برانچ لیس بینکاری ایجنٹس کی مؤثر نگرانی کیلیے ڈیٹابیس کی تیاری
ملک میں بینکوں کی کل برانچیں 11500جبکہ برانچ لیس بینکاری فراہم کرنیوالے ایجنٹس کی تعداد 42ہزار تک پہنچ چکی ہے
اختر جاوید نے کہا کہ پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کے لیے فی ٹرانزیکشن 15ہزار روپے فی فرد یومیہ حد مقرر کی گئی ہے ایک ماہ میں ایک فرد 25 ہزار روپے کا ٹرانزیکشن کرسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان برانچ لیس بینکاری کو صارفین کے لیے محفوظ تر بنانے کے لیے برانچ لیس بینکاری کی سہولت فراہم کرنے والے ایجنٹس کی موثر نگرانی کا نظام وضع کررہا ہے جس کے تحت ملک بھر کے برانچ لیس بینکاری ایجنٹ کی مرکزی ڈیٹا بیس کی تیاری کا عمل جاری ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد اختر جاوید نے چائنا موبائل پاکستان(زونگ) کے تحت انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں منعقدہ میڈیا ورکشاپ کے موقع پر بتایا کہ پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کی موثر ریگولیشنز کے ذریعے صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کے لیے بینک لیڈ ماڈل اختیار کیا گیا ہے برانچ لیس بینکاری کی سہولت کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی بے قاعدگی یا بے ضابطگی کی ذمہ داری سہولت کی فراہمی میں شریک بینک پر عائد ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ برانچ لیس بینکاری کی سہولت برانچ موبائل فون کے علاوہ ریٹیل ایجنٹس، سپر اسٹورز، چین اسٹورز، فیول اسٹیشنز یا ملک بھر میں رسائی کے حامل کسی بھی مستحکم ڈسٹری بیوشن چینلز کے ذریعے انجام دی جاسکتی ہے جن میں پاکستان پوسٹ اور کوریئر کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں بینکوں کی شاخوں کی تعداد 11ہزار 500جبکہ برانچ لیس بینکاری فراہم کرنے والے ایجنٹس کی تعداد 42ہزار تک پہنچ چکی ہے ملک میں مالیاتی خدمات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ہر فرد کو مالیاتی خدمات کی فراہمی میں برانچ لیس بینکاری انقلابی کردار ادا کرسکتی ہے۔
پاکستان میں 80فیصد آبادی بینکاری کی بنیادی سہولتوں سے دور ہیں ہر 16ہزار افراد کے لیے بینک کی ایک برانچ موجود ہے جبکہ 4300افراد کے لیے ایک برانچ لیس بینکاری ایجنٹ موجود ہے جن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ موبائل فون کے ذریعے مالیاتی خدمات کا دائرہ ملک کے دور دراز علاقوں تک وسیع کیا جاسکتا ہے، پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کے لیے بینک لیڈ ماڈل کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے موثر ریگولیشنز کے ذریعے برانچ لیس بینکاری کو صارفین کے لیے محفوظ بنادیا ہے پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کا ماڈل بہت لچکدار ہے جس میں ایک نیٹ ورک اورایک بینک( ون ٹو ون) کے علاوہ ایک بینک کے ساتھ متعدد ڈسٹری بیوشن چینلز(ون ٹو مینی) اور متعدد بینکوں کے ساتھ متعدد ڈسٹری بیوشن چینلز( مینی ٹو مینی) کی طرز پر خدمات فراہم کی جاسکتی ہیں۔
پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کے لیے فی ٹرانزیکشن 15ہزار روپے فی فرد یومیہ حد مقرر کی گئی ہے ایک ماہ میں ایک فرد 25 ہزار روپے کا ٹرانزیکشن کرسکتا ہے جبکہ سال بھر کے لیے یہ حد ایک لاکھ 20ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ برانچ لیس بینکاری کی سہولت فراہم کرنے والا ہر ایجنٹ متعلقہ بینک میں اپنا اکائونٹ کھول کر اپنے ٹرن اوور کے مطابق رقم ڈپازٹ کرتا ہے اور اپنی ہی رقم کے عیوض صارفین کو خدمات فراہم کرتا ہے اس طرح ایجنٹ کی سطح پر کسی دھوکہ دہی کا امکان کم سے کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک ایشیا میں برانچ لیس بینکاری کے ریگولیشنز بنانے والا پہلا ملک ہے یہ ریگولیشنز 2008میں متعارف کرائی گئیں جبکہ 2011میں انہیں اپ ڈیٹ کیا گیا۔
