کلبھوشن سے اہل خانہ کی ملاقات اور بھارتی رد عمل
کلبھوشن کی اہل خانہ سے ملاقات ہمدردی کے تحت کرائی گئی لیکن بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقوں نے مثبت جواب نہیں دیا
کلبھوشن کی اہل خانہ سے ملاقات ہمدردی کے تحت کرائی گئی لیکن بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقوں نے مثبت جواب نہیں دیا فوٹو : فائل
پاکستان نے انسانی ہمدردی کے ناتے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے اس کی والدہ اور اہلیہ کی ملاقات کرادی۔ پاکستان کی طرف سے دو بلیغ پیغامات عالمی سطح پر دیے گئے، ایک یہ کہ ملاقات بڑی مثبت اور اچھی تھی جب کہ ''آخری'' نہیں تھی۔
یہ بیان ناگزیر سمجھا گیا جو اپنے متن اور ملاقات کی انسانی ہمدردی کی سفارتی اور انسانی روح کے عین مطابق تھا جب کہ عالمی سفارت کار حلقوں نے اسے پاکستان کا صائب اور مستحسن اقدام قرار دیا۔
تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ کلبھوشن یادیوکا کیس عام جنگی قیدی یا اس پر ویانا کنونشن کے لازمی اطلاق کا ہر گز نہیں، وہ جاسوسی اور دہشت گردی مشن پر بلوچستان میں سرگرم تھاجب کہ ہمدردی کے تحت اس کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کرائی گئی جس کا حسب توقع بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقوں نے مثبت جواب نہیں دیا بلکہ بھارت کے بیشتر اخبارات نے اس ملاقات کو ظالمانہ مذاق ،طے شدہ ڈراما اور عالمی دباؤ کا نتیجہ قراردینے کے تمام جتن کر ڈالے، بھارتی خبث باطن ان خبروں سے بھی عیاں تھا کہ دبئی میں جرمن ڈاکٹروں کی مرتب کردہ رپورٹ جس میں کلبھوشن کی صحت کو تسلی بخش قراردیا گیا تھا ۔
گلاس بیرئیر کی تنصیب ،کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کا میڈیا اور سرکاری حکام کو پرنام اور کلبھوشن کا اظہار تشکر بھی بھارتی میڈیا کوپسند نہ آیا ، البتہ بھارتی میڈیا نے منگل کو اس خبر کو نمایاں جگہ دی جس میں کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ نے بھارت پہنچتے ہی وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی ۔دوسری جانب مودی حکومت کا جارحانہ طرز عمل اس ملاقات کے خیر سگالی تناظر کے بھی قطعی برعکس تھا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے تسلسل اور جارحیت کا منہ بولتا ثبوت بھی۔خبروں کے مطابق بھارتی فوج کی ایل اوسی پر بلااشتعال فائرنگ سے پاک فوج کے3اہلکار شہید ہوگئے۔
آئی ایس پی آرکے مطابق بھارتی فوج نے راولاکوٹ کے رکھ چکری ، راولا کوٹ سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کرتے ہوئے پاک فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنایا جس سے ایک فوجی جوان زخمی بھی ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ بھارتی فوج نے یہ حملہ ایسے وقت میں کیا ہے جب پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دہشت گرد کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ کو پاکستان آکر اس سے ملاقات کاانتظام کیا۔ بجائے اس کے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور بھارت کے دفاع، خارجہ و داخلہ کے اعلیٰ حکام اس ملاقات پر مثبت اور غیر روایتی سفارت کارانہ نفاست اور اعلیٰ ظرفی پر مبنی رد عمل دیتے مگر دہلی پر پر اسرار خاموشی اور مخاصمت طاری رہی۔
بہر حال پاکستان کے اچھے سفارتی رویے کے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، میڈیا کے مطابق پاکستان کلبھوشن ملاقات کی تمام تفصیلات جلدعالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں جمع کرائے گا، اس نے واضح کیا ہے کہ مقدمہ جیتنے کے لیے ملاقات نہیں کرائی، پاکستان نے ملاقات کی اجازت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی، ملاقات اگرچہ 30 منٹ طے تھی مگر سزائے موت یافتہ کلبھوشن یادیو سے دفتر خارجہ میں اس کی والدہ آوانتی سودھی یادیو اور بیوی چیتنکاوی یادیو کی ملاقات 40 منٹ تک جاری رہی، بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کلبھوشن پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کا بدنما چہرہ ہے۔
