زرداری اپنے بندے کو نگراں وزیراعظم بنوا لیں گےشیخ رشید

راجہ رینٹل اور زرداری جیسے حکمران ملنا قوم کی بدقسمتی ہے، الیکشن خونیں ہوں گے.

جمہوری نظام اور سیاستدان بانجھ ہیں، فوج کو سازش کے تحت بدنام کیا گیا،تکرار میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ حکمرانوں کے پیٹ نہیں بھرے ہیں اسلئے انہوں نے حکومت کے آخری چند گھنٹوں میں بھی لوٹ مار کی۔

اس قوم کی بدقسمتی ہے کہ اسے آصف زرداری اور راجہ رینٹل جیسے صدر اور وزیراعظم