ورکشاپ کے پہلے سیشن میں اسٹیٹ بینک کی ڈائریکٹر لبنیٰ فاروق نے بتایا کہ بینکاری میں رسک منجمنٹ سے متعلق عالمی سمجھوتے Basel Accords کے روڈ میپ کے تحت 2008میں اسٹیٹ بینک نے Basel II کی سفارشات اور ریگولیشنز کو اختیار کیا اور بینکوںکو بنیادی انفرااسٹرکچر بنانے کے لیے رہنمائی فراہم کی حال ہی میں Basel III سے متعلق ہدایات کا مسودہ بینکوں کی آرا جاننے کے لیے جاری کردیا گیا ہے Basel IIIکے تحت تبدیلیوں کے پہلے مرحلے پر رواں سال عمل کیا جائیگا انہوں نے بتایا کہ بینکنگ انڈسٹری میں کریڈٹ رسک، مارکیٹ رسک، آپریشنل رسک اور لکویڈیٹی رسک کو بڑے خدشات میں شمار کیا جاتا ہے جس میں لکویڈیٹی رسک سب سے اہم ہے یہ خدشات بورڈ آف ڈائریکٹرز یا ٹاپ منجمنٹ ، بزنس لائن (فنکشنل منیجر) اور نچلی سطح پر مائکرو لیول پر مینج کیے جاتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان برانچ لیس بینکاری کو صارفین کے لیے محفوظ تر بنانے کے لیے برانچ لیس بینکاری کی سہولت فراہم کرنے والے ایجنٹس کی موثر نگرانی کا نظام وضع کررہا ہے جس کے تحت ملک بھر کے برانچ لیس بینکاری ایجنٹ کی مرکزی ڈیٹا بیس کی تیاری کا عمل جاری ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد اختر جاوید نے چائنا موبائل پاکستان(زونگ) کے تحت انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں منعقدہ میڈیا ورکشاپ کے موقع پر بتایا کہ پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کی موثر ریگولیشنز کے ذریعے صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کے لیے بینک لیڈ ماڈل اختیار کیا گیا ہے برانچ لیس بینکاری کی سہولت کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی بے قاعدگی یا بے ضابطگی کی ذمہ داری سہولت کی فراہمی میں شریک بینک پر عائد ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ برانچ لیس بینکاری کی سہولت برانچ موبائل فون کے علاوہ ریٹیل ایجنٹس، سپر اسٹورز، چین اسٹورز، فیول اسٹیشنز یا ملک بھر میں رسائی کے حامل کسی بھی مستحکم ڈسٹری بیوشن چینلز کے ذریعے انجام دی جاسکتی ہے جن میں پاکستان پوسٹ اور کوریئر کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں بینکوں کی شاخوں کی تعداد 11ہزار 500جبکہ برانچ لیس بینکاری فراہم کرنے والے ایجنٹس کی تعداد 42ہزار تک پہنچ چکی ہے ملک میں مالیاتی خدمات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ہر فرد کو مالیاتی خدمات کی فراہمی میں برانچ لیس بینکاری انقلابی کردار ادا کرسکتی ہے۔
پاکستان میں 80فیصد آبادی بینکاری کی بنیادی سہولتوں سے دور ہیں ہر 16ہزار افراد کے لیے بینک کی ایک برانچ موجود ہے جبکہ 4300افراد کے لیے ایک برانچ لیس بینکاری ایجنٹ موجود ہے جن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ موبائل فون کے ذریعے مالیاتی خدمات کا دائرہ ملک کے دور دراز علاقوں تک وسیع کیا جاسکتا ہے، پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کے لیے بینک لیڈ ماڈل کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے موثر ریگولیشنز کے ذریعے برانچ لیس بینکاری کو صارفین کے لیے محفوظ بنادیا ہے پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کا ماڈل بہت لچکدار ہے جس میں ایک نیٹ ورک اورایک بینک( ون ٹو ون) کے علاوہ ایک بینک کے ساتھ متعدد ڈسٹری بیوشن چینلز(ون ٹو مینی) اور متعدد بینکوں کے ساتھ متعدد ڈسٹری بیوشن چینلز( مینی ٹو مینی) کی طرز پر خدمات فراہم کی جاسکتی ہیں۔
پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کے لیے فی ٹرانزیکشن 15ہزار روپے فی فرد یومیہ حد مقرر کی گئی ہے ایک ماہ میں ایک فرد 25 ہزار روپے کا ٹرانزیکشن کرسکتا ہے جبکہ سال بھر کے لیے یہ حد ایک لاکھ 20ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ برانچ لیس بینکاری کی سہولت فراہم کرنے والا ہر ایجنٹ متعلقہ بینک میں اپنا اکائونٹ کھول کر اپنے ٹرن اوور کے مطابق رقم ڈپازٹ کرتا ہے اور اپنی ہی رقم کے عیوض صارفین کو خدمات فراہم کرتا ہے اس طرح ایجنٹ کی سطح پر کسی دھوکہ دہی کا امکان کم سے کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک ایشیا میں برانچ لیس بینکاری کے ریگولیشنز بنانے والا پہلا ملک ہے یہ ریگولیشنز 2008میں متعارف کرائی گئیں جبکہ 2011میں انہیں اپ ڈیٹ کیا گیا۔
ورکشاپ کے پہلے سیشن میں اسٹیٹ بینک کی ڈائریکٹر لبنیٰ فاروق نے بتایا کہ بینکاری میں رسک منجمنٹ سے متعلق عالمی سمجھوتے Basel Accords کے روڈ میپ کے تحت 2008میں اسٹیٹ بینک نے Basel II کی سفارشات اور ریگولیشنز کو اختیار کیا اور بینکوںکو بنیادی انفرااسٹرکچر بنانے کے لیے رہنمائی فراہم کی حال ہی میں Basel III سے متعلق ہدایات کا مسودہ بینکوں کی آرا جاننے کے لیے جاری کردیا گیا ہے Basel IIIکے تحت تبدیلیوں کے پہلے مرحلے پر رواں سال عمل کیا جائیگا انہوں نے بتایا کہ بینکنگ انڈسٹری میں کریڈٹ رسک، مارکیٹ رسک، آپریشنل رسک اور لکویڈیٹی رسک کو بڑے خدشات میں شمار کیا جاتا ہے جس میں لکویڈیٹی رسک سب سے اہم ہے یہ خدشات بورڈ آف ڈائریکٹرز یا ٹاپ منجمنٹ ، بزنس لائن (فنکشنل منیجر) اور نچلی سطح پر مائکرو لیول پر مینج کیے جاتے ہیں۔