عشق بیچارہ نہ زاہد ہے نہ ملا نہ حکیم
دریا میں رہ کر مگرمچھوں سے بیر رکھنا بھی آسان نہیں ہے
barq@email.com
ISTANBUL:
آج ہم بڑے دکھی ہو رہے ہیں کہ ہم نے اپنی ایک غلطی سے اپنے ایک نہایت ہی مخلص دوست کو ناراض کر لیا ہے بلکہ ہم نے حرکت ہی ایسی کی ہے کہ اور بھی بہت سارے دوست جو ہمارا کل سرمایہ ہیں ناراض ہو ئے ہوں گے، پر کیا کریں بندہ بشر ہے بھول چوک تو ہو ہی جاتی ہے اور انسان غلطیوں کے ساتھ ساتھ مجبوریوں کا '' پتلا'' بھی تو ہے۔
در اصل پچھلے دنوں ہم نے ایک نہایت ہی ناپسندیدہ شخص کی تعریف کی ہے جو ہماری مجبوری تھی اس پر اس مخلص دوست نے کہا ہے کہ کم از کم تم سے ایسی توقع نہیں تھی بلکہ ایک طرح سے ''بروٹس یو ٹو'' سے کہا ہے جو بالکل صحیح ہے ۔ اپنی غلطی سر آنکھوں پر مانتے ہوئے ہم اس دوست کو اور اس جیسے اور بھی بہت سارے دوستوں کو ایک کہانی سنانا چاہتے ہیں بلکہ کہانی نہیں ایک مستند حقیقہ ہے ۔
ایک مرحوم پیر صاحب تھے جو ایک سیاسی جماعت کے بہت بڑے لیڈر بھی تھے سیاسی جماعت تو جیسے تیسے ہے آپ سب جانتے ہیں لیکن ان پیر صاحب کے مرید بھی خاصے کی چیز ہوتے ہیں ،آپ ان کو کسی بھی چیز کا واسطہ دیں نہیں مانیں گے لیکن اگر پیر صاحب کا نام لیا تو مشکل سے مشکل ناجائز سے ناجائز اور خطرناک سے خطرناک کام پر بھی فوراً تیار ہو جائیں گے، پیری ان کے لیے سب کچھ ہوتی ہے۔پیر صاحب مرحوم نے سنا کہ فلاں گاؤں میں ایک مولانا نے ان کے بارے میں ایک لطیفہ چھوڑا ہے ۔ لطیفہ کچھ یوں تھا کہ بقول مولانا کہ جب ازل میں اللہ تعالیٰ مجھے دنیا میں بھیج رہا تھا تو میں نے گزارش کی کہ دنیا بڑی خراب جگہ ہے مجھے نہ ہی بھیجیں تو بہتر ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جانا تو تمہیں پڑے گا کہ یہی مقدر ہے۔ تب میں نے استدعا کی کہ ٹھیک ہے حکم الٰہی سر آنکھوں پر لیکن اتنی سی گزارش ہے کہ چاہے مجھے کچھ بھی بنا کر بھیج دیجیے لیکن ایک تو ایسی سیاسی جماعت بنا کر مت بھیجئے اور دوسرے فلاں پیر صاحب کا مرید بنا کر کیونکہ یہ دونوں مجھے سخت ناپسند ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے میری استدعا قبول کرتے ہوئے کہ یہ دونوں ہی بناکر تمہیں نہیں بھیجوں گا کیونکہ یہ دونوں مجھے بھی پسند نہیں ہیں۔
یہ چٹکلہ اڑتے اڑتے کسی نہ کسی طرح پیر صاحب تک پہنچا۔ ایک دن اچانک پیر صاحب سیدھے اس مولانا کی مسجد میں اچانک پہنچ گئے۔ پیر صاحب انتہائی دبنگ آدمی بھی تھے اس لیے مولانا گھبرا گئے اور یہ دیکھ کر تو ان کے ہاتھوں پیروں کے سارے طوطے بٹیر اڑ گئے کہ پیر صاحب نے ان کے گرد بازو حمائل کر تے ہوئے فرمائش کی کہ وہ لطیفہ مجھے بزبان خود سنائیں۔