پاکستان نے ملاقات کرا کے اپنا وعدہ پورا کردیا، قونصلر رسائی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ کو پہلے بھارتی ہائی کمیشن لے جایا گیا جہاں انھوں نے بھارتی ہائی کمشنر سے ملاقات کی۔ بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا نے دونوں خواتین کو بریفنگ دی ، بعد ازاں کڑی سیکیورٹی میں کلبھوشن کے اہل خانہ کو سیکیورٹی حصار اور بلٹ پروف گاڑی میں بھارتی ہائی کمیشن سے دفتر خارجہ پہنچایا گیا جہاں ساؤنڈ پروف شیشے کے دوسری طرف موجود کلبھوش نے اہلخانہ سے انٹرکام کے ذریعے بات چیت کی جس کی ریکارڈنگ بھی کی گئی۔ اس موقع پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ اور پاکستانی دفتر خارجہ کی ڈائریکٹر انڈیا ڈیسک ڈاکٹر فریحہ بگٹی بھی موجود تھیں۔کچھ وقت وہاں گزارنے کے بعد وہ نجی ایئرلائن کی پرواز سے براستہ مسقط، بھارت کے لیے روانہ ہو گئے۔
اس کی والدہ اور اہلیہ نے پاکستان کے جذبہ خیرسگالی پر شکریہ ادا کیا، کلبھوشن کا کیس چل رہا ہے اس وجہ سے قونصلر رسائی کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا، بھارتی تجاہل عارفانہ یہاں بھی جاری رہا، اس کا کہنا تھا کہ وہ ملاقات کی کوریج اور کلبھوش کے اہل خانہ کی میڈیا سے گفتگو کا خواہاں نہیں ہے۔
ادھر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی فیملی سے ملاقات کی اجازت پاکستان کے بنیادی انسانی حقوق پر عملدرآمد کے عزم کا اظہار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کلبھوشن کی ملاقات کرا کے ایک اچھا عمومی تاثر دیا گیا تاہم اگر یہ خیال و گمان ہے عالمی سطح پر بھارت کو بے نقاب کردیا گیا ہے توایسا نہیں ہے، بھارت سے ایسے سلوک میں جواب کی توقع نہیں کی جاسکتی، بعض سیاسی رہنماؤں نے ملاقات پر تاسف کا اظہار کیا ہے تاہم خطے میں بھارت اپنے عزائم کے باعث پاکستان کے کسی بھی goodwill gesture حسن سلوک کا قائل نہیں ہوگا لیکن پاکستان اپنی صائب کوششیں جاری رکھے۔
یہ بیان ناگزیر سمجھا گیا جو اپنے متن اور ملاقات کی انسانی ہمدردی کی سفارتی اور انسانی روح کے عین مطابق تھا جب کہ عالمی سفارت کار حلقوں نے اسے پاکستان کا صائب اور مستحسن اقدام قرار دیا۔
تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ کلبھوشن یادیوکا کیس عام جنگی قیدی یا اس پر ویانا کنونشن کے لازمی اطلاق کا ہر گز نہیں، وہ جاسوسی اور دہشت گردی مشن پر بلوچستان میں سرگرم تھاجب کہ ہمدردی کے تحت اس کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کرائی گئی جس کا حسب توقع بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقوں نے مثبت جواب نہیں دیا بلکہ بھارت کے بیشتر اخبارات نے اس ملاقات کو ظالمانہ مذاق ،طے شدہ ڈراما اور عالمی دباؤ کا نتیجہ قراردینے کے تمام جتن کر ڈالے، بھارتی خبث باطن ان خبروں سے بھی عیاں تھا کہ دبئی میں جرمن ڈاکٹروں کی مرتب کردہ رپورٹ جس میں کلبھوشن کی صحت کو تسلی بخش قراردیا گیا تھا ۔
گلاس بیرئیر کی تنصیب ،کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کا میڈیا اور سرکاری حکام کو پرنام اور کلبھوشن کا اظہار تشکر بھی بھارتی میڈیا کوپسند نہ آیا ، البتہ بھارتی میڈیا نے منگل کو اس خبر کو نمایاں جگہ دی جس میں کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ نے بھارت پہنچتے ہی وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کی ۔دوسری جانب مودی حکومت کا جارحانہ طرز عمل اس ملاقات کے خیر سگالی تناظر کے بھی قطعی برعکس تھا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے تسلسل اور جارحیت کا منہ بولتا ثبوت بھی۔خبروں کے مطابق بھارتی فوج کی ایل اوسی پر بلااشتعال فائرنگ سے پاک فوج کے3اہلکار شہید ہوگئے۔
