فاٹا اصلاحات بل بریک تھرو کی امید

فاٹا اصلاحات کے معاملے پر اب مولانا فضل الرحمن کو راضی کرنا باقی ہے جس میں جلد بریک تھرو ہونا چاہیے

فاٹا اصلاحات کے معاملے پر اب مولانا فضل الرحمن کو راضی کرنا باقی ہے جس میں جلد بریک تھرو ہونا چاہیے،فوٹو : فائل

لاہور:
اس وقت فاٹا اصلاحات بل منظوری کا منتظر ہے، اپوزیشن جماعتیں سراپا احتجاج ہیں، قومی اسمبلی کے کئی اجلاسوں کا بائیکاٹ بھی کرچکی ہیں، حکومت پر الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے اس گومگوکی صورت حال میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ کہنا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کا معاملہ مہینوں کا نہیں بلکہ دنوں کا ہے، انتہائی خوش آیند اور مثبت پیش رفت کی علامت کہا جاسکتا ہے۔

برٹش ایمپائر نے جب اپنا بوریا بستر لپیٹ کر رخصت ہورہی تھی، تو اس نے کمال ہوشیاری سے چند ایسے مسائل جان بوجھ کر حل طلب چھوڑے جو پاکستان کے لیے مشکلات کا سبب بنے اور ہماری بیوروکریسی ، سیاسی اور فوجی حکومتوں کی نااہلی نے ان مسائل کو مزید الجھا دیا۔ تحریک پاکستان کے لیے فاٹا کے عوام نے بھی بے پناہ قربانیاں دیں، پاکستان کے ساتھ جڑے رہنے کا عہد نبھایا لیکن افسوس ہمیں انھیں مکمل طور پر پاکستان کا باسی ہونے کا حق نہ دے سکے، وہاں انگریز کے بنانے کالے قوانین رائج رہے، پاکستانی ریاست کے قوانین ان پر لاگو نہ ہوتے تھے اور نہ انھیں وہ حقوق مل سکے جس کے وہ حقدار تھے۔


نتیجہ نکلا تو یہ فاٹا کی ایجنسیاں''علاقہ غیر'' کہلانے لگیں وہاں جرائم پیشہ عناصر پناہ لینے لگے، اس کے بعد افغانستان میں جب روسی مداخلت ہوئی تو دنیا بھر سے غیرملکی'جہادیوں' نے ان علاقوں کو اپنی آماجگاہ بنایا تو سمجھیں ریاست پاکستان کی سلامتی ہی داؤ پر لگ گئی، اس سارے عمل میں قبائلی عوام مزید پسماندگی کا شکار ہوگئے ۔قبائلی عوام ایف سی آر سے نجات اور پاکستانی قوانین کا نفاذ چاہتے تھے اوراس حوالے سے فاٹا کے پارلیمنٹرینز نے شکایت کی تھی کہ وہ اگرچہ قانون سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم ان کے اپنے علاقے ان قوانین سے محروم ہیں جو باعث افسوس ہے۔

یقینا فاٹا ریفارمزکمیٹی نے فاٹا اصلاحات کی ڈرافٹنگ کے لیے ریکارڈ کام کیا ا ور فاٹا میں لاگو ایک صدی پرانے نظام کی تبدیلی کے حوالے سے گو کہ تمام اسٹیک ہولڈرزکو اعتماد میں لیا گیا ہے لیکن جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمن کو راضی کرنا باقی ہے ، جس میں جلد بریک تھرو ہونا چاہیے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فاٹا اصلاحات سے قبائلیوں کی معاشی وسماجی زندگی میں بہتری آئے گی اور ان کو انصاف کی جلد فراہمی کے ساتھ ساتھ تعلیم وصحت کے شعبوں معیاری خدمات میسر آئیں گی ، بلاشبہ فاٹا کے عوام کو وہ تمام سہولتیں اور وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں جن سے ملک کے دیگر باشندے مستفید ہورہے ہیں۔
Load Next Story