آئی جی سندھ کے حکم پر ساؤتھ زون کے 7 ڈی ایس پیز کیخلاف انکوائری شروع
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی آئی جی شرقی سلطان خواجہ کو انکوائری افسرمقرر کردیا گیا ہے۔
پسندیدہ افسر کا فوری کام ہو جاتا ہے جبکہ ناپسندیدہ افسر یا اہلکار دھکے کھاتا رہتا ہے۔ فوٹو؛ فائل
آئی جی سندھ نے کراچی رینج کے 7 ڈی ایس پیز کے خلاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ڈی آئی جی شرقی کو انکوائری افسر مقرر کردیا۔
آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کراچی رینج کے7 ڈی ایس پیز کے خلاف انکوائری کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق ساؤتھ زون میں تعینات7 ڈی ایس پیز کے خلاف ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر کو مختلف نوعیت کی سنگین شکایات موصول ہوئی تھیں۔
متعلقہ پولیس افسران میں ایس ڈی پی او درخشاں ڈی ایس پی نیئرالحق ، ایس ڈی پی او ڈی ایس پی کلاکوٹ قمرالزمان ،ایس ڈی پی او رسالہ ڈی ایس پی غلام بنی واگھو، ایس ڈی پی اوگارڈن ڈی ایس پی اختر لطیف مغل، ایس ڈی پی او بغدادی ڈی ایس پی رستم نواز، ایس ڈی پی او کھارادر ڈی ایس پی زاہد حسین اور ایس ڈی پی او کیماڑی منیر احمد عرسانی شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی آئی جی شرقی سلطان خواجہ کو انکوائری افسرمقرر کردیا گیا ہے اور ڈی آئی جی شرقی کو 15 روز میں انکوائری مکمل کرکے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کی جانب سے ساؤتھ زون کے 7 ڈی ایس پیز کی خلاف تحقیقات سے متعلق آئی جی سندھ کو ارسال کیے جانے والے مراسلے سے قبل مشتاق مہر نے سی آئی اے کے شعبے اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے 61 پولیس افسران و اہلکاروں کو کرپشن ، اختیارات کا ناجائز استعمال اور دیگر ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور ان کے خلاف کی جانے والی تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہونے پر انھیں اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ سے کورٹ پولیس اور سیکیورٹی زون میں تبادلہ کر دیا تھا تاکہ ان پولیس افسران و اہلکاروں کا شہریوں سے براہ راست کوئی تعلق نہ ہو۔
کراچی پولیس چیف نے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر کورٹ پولیس اور سیکیورٹی زون تبادلہ کیے جانے والے 8 پولیس افسران کا تبادلہ خاموشی سے انویسٹی گیشن ون ساؤتھ زون کردیا جبکہ انھوں نے خود ہی ان افسران کا اپنے ایک حکم نامے کے تحت تبادلہ کیا تھا اس حوالے سے کئی بار کراچی پولیس چیف سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم انھوں نے فون سننے سے گریز کیا جبکہ ان کے پی ایس او عدنان صدیقی نے رابطہ کرنے پر بتایا تھا کہ جب تک کراچی پولیس چیف سیٹ پر موجود ہیں کسی بھی افسر کا تبادلہ نہیں ہوسکتا۔
روزنامہ ایکسپریس نے رواں ماہ 20 دسمبرکو اس حوالے سے خبر شایع کی تھی جس کے بعد عدنان صدیقی سے دوبارہ رابطہ کیا گیا کہ61 میں8 بااثر پولیس افسران کے تبادلے کراچی پولیس چیف نے کیے ہیں۔ جس کا حکم نامہ بھی ان کی جانب سے جاری ہوا ہے تو انھوں نے موقف دینے سے انکار کردیا اور کچھ دیر بعد فون کرنے کا بول کر فون بند کر دیا تاہم اب تک کراچی پولیس چیف کی جانب سے یہ موقف سامنے نہیں آسکا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن اور دیگر الزامات کے تحت تبادلہ کیے جانے والے پولیس افسران میں سے صرف 8 پولیس افسران کا ہی انویسٹی گیشن پولیس میں کیوں تبادلہ کیا گیا جبکہ ان کے پی ایس او کا تو یہ دعویٰ تھا کہ جب تک کراچی پولیس چیف سیٹ پر موجود ہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔
علاوہ ازیں سی آئی اے سے تبادلہ کیے جانے والے دیگر پولیس افسران و اہلکاروں نے ایکسپریس کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کراچی پولیس آفس (کے پی او) میں پسند کا دہرا معیار رجحان پا رہا ہے پسندیدہ افسر کا فوری کام ہو جاتا ہے جبکہ ناپسندیدہ افسر یا اہلکار دھکے کھاتا رہتا ہے۔
آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کراچی رینج کے7 ڈی ایس پیز کے خلاف انکوائری کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق ساؤتھ زون میں تعینات7 ڈی ایس پیز کے خلاف ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر کو مختلف نوعیت کی سنگین شکایات موصول ہوئی تھیں۔
متعلقہ پولیس افسران میں ایس ڈی پی او درخشاں ڈی ایس پی نیئرالحق ، ایس ڈی پی او ڈی ایس پی کلاکوٹ قمرالزمان ،ایس ڈی پی او رسالہ ڈی ایس پی غلام بنی واگھو، ایس ڈی پی اوگارڈن ڈی ایس پی اختر لطیف مغل، ایس ڈی پی او بغدادی ڈی ایس پی رستم نواز، ایس ڈی پی او کھارادر ڈی ایس پی زاہد حسین اور ایس ڈی پی او کیماڑی منیر احمد عرسانی شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی آئی جی شرقی سلطان خواجہ کو انکوائری افسرمقرر کردیا گیا ہے اور ڈی آئی جی شرقی کو 15 روز میں انکوائری مکمل کرکے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کی جانب سے ساؤتھ زون کے 7 ڈی ایس پیز کی خلاف تحقیقات سے متعلق آئی جی سندھ کو ارسال کیے جانے والے مراسلے سے قبل مشتاق مہر نے سی آئی اے کے شعبے اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے 61 پولیس افسران و اہلکاروں کو کرپشن ، اختیارات کا ناجائز استعمال اور دیگر ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور ان کے خلاف کی جانے والی تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہونے پر انھیں اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ سے کورٹ پولیس اور سیکیورٹی زون میں تبادلہ کر دیا تھا تاکہ ان پولیس افسران و اہلکاروں کا شہریوں سے براہ راست کوئی تعلق نہ ہو۔
کراچی پولیس چیف نے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر کورٹ پولیس اور سیکیورٹی زون تبادلہ کیے جانے والے 8 پولیس افسران کا تبادلہ خاموشی سے انویسٹی گیشن ون ساؤتھ زون کردیا جبکہ انھوں نے خود ہی ان افسران کا اپنے ایک حکم نامے کے تحت تبادلہ کیا تھا اس حوالے سے کئی بار کراچی پولیس چیف سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم انھوں نے فون سننے سے گریز کیا جبکہ ان کے پی ایس او عدنان صدیقی نے رابطہ کرنے پر بتایا تھا کہ جب تک کراچی پولیس چیف سیٹ پر موجود ہیں کسی بھی افسر کا تبادلہ نہیں ہوسکتا۔
روزنامہ ایکسپریس نے رواں ماہ 20 دسمبرکو اس حوالے سے خبر شایع کی تھی جس کے بعد عدنان صدیقی سے دوبارہ رابطہ کیا گیا کہ61 میں8 بااثر پولیس افسران کے تبادلے کراچی پولیس چیف نے کیے ہیں۔ جس کا حکم نامہ بھی ان کی جانب سے جاری ہوا ہے تو انھوں نے موقف دینے سے انکار کردیا اور کچھ دیر بعد فون کرنے کا بول کر فون بند کر دیا تاہم اب تک کراچی پولیس چیف کی جانب سے یہ موقف سامنے نہیں آسکا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن اور دیگر الزامات کے تحت تبادلہ کیے جانے والے پولیس افسران میں سے صرف 8 پولیس افسران کا ہی انویسٹی گیشن پولیس میں کیوں تبادلہ کیا گیا جبکہ ان کے پی ایس او کا تو یہ دعویٰ تھا کہ جب تک کراچی پولیس چیف سیٹ پر موجود ہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔
علاوہ ازیں سی آئی اے سے تبادلہ کیے جانے والے دیگر پولیس افسران و اہلکاروں نے ایکسپریس کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کراچی پولیس آفس (کے پی او) میں پسند کا دہرا معیار رجحان پا رہا ہے پسندیدہ افسر کا فوری کام ہو جاتا ہے جبکہ ناپسندیدہ افسر یا اہلکار دھکے کھاتا رہتا ہے۔