لیاری گینگ وار میں اب تک ساڑھے 3ہزارافراد قتل ہوچکے

ارشدپپوکے والدنے عبدالرحمن بلوچ کے ایک کروڑہڑپ کیے جس پرگینگ وار شروع ہوئی.

ارشدپپوکے والدنے عبدالرحمن بلوچ کے ایک کروڑہڑپ کیے جس پرگینگ وار شروع ہوئی. فوٹو اے ایف پی

ارشد پپو کے والد نے عبد الرحمٰن بلوچ کی ایک کروڑروپے کی رقم ہڑپ کرلی تھی جس کے بعد لیاری کے جرائم پیشہ افرادکے2گروپوں میں تقسیم ہوگئے اورگینگ وارکاسلسلہ شروع ہوگیا اور اب تک لیاری کے سماجی رہنماؤں سمیت3ہزار 500 سے زائدافراد قتل کیے جاچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ارشدپپوکے والد لال محمدعرف حاجی لالواورعبد الرحمٰن بلوچ عرف ڈکیت کے والددادمحمد عرف حاجی دادل آپس میں بھائیوں کی طرح تھے،داد محمد عرف دادل کے انتقال کے بعد حاجی لالو نے عبد الرحمٰن بلوچ کے سر پردست شفقت رکھاتھا اور اسے اپنے بچوں کی طرح سمجھنے لگا،اس دوران1988 میں لیاری میں بابوڈکیت کاعروج تھااس وقت کے وزیر اعلیٰ جام صادق کے ایک قریبی ساتھی سلمان بروہی نے عبد الرحمٰن بلوچ کے چچا فتح بلوچ کوقتل کر دیا تھابعد ازاں حاجی لالو نے رؤف ناظم اوردیگر نے فتح بلوچ کابدلہ لینے کیلیے عزیز بھٹی کے علاقے میں سلمان بروہی کو قتل کر دیاجس پر عبد الرحمٰن حاجی لالو کی اورزیادہ عزت کرنے لگا۔

1993 میں پیپلز پارٹی کی حکومت آگئی اورموجودہ ایس پی اطہر رشید بٹ کو ایس ایچ او کلاکوٹ لگا دیا گیا جس نے منشیات فروخت کرنے کی کھلی چھوٹ دی جس پررحمن بلوچ نے خوب پیسے کمائے تاہم وہ رقم حاجی لالوکے پاس رکھواتا گیا، اسی دوران گولیمارکے سیٹھ یوسف کی ایک بیٹی سے محمدیاسر عرفات اور ایک بیٹی سے عبد الرحمٰن بلوچ نے شادی کرلی تھی،1996 میں حساس ادارے کی ایک ٹیم نے یاسرعرفات اور عبد الرحمٰن کو پکڑکرپولیس کے حوالے کر دیا،حاجی لالو نے یاسرعرفات کی ضمانت کروا لی جس پر عبد الرحمٰن نے حاجی لالو سے کہا کہ تمھارے پاس میرے ساڑھے3لاکھ امریکی ڈالررکھے ہیں میری بھی ضمانت کروا دوتاہم اس کی نیت بدل گئی اوراس نے کہا کہ تمھاری میرے پاس کوئی رقم نہیں۔




اس دوران کراچی آپریشن چل رہا تھا اور عبدالرحمٰن کوبھی ماورائے عدالت قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرلی گئی تھی تاہم رحمٰن بلوچ کے گھروالے اس وقت کے گورنر محمود اے ہارون کے پاس چلے گئے اوران کی مداخلت پراس کی جان بخشی ہوگئی اور رحمٰن بلوچ تاریخوں پرعدالت آتا رہا۔ 1997 میں عبد الرحمٰن عدالت آیا تو اپنے ساتھ ڈیوٹی پر مامور کورٹ پولیس اہلکاروں کواعتماد میں لے کر گھر چلا گیا اورفرارہوگیا۔رحمٰن بلوچ نے لیاری میں اپنی اجارہ داری قائم کرلی اورسندھ بلوچستان روٹ پرچلنے والی ٹرانسپورٹ سے بھتہ وصول کرنے کا انچارج عذیربلوچ کے والدفیض محمدعرف مامافیضوکوسونپ دیا۔

ماما فیضوخودبھی ٹرانسپورٹرتھااس کی ٹھٹھہ لائن پر بسیں چلتی تھیں،ماما فیضو نے فقیرمحمد دراخان روڈ کشتی چوک پر اپنادفتر بنایا،حاجی لالو ، ارشد پپو ، محمد یاسر عرفات وحید اور دیگر نے مل کرماما فیضوکو چاکیواڑہ کے علاقے سنگو لائن سے تاوان کے لیے اغوا کر لیا اس دوران ارشدپپونے اپنے گروپ کی کمان سمبھال لی تھی،حاجی لالونے عذیربلوچ کے والدفیض محمدعرف ماما فیضوکوماڑی پور روڈ وزیرمینشن ریلوے اسٹیشن پرلے جا کرقتل کر دیا، ماما فیضو لیاری کاسماجی رہنما بھی تھا جس پر وہاں کے رہائشیوں نے شدیداحتجاج کیا۔

پولیس پردبائو بڑھاتوموجودہ ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم جواس وقت اے سی ایل سی شریف آبادمیں تعینات تھے حاجی لالوکوفون کرکے اپنے پاس بلایاجس پر حاجی لالو وہاں پہنچ گیا،چوہدری اسلم نے حاجی لالوکوایس ایچ او چاکیواڑہ بہاالدین بابر کے حوالے کر دیاجس پراس نے حاجی لالو کو چاکیواڑہ تھانے میں ایک کلوہیروئن ، ایک کلاشنکوف اورایک موٹر سائیکل چوری کے مقدمے میں گرفتار کر لیا،والد کی گرفتاری پرارشدپپومشتعل ہوگیااوردونوں گروپ ایک دوسرے کے ساتھی مارتے رہے اس طرح ساڑھے 3 ہزار سے زائد افراد مارے گئے۔
Load Next Story