ریسٹورینٹ پر فائرنگ کر کے بھتہ مانگنے والے گینگ وار کے 3 کارندے گرفتار

بھتہ خور لیاری کیساتھ اندرون سندھ بیٹھ کرنیٹ ورک چلارہے ہیں،دہشت گردی ایکٹ اور بھتہ خوری کا مقدمہ درج۔

گارڈن میں ریسٹورینٹ پر فائرنگ کرکے بھتہ مانگنے والے لیاری گینگ وار کے بھتہ خور پولیس کی تحویل میں کھڑے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

گارڈن پولیس نے ریسٹورینٹ پر فائرنگ کرکے بھتہ مانگنے والے لیاری گینگ وارکے 3 کارندوں کو12 دن کی جدوجہد کے بعد گرفتار کرکے اسلحہ،موبائل فون اور موبائل سمیں برآمد کرلیں۔

گارڈن تھانے کی حدود نشتر روڈ پر ریسٹورینٹ کے مالک تصور نذیر سے لیاری گینگ وارکے بھتہ خوروں نے 20لاکھ روپے بھتہ مانگا،نہ دینے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی ، 12 دن قبل بھتہ خوروں نے ریسٹورینٹ پر فائرنگ کی تاہم معجزانہ طور پر ریسٹورینٹ میں موجود شہری محفوظ رہے۔


پولیس نے ریسٹورینٹ مالک کی مدعیت میں دہشت گردی ایکٹ اور بھتہ خوری کا مقدمہ درج کرلیااس دوران پولیس نے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بھتہ خوروں کے موبائل فون کی لوکیشن لی تو معلوم ہوا کہ بھتہ خور لیاری اور اندرون سندھ میں بیٹھ کر اپنا نیٹ ورک چلارہے ہیں، پولیس نے کئی دنوں کی جہدوجہد کے بعد ایک نوجوان کو حراست میں لیااس نے انکشاف کیا کہ 3 دن قبل اس کے بھائی ریاض احمد عرف راجو نے اسے موبائل فون تحفے میں دیا۔

پولیس نے مذکورہ نوجوان کی نشاندہی پر اس کے بھائی محمد ریاض کو لیاری سے پکڑا تو اس نے اعتراف کیا کہ اس کا گروپ 8 افراد پر مشتمل ہے لیاری کے تاجروں سے بھتہ وصول کرتے ہیں، پولیس نے بھتہ خور ریاض کی نشاندہی پر اس کے مزید دو ساتھی بھتہ خوروں خالد عرف استاد اور دانیال عرف بونا کوگرفتار کرکے اس کی نشاندہی پر 3 پستول ، گولیاں، موبائل فونز اور موبائل کی سمیں برآمد کرلیں۔

ایس ایس پی سٹی عدیل چانڈیو نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھتہ خوروں سے وہ سم بھی مل گئی جس نمبر سے وہ ریسٹورینٹ کے مالک سے بھتہ مانگ رہے تھے، بھتہ خوروں کے گروپ کا سرغنہ انیل ہے،بھتہ خورون کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کیلیے مسلسل چھاپے مارے جارہے ہیں، بھتہ خور لیاری،پرانا گولیمار، پاک کالونی، نبی بخش اور اس کے اطراف میں وارداتوں کے بعد 15سے20 دن کے لیے بلوچستان فرار ہوجاتے تھے۔
Load Next Story