو عالمی سطح پر ایک خلا بھی پیدا ہوا اور روس کی طاقت عالمی سیاست میں ایک نئے اور اہم عنصر کی حیثیت سے داخل ہوئی، اگر امریکی حکمران دنیا کے عوام کی اجتماعی ترقی کے راستے پر چلتے تو امریکا اور روس مل کر ایک ایسا نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے جو دنیا کے 6ارب انسانوں کو غربت، بھوک بیماری اور افلاس ہی سے نجات نہ دلاتا ۔ لیکن مسئلہ دو متضاد نظریات کا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنگوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا، امریکا روس کو شکست دینے میں کامیاب ہوگیا۔

اس کامیابی کے بعد بھی ایک موقع امریکا کو حاصل تھا کہ وہ عالمی حکمرانی کے خواب سے باہر آکر عالمی بھلائی کی سیاست کرتا لیکن وہ سرمایہ دارانہ نظام اور اپنی عالمی حکمرانی کی بقا میں الجھ گیا، امریکا کے کسی دانشور کسی تھنک ٹینک نے امریکی حکمرانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش نہیں کی کہ عالمی حکمرانی طاقت کے ذریعے قائم کرنے کا دور گزرگیا اب عالمی حکمرانی صرف عام انسانیت کی اجتماعی بھلائی کی سیاست ہی سے ممکن ہے، اس نظریاتی حماقت ہی کی وجہ سے آج امریکا ساری دنیا کے عوام کی نظروں سے گرگیاہے اور واحد سپر پاور ہونے کا خناس اب امریکی حکمرانوں کے ذہن سے نکل رہا ہے جس کا اعتراف امریکا کے نئے وزیر دفاع نے یوں کیا''کہ امریکا اکیلا دنیا کے مسائل حل نہیں کرسکتا، اس بات کو نئے امریکی وزیر خارجہ نے دوسرے لفظوں میں یوں کہاکہ وہ دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے اب ایک نئی سوچ کی ضرورت ہے۔

بادی النظر میں تو نئی امریکی حکومت کی یہ اپروچ بڑی مثبت نظر آتی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ اعترافات امریکا کی خارجہ پالیسیوں سے متصادم نظر آتے ہیں، اس سوچ کے مطابق پہلی ضرورت اس بات کی تھی کہ امریکی حکمران کمزور ملکوں پر حکم چلانے کی قبیح عادت سے باہر نکلتے اور ہر مسئلہ کا حل امتیازی پالیسیوں کے بجائے غیر جانبدارانہ اور میرٹ کی بنیاد پر نکالتے، لیکن مسئلہ ایران کا ہو،شمالی کوریا کا ہو، فلسطین کا ہو یا پاکستان ایران گیس پائل لائن کا ان تمام مسئلوں میں میرٹ حق وانصاف آزاد ملکوں کے آزادانہ فیصلوں کے حق اور امتیازی پالیسی کو ترک کرنے کے بجائے طاقت ،مرضی اور مفادات کی روایتی پالیسی کو اپنایاجارہاہے جو ہر جگہ ناکام ہورہی ہے۔

پاکستان اور ایران دو آزاد اور خود مختار ملک ہیں، انھیں اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرنے کا حق ہے لیکن امریکی حکمران ان ملکوں پر اپنی مرضی اور مفادات کے مطابق فیصلے تھوپنا چاہتے ہیں، ایران اور شمالی کوریا نے اقتصادی پابندیوں کے فیصلوں کو حقارت سے ٹھکرادیاہے، اگر پاکستان پر بھی پابندیاں لگانے کی حماقت کی گئی تو امریکا کو ناکامی اور رسوائی ہی کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ پاکستانی عوام اپنے سیاستدانوں سے مایوس ہونے کے باوجود ایران سے گیس کے معاہدے کے حق ہی میں نہیں بلکہ اس کی حمایت میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار ہیں۔ کاش! امریکی حکمران اب بھی عقل کے ناخن لیتے!!
Load Next Story