مولانا شش و پنج میں تھے لیکن پیر صاحب نے حوصلہ افزائی کی تو آمادہ ہوئے۔ لطیفہ سناتے ہوئے جب اس کلائمکس پر پہنچے کہ خدا نے فرمایا کہ یہ دونوں مجھے بھی پسند نہیں ہیں تو پیر صاحب بہت ہنسے پھر مولانا کے کان کے پاس منہ لے جا کر سرگوشی کی مولانا مجھے بھی یہ دونوں ہی پسند نہیں ہیں، پر کیا کروں پھنس چکا ہوں۔ تو ہمارا بھی اپنے ان ناراض ہونے والے اور آیندہ ناراضگی کا امکان رکھنے والے دوستوں سے یہی کہنا ہے کہ اس قسم کے لوگ ہمیں بھی پسند نہیں ہیں لیکن کیا کر سکتے ہیں دریا میں رہ کر مگرمچھوں سے بیر رکھنا بھی آسان نہیں ہے
یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
ہماری تو اب یہ مجبوری ہے کہ اس عمر میں کوئی نیا کام یا پیشہ اختیار بھی نہیں کر سکتے ہیں ورنہ اب تک بھاگ چکے ہوتے گویا ۔
ہوئے ہیں پاؤں پہلے ہی نبرد عشق میں زخمی
نہ ٹھرا جائے ہے مجھ سے نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے
بوڑھے طوطے کچھ نیا سیکھ بھی تو نہیں سکتے۔ ایک اور حقیقہ یاد آرہا ہے ایک خان نے کسی مولانا سے پوچھا کہ میرے لیے کوئی ایسا مسٔلہ نکال لو کہ '' روزے '' سے جان چھوٹ جائے۔ مولانا نے کہا ایسا کوئی مسٔلہ نہیں روزے فرض ہیں اور تمہیں رکھنا پڑیں گے۔لیکن کچھ روز بعد اس مولانا نے سنا کہ ایک اور مولانا نے جو اس سے سینئر تھا بلکہ اس کے اساتذہ میں سے تھا ۔ خان کو '' روزے '' سے چھوٹ دلادی ہے۔ چھوٹا مولانا اس بڑے مولانا کے پاس گیا کہ آخر آپ نے کہاں سے اس خان کے لیے روزوں سے چھوٹ کا مسٔلہ نکال کر بتا دیا ہے ۔
بڑے مولانا مسکرا کر بولے دیکھو میں نے کوئی مسٔلہ وسلہ چھوٹ کا نہیں نکالا ہے مجھے معلوم ہے کہ مذکورہ خان شرابی ہے جواری ہے عیاش ہے قاتل ہے حرام خور ہے ایسا کوئی شرعی عیب نہیں جو اس کے اندر موجود نہیں، نماز تو کیا اسے کلمہ پڑھنا بھی نہیں آتا صرف روزے رکھ رہا تھا تو میں نے کہا کہ مت رکھو۔ اس میں اور ہے ہی کیا جو خوامخواہ روزے رکھ کر رمضان کی توہین کرے، اسی خیال سے میں نے دوسرے اعمال کی طرح روزوں سے بھی آزاد کر دیا ہے۔ اس لیے ہم بھی اپنے ان روٹھے ہوئے دوست سے کہیں گے کہ ہماری تھوڑی سے تعریف سے اس کاکیا بگڑنے والا ہے ایسے لوگ بلیک میلنگ کی بلیک منی لے کر اتنی کالک اپنے ہاتھوں چہروں اور لباس پر تھوپ چکے ہیں کہ ہمارے دو چار چھینٹوں سے کمی کے بجائے اور بھی سیاہ ہونے کا امکان زیادہ ہے۔
زقست ازلی چہرۂ سیاہ بختاب
بہ شست و شوئی نہ گردد سپید ایں مثل است
بلکہ اگر آپ نے نئے دور کے لیے اور جو ان مگرمچھوں کے بارے میں تفصیلات جان لیں تو ان پرانے مگرمچھوں کو بخش دیں گے ان میں ایسے ایسے بلا خور بھی ہیں جو بیک وقت سب کچھ نگل رہے ہیں اور اونٹ کی طرح دونوں جبڑوں سے چباتے ہیں۔ ہم نے پشاور سے بھی ایک دو ایسے نایاب اور ترقی دادہ قسم کے '' تحفے '' اسلام آباد بھیجے ہوئے ہیں جو بیک وقت ستو بھی کھا رہے ہیں اور سیٹیاں بھی بجا رہے ہیں حالانکہ پشتو کا ایک شعر ہے کہ جس کا مفہوم ہے کہ کالے توت مت کھا تیرا سفید منہ کالا ہو جائے گا اور ستو کھاتے ہوئے سیٹیاں مت بجا۔ علامہ اقبال نے بھی کہا ہے کہ مٹی مت کھا تیرا رنگ پیلا پڑ جائے گا لیکن ان کو اپنا پیلا رنگ بھی غازے سے سرخ کرنا آتا ہے ؎
