قرضہ ادائیگی کے بے خطا نسخے

یہ سود اس قرضے کا ہے جو غالباً سوئس بینکوں میں یا یہاں وہاں پڑا ہے یعنی ملک سے ’’فرار‘‘ ہو چکا ہے۔

barq@email.com

غالبؔ کو کم از کم یہ پتہ تو تھاکہ قرض کی مے پیتے پیتے ایک دن ہماری فاقہ مستی رنگ ضرور لائے گی لیکن اپنے مے خواروں بلکہ ''پے خواروں'' کو ابھی تک یہ احساس بھی نہیں ہو پایا ہے۔ غالباً اس لیے کہ بچارے غالبؔ کو اپنا قرضہ خود ادا کرنا ہوتا تھا اور یہاں ہمارے مے خواروں کو اچھی طرح پتہ ہے کہ قرضہ چکتا کرنے والے اور ہیں تو پھر ان کو کیا پروا کہ فاقہ مستی کیا رنگ لائے گی اور کہاں یا کب لائے گی، کیونکہ قرض داروں یعنی چکانے والوں کی طرف سے ان کو مکمل اطمینان دلایا گیا ہے تو ''قرض ناز'' کر ''سُودِ دو عالم'' مری گردن پر ......

ویسے بھی پرانے زمانے کے قرضہ دینے والے اتنے ہوشیار نہیں تھے، اس لیے اکثر لوگ ان کا قرضہ ہڑپ بھی لیتے تھے یا ادائیگی بھی ایسی کرتے کہ ہمارے گاؤں کے ایک کسان نے دوسرے کو ایک بیل بیچا، بعد میں ادائیگی کی شرط پر۔ کافی دنوں تک اس شخص نے پیسے نہیں دیے تو اس نے تقاضے شروع کیے لیکن تقاضوں کا بھی کچھ اثر نہیں ہوا کیونکہ کسی دانا کا قول ہے کہ قرضہ اس وقت تک قرضہ رہتا ہے اور ادائیگی کی توقع رہتی ہے جب تک ''قرض خور'' کو اپنی عزت اور رسوائی کا احساس رہتا ہے کہ کہیں کسی کو پتہ نہ چلے، لوگوں میں رسوا نہ ہو جاؤں، یہاں وہاں لوگ مجھے برا نہ سمجھنے لگیں لیکن اگر یہ مرحلہ گزر جائے اور قرض دہندہ شرم و حیا کی سرحد سے گزر جائے تو پھر وہ قرضہ ڈوبا ہی سمجھو۔

اس بیل خریدنے والے نے بھی وہ مرحلہ گزار لیا، اب بچارہ قرض خواہ کیا کر سکتا تھا۔ سوائے اس کے کہ اس نے گاؤں کے بزرگوں سے رجوع کر کے جرگہ یا پنچائت کو بلوایا۔ اس کے سامنے قرض دہندہ نے اپنی غربت، نیستی اور بے بسی کی ایسی اداکاری کی کہ بزرگوں نے قرض خوا سے کہا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو۔ اس نے مان لیا اور فیصلہ ہوا کہ اسی روپے کے بجائے قرض خور کی چالیس روپے دینا پڑیں گے، دعائے خیر کے بعد جب جرگہ یا پنچائت منتشر ہونے لگی تو قرض خواہ نے قرض خور سے کہا کہ بس بہت ہو گیا، اب تو یہ باقی چالیس روپے دو۔ قرضہ خور نے مسکراتے ہوئے کہا، غم نہ کرو جس طرح یہ آدھے ادا ہوئے ہیں، ویسے ہی یہ باقی کے بھی ادا کر دوں گا۔

سنا ہے ہماری آمدنی کا بیشتر حصہ سود میں چلا جاتا ہے، یہ سود اس قرضے کا ہے جو غالباً سوئس بینکوں میں یا یہاں وہاں پڑا ہے یعنی ملک سے ''فرار'' ہو چکا ہے۔

کوئی ایسی بھی سبیل نظر نہیں آ رہی ہے جو ایک شخص کو اپنے قرضے کی ادائیگی کے لیے نظر آئی تھی۔ وڈیرے نے ایک دن اسے پکڑ کر پوچھا کہ آخر تم کب تک میرا قرضہ ادا کروگے،کافی زمانہ ہو گیا ہے،کچھ تو شرم کرو۔


قرض خور نے کہا، آقا میں تمہارے قرضے سے بے فکر نہیں ہوں لیکن اب کچھ امید نظر آئی ہے، انشاء اللہ بہت جلد آپ کا سارا قرضہ چکا دوں گا۔ مگر کیسے ؟ وڈیرے نے پوچھا، تم کچھ کام وام تو کرتے نہیں ہو، یونہی آوارہ اور بیکار پھرتے ہو، کہاں سے ادا کرو گے ۔ وہ شخص بولا، دیکھو جی، آپ کو تو پتہ ہے کہ سردیوں کا موسم آنے والا ہے۔ وڈیرے نے کہا ''ہاں لیکن سردیوں سے میرے قرضے کا کیا تعلق ہے؟ اس شخص نے سمجھاتے ہوئے کہا کہ۔ کچھ ہی دنوں میں پہاڑوں سے بھیڑوں کے ریوڑ آنا شروع ہو جائیں گے۔

اس نے کہا تو پھر؟ بولا، میں نے اپنے کھیت کے گرد جو راستے میں ہے، کانٹوں کی باڑھ لگالی ہے، بھیڑیں جب گزریں گی تو ان کا اون ان کانٹوں میں اٹک جائے گا اور میں جا کر اس اون کو اکٹھا کر لوں گا، پھر اس اون کو کات لوں گا اور پھر اس کے کمبل اور سوئیٹر وغیرہ بنا لوں گا جس سے تمہارا قرضہ ادا کر دوںگا۔ وڈیرا اس کے اس احمقانہ منصوبے پر ہنس پڑا تو وہ شخص بولا، دیکھو دیکھو اپنا قرضہ وصول ہوتے دیکھ کر کیسے کھکھلائے جا رہا ہے۔ہمیں نہیں معلوم کہ اپنے قرض خوروں نے ایسا کوئی منصوبہ بنایا ہے یا نہیں بظاہر تو انھیں بنانے کی ضرورت ہے ہی نہیں کہ قرضہ ان کو تو ادا کرنا ہے نہیں، بیس کروڑ بھیڑیں آخر کس لیے ہیں لیکن ہم ان کو مشورہ دیں گے بلکہ درخواست کریں گے کہ ٹھیک ہے تمہیں تو صرف قرضہ کھانا ہے ادائیگی کی کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن آنے والے بھی تو تمہارے ہی چٹے بٹے ہوں گے۔ ا

ہم بھی کیا؟ مشورہ بازی کے شوق میں یہ بھی بھول گئے کہ ان بھیڑوں کے اوپر کوئی اون ہو بھی تو۔ اون بھی تو یہ لوگ پہلے ہی کتر لیتے ہیں تو باڑھ میں کیا وہ اپنی ننگی کھال پھنسائیں گی ۔ ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا۔

ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر

یہ خون جو چشم ترسے عمر بھر یوں دمبدم نکلے
Load Next Story