آئی ایس پی آرکے مطابق بھارتی فوج نے راولاکوٹ کے رکھ چکری ، راولا کوٹ سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کرتے ہوئے پاک فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنایا جس سے ایک فوجی جوان زخمی بھی ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ بھارتی فوج نے یہ حملہ ایسے وقت میں کیا ہے جب پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دہشت گرد کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ کو پاکستان آکر اس سے ملاقات کاانتظام کیا۔ بجائے اس کے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور بھارت کے دفاع، خارجہ و داخلہ کے اعلیٰ حکام اس ملاقات پر مثبت اور غیر روایتی سفارت کارانہ نفاست اور اعلیٰ ظرفی پر مبنی رد عمل دیتے مگر دہلی پر پر اسرار خاموشی اور مخاصمت طاری رہی۔
بہر حال پاکستان کے اچھے سفارتی رویے کے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، میڈیا کے مطابق پاکستان کلبھوشن ملاقات کی تمام تفصیلات جلدعالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں جمع کرائے گا، اس نے واضح کیا ہے کہ مقدمہ جیتنے کے لیے ملاقات نہیں کرائی، پاکستان نے ملاقات کی اجازت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی، ملاقات اگرچہ 30 منٹ طے تھی مگر سزائے موت یافتہ کلبھوشن یادیو سے دفتر خارجہ میں اس کی والدہ آوانتی سودھی یادیو اور بیوی چیتنکاوی یادیو کی ملاقات 40 منٹ تک جاری رہی، بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کلبھوشن پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کا بدنما چہرہ ہے۔
پاکستان نے ملاقات کرا کے اپنا وعدہ پورا کردیا، قونصلر رسائی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ کو پہلے بھارتی ہائی کمیشن لے جایا گیا جہاں انھوں نے بھارتی ہائی کمشنر سے ملاقات کی۔ بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا نے دونوں خواتین کو بریفنگ دی ، بعد ازاں کڑی سیکیورٹی میں کلبھوشن کے اہل خانہ کو سیکیورٹی حصار اور بلٹ پروف گاڑی میں بھارتی ہائی کمیشن سے دفتر خارجہ پہنچایا گیا جہاں ساؤنڈ پروف شیشے کے دوسری طرف موجود کلبھوش نے اہلخانہ سے انٹرکام کے ذریعے بات چیت کی جس کی ریکارڈنگ بھی کی گئی۔ اس موقع پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ اور پاکستانی دفتر خارجہ کی ڈائریکٹر انڈیا ڈیسک ڈاکٹر فریحہ بگٹی بھی موجود تھیں۔کچھ وقت وہاں گزارنے کے بعد وہ نجی ایئرلائن کی پرواز سے براستہ مسقط، بھارت کے لیے روانہ ہو گئے۔
اس کی والدہ اور اہلیہ نے پاکستان کے جذبہ خیرسگالی پر شکریہ ادا کیا، کلبھوشن کا کیس چل رہا ہے اس وجہ سے قونصلر رسائی کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا، بھارتی تجاہل عارفانہ یہاں بھی جاری رہا، اس کا کہنا تھا کہ وہ ملاقات کی کوریج اور کلبھوش کے اہل خانہ کی میڈیا سے گفتگو کا خواہاں نہیں ہے۔
ادھر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی فیملی سے ملاقات کی اجازت پاکستان کے بنیادی انسانی حقوق پر عملدرآمد کے عزم کا اظہار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کلبھوشن کی ملاقات کرا کے ایک اچھا عمومی تاثر دیا گیا تاہم اگر یہ خیال و گمان ہے عالمی سطح پر بھارت کو بے نقاب کردیا گیا ہے توایسا نہیں ہے، بھارت سے ایسے سلوک میں جواب کی توقع نہیں کی جاسکتی، بعض سیاسی رہنماؤں نے ملاقات پر تاسف کا اظہار کیا ہے تاہم خطے میں بھارت اپنے عزائم کے باعث پاکستان کے کسی بھی goodwill gesture حسن سلوک کا قائل نہیں ہوگا لیکن پاکستان اپنی صائب کوششیں جاری رکھے۔