عقل عیار ہے سوبھیس بنا لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ زاہد ہے نہ ملا نہ حکیم
آج ہم بڑے دکھی ہو رہے ہیں کہ ہم نے اپنی ایک غلطی سے اپنے ایک نہایت ہی مخلص دوست کو ناراض کر لیا ہے بلکہ ہم نے حرکت ہی ایسی کی ہے کہ اور بھی بہت سارے دوست جو ہمارا کل سرمایہ ہیں ناراض ہو ئے ہوں گے، پر کیا کریں بندہ بشر ہے بھول چوک تو ہو ہی جاتی ہے اور انسان غلطیوں کے ساتھ ساتھ مجبوریوں کا '' پتلا'' بھی تو ہے۔
در اصل پچھلے دنوں ہم نے ایک نہایت ہی ناپسندیدہ شخص کی تعریف کی ہے جو ہماری مجبوری تھی اس پر اس مخلص دوست نے کہا ہے کہ کم از کم تم سے ایسی توقع نہیں تھی بلکہ ایک طرح سے ''بروٹس یو ٹو'' سے کہا ہے جو بالکل صحیح ہے ۔ اپنی غلطی سر آنکھوں پر مانتے ہوئے ہم اس دوست کو اور اس جیسے اور بھی بہت سارے دوستوں کو ایک کہانی سنانا چاہتے ہیں بلکہ کہانی نہیں ایک مستند حقیقہ ہے ۔
ایک مرحوم پیر صاحب تھے جو ایک سیاسی جماعت کے بہت بڑے لیڈر بھی تھے سیاسی جماعت تو جیسے تیسے ہے آپ سب جانتے ہیں لیکن ان پیر صاحب کے مرید بھی خاصے کی چیز ہوتے ہیں ،آپ ان کو کسی بھی چیز کا واسطہ دیں نہیں مانیں گے لیکن اگر پیر صاحب کا نام لیا تو مشکل سے مشکل ناجائز سے ناجائز اور خطرناک سے خطرناک کام پر بھی فوراً تیار ہو جائیں گے، پیری ان کے لیے سب کچھ ہوتی ہے۔پیر صاحب مرحوم نے سنا کہ فلاں گاؤں میں ایک مولانا نے ان کے بارے میں ایک لطیفہ چھوڑا ہے ۔ لطیفہ کچھ یوں تھا کہ بقول مولانا کہ جب ازل میں اللہ تعالیٰ مجھے دنیا میں بھیج رہا تھا تو میں نے گزارش کی کہ دنیا بڑی خراب جگہ ہے مجھے نہ ہی بھیجیں تو بہتر ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جانا تو تمہیں پڑے گا کہ یہی مقدر ہے۔ تب میں نے استدعا کی کہ ٹھیک ہے حکم الٰہی سر آنکھوں پر لیکن اتنی سی گزارش ہے کہ چاہے مجھے کچھ بھی بنا کر بھیج دیجیے لیکن ایک تو ایسی سیاسی جماعت بنا کر مت بھیجئے اور دوسرے فلاں پیر صاحب کا مرید بنا کر کیونکہ یہ دونوں مجھے سخت ناپسند ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے میری استدعا قبول کرتے ہوئے کہ یہ دونوں ہی بناکر تمہیں نہیں بھیجوں گا کیونکہ یہ دونوں مجھے بھی پسند نہیں ہیں۔
یہ چٹکلہ اڑتے اڑتے کسی نہ کسی طرح پیر صاحب تک پہنچا۔ ایک دن اچانک پیر صاحب سیدھے اس مولانا کی مسجد میں اچانک پہنچ گئے۔ پیر صاحب انتہائی دبنگ آدمی بھی تھے اس لیے مولانا گھبرا گئے اور یہ دیکھ کر تو ان کے ہاتھوں پیروں کے سارے طوطے بٹیر اڑ گئے کہ پیر صاحب نے ان کے گرد بازو حمائل کر تے ہوئے فرمائش کی کہ وہ لطیفہ مجھے بزبان خود سنائیں۔
مولانا شش و پنج میں تھے لیکن پیر صاحب نے حوصلہ افزائی کی تو آمادہ ہوئے۔ لطیفہ سناتے ہوئے جب اس کلائمکس پر پہنچے کہ خدا نے فرمایا کہ یہ دونوں مجھے بھی پسند نہیں ہیں تو پیر صاحب بہت ہنسے پھر مولانا کے کان کے پاس منہ لے جا کر سرگوشی کی مولانا مجھے بھی یہ دونوں ہی پسند نہیں ہیں، پر کیا کروں پھنس چکا ہوں۔ تو ہمارا بھی اپنے ان ناراض ہونے والے اور آیندہ ناراضگی کا امکان رکھنے والے دوستوں سے یہی کہنا ہے کہ اس قسم کے لوگ ہمیں بھی پسند نہیں ہیں لیکن کیا کر سکتے ہیں دریا میں رہ کر مگرمچھوں سے بیر رکھنا بھی آسان نہیں ہے
یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
ہماری تو اب یہ مجبوری ہے کہ اس عمر میں کوئی نیا کام یا پیشہ اختیار بھی نہیں کر سکتے ہیں ورنہ اب تک بھاگ چکے ہوتے گویا ۔
ہوئے ہیں پاؤں پہلے ہی نبرد عشق میں زخمی
نہ ٹھرا جائے ہے مجھ سے نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے
بوڑھے طوطے کچھ نیا سیکھ بھی تو نہیں سکتے۔ ایک اور حقیقہ یاد آرہا ہے ایک خان نے کسی مولانا سے پوچھا کہ میرے لیے کوئی ایسا مسٔلہ نکال لو کہ '' روزے '' سے جان چھوٹ جائے۔ مولانا نے کہا ایسا کوئی مسٔلہ نہیں روزے فرض ہیں اور تمہیں رکھنا پڑیں گے۔لیکن کچھ روز بعد اس مولانا نے سنا کہ ایک اور مولانا نے جو اس سے سینئر تھا بلکہ اس کے اساتذہ میں سے تھا ۔ خان کو '' روزے '' سے چھوٹ دلادی ہے۔ چھوٹا مولانا اس بڑے مولانا کے پاس گیا کہ آخر آپ نے کہاں سے اس خان کے لیے روزوں سے چھوٹ کا مسٔلہ نکال کر بتا دیا ہے ۔
بڑے مولانا مسکرا کر بولے دیکھو میں نے کوئی مسٔلہ وسلہ چھوٹ کا نہیں نکالا ہے مجھے معلوم ہے کہ مذکورہ خان شرابی ہے جواری ہے عیاش ہے قاتل ہے حرام خور ہے ایسا کوئی شرعی عیب نہیں جو اس کے اندر موجود نہیں، نماز تو کیا اسے کلمہ پڑھنا بھی نہیں آتا صرف روزے رکھ رہا تھا تو میں نے کہا کہ مت رکھو۔ اس میں اور ہے ہی کیا جو خوامخواہ روزے رکھ کر رمضان کی توہین کرے، اسی خیال سے میں نے دوسرے اعمال کی طرح روزوں سے بھی آزاد کر دیا ہے۔ اس لیے ہم بھی اپنے ان روٹھے ہوئے دوست سے کہیں گے کہ ہماری تھوڑی سے تعریف سے اس کاکیا بگڑنے والا ہے ایسے لوگ بلیک میلنگ کی بلیک منی لے کر اتنی کالک اپنے ہاتھوں چہروں اور لباس پر تھوپ چکے ہیں کہ ہمارے دو چار چھینٹوں سے کمی کے بجائے اور بھی سیاہ ہونے کا امکان زیادہ ہے۔
زقست ازلی چہرۂ سیاہ بختاب
بہ شست و شوئی نہ گردد سپید ایں مثل است
بلکہ اگر آپ نے نئے دور کے لیے اور جو ان مگرمچھوں کے بارے میں تفصیلات جان لیں تو ان پرانے مگرمچھوں کو بخش دیں گے ان میں ایسے ایسے بلا خور بھی ہیں جو بیک وقت سب کچھ نگل رہے ہیں اور اونٹ کی طرح دونوں جبڑوں سے چباتے ہیں۔ ہم نے پشاور سے بھی ایک دو ایسے نایاب اور ترقی دادہ قسم کے '' تحفے '' اسلام آباد بھیجے ہوئے ہیں جو بیک وقت ستو بھی کھا رہے ہیں اور سیٹیاں بھی بجا رہے ہیں حالانکہ پشتو کا ایک شعر ہے کہ جس کا مفہوم ہے کہ کالے توت مت کھا تیرا سفید منہ کالا ہو جائے گا اور ستو کھاتے ہوئے سیٹیاں مت بجا۔ علامہ اقبال نے بھی کہا ہے کہ مٹی مت کھا تیرا رنگ پیلا پڑ جائے گا لیکن ان کو اپنا پیلا رنگ بھی غازے سے سرخ کرنا آتا ہے ؎
عقل عیار ہے سوبھیس بنا لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ زاہد ہے نہ ملا نہ حکیم