افغانستان کو سی پیک میں شمولیت کی پیشکش

پاکستان افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے افغانستان میں پرامن صورتحال کا خواہشمند ہے

پاکستان افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے افغانستان میں پرامن صورتحال کا خواہشمند ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور چین نے اقتصادی راہداری میں افغانستان کو شامل ہونے کی پیشکش کر دی جب کہ فریقین کا باہمی روابط کو فروغ دینے، ون بیلٹ ون روڈ کے تحت باہمی فوائد کے حصول سمیت فریقین کا بلاتفریق دہشت گردی کے خلاف کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق ہوگیا۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ کوئی بھی ملک اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔اجلاس میں سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور ڈی جی چین ڈیسک عائشہ عباس نے بھی شرکت کی۔

بلاشبہ پاک چین پیشکش کا سی پیک کے علاوہ افغان طالبان کو اس بات کی اہمیت اور مقصدیت سے آگاہ کرنا بھی اہم ہے کہ وہ امن عمل کا حصہ بننے میں تاخیر نہ کریں، جنگجوئی اور دہشتگردی کے واقعات نے خطے کو جن نامساعد حالات کا اسیر بنالیا ہے اس میں طالبان کی افغان سرزمین پر متحاربانہ سرگرمیوں، کابل کوخود کش حملوں اور اعصابی جنگ میں نڈھال کرنے اور افغان حکومت کی رٹ کے خاتمہ کی مسلسل کوششوں سے نتیجہ میں ہلاکت خیزی کی جوہولناک صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کا تقاضہ ہے کہ افغانستان پاکستان اور چین کی گزارشات پر سنجیدگی سے غور وفکر کرے،اس لیے کہ امن اور خیر سگالی ہی خطے کے مفاد میں ہے اور جنگ سے صرف دہشتگردی کو سر اٹھانے کا موقع ملتا رہے گا۔

روس میں ہونے والے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں صدر پیوتن نے اگرچہ امریکا کو کریڈٹ دیا ہے کہ وہ نہ ہوتا تو افغانستان کے حالات مزید خراب ہوتے، لیکن روس امریکا تعلقات میں گراوٹ اور انحطاط کا جو منظر نامہ ہے اس میں افغانستان کی معروضیت کا سوال خود امریکا ، بھارت اور افغانستان کے اسٹرٹیجکل تکون کی مخاصمانہ جہت کے لیے سوالیہ نشان ہے، یہ ملک چاہیں تو سی پیک میں شمولیت اختیار کرکے دہشتگردی کے سیل رواں کو بند کرنے میں بریک تھرو کرسکتے ہیں مگر پاکستان کے خلاف محاذ بنانے سے گریز کا مشورہ وہ ماننے پر تیار نہیں، اب جب کہ افغان وزیر خارجہ بھی اجلاس میں شریک ہوئے تو امید کی جانی چاہیے کہ افغان انداز نظر میں تبدیلی آئے گی نیز بھارت اور امریکا بیجنگ اجلاس کے مثبت پیغام کی تفہیم میں غلطی نہیں کریں گے اور نہ ہی افغان حکام کے لیے ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی پاؤں کی زنجیر بنے گی، خطے میں امن کے لیے پوری دنیا افغانستان کی حمایت کررہی ہے اورعالمی ضمیر کشمیر اور فلسطین تنازع کے بعد اب افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔


دفتر خارجہ کے مطابق چین میں ہونے والے پہلے سہ فریقی اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ کے بارے میں جاری کردہ تمام تفصیلات بتائی گئی ہیں جس کے تحت وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس میں پاکستان کی نمایندگی وزیر خارجہ خواجہ آصف، افغانستان کی جانب سے افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی جب کہ وانگ ژی نے چین کی نمایندگی کی۔ مشاورتی اجلاس میں اقتصادی تعاون، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سمیت افغان امن عمل اور تینوں ممالک کے درمیان تعلقات پر تبادلہ خیال ہوا جس میں سی پیک میں افغانستان کو شامل کرنے پر غور کرتے ہوئے افغان حکومت و طالبان کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس میں افغان امن عمل، اقتصادی تعاون، سی پیک اور باہمی دلچسپی کے امور پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تینوں ممالک افغانستان کی قیادت میں وسیع تر مفاہمتی عمل کی معاونت کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے افغان طالبان کو مفاہمتی عمل میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں، مفاہمت کے حوالے سے علاقائی اور عالمی کوششوں کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔ سہ فریقی اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں ،فریقین نے باہمی روابط کو فروغ دینے، ون بیلٹ ون روڈ کے تحت باہمی فوائد کے حصول سمیت فریقین کا بلاتفریق دہشت گردی کے خلاف کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

اجلاس میں پاکستان اور افغانستان نے اجلاس کی میزبانی پر چین کا شکریہ اداکیا۔ تینوں ممالک نے افغانستان کی قیادت میں وسیع تر مفاہمتی عمل کی معاونت کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مفاہمت کے حوالے سے علاقائی اور عالمی کوششوں کو بھرپور سپورٹ کیا جائے گا۔ سہ فریقی مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ کے دوران وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ مستقبل کی ترقی و امن ہم سب کے مفاد میں ہے، ہماری سرحدیں ملتی ہیں اس لیے امن ہمارا مشترکہ مشن ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے افغانستان میں پرامن صورتحال کا خواہشمند ہے ۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ افغان صدر اشرف غنی بیجنگ اجلاس کو اس سیاق وسباق سے الگ رکھیں جو امریکا ، بھارت کا پاکستان کو ہدف بنانے سے متعلق ہے۔پاکستان امن عمل کا اہم کردار ہے اسے یہ کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔اور سی پیک اسی امن عمل کا جزو لاینفک ہے۔
Load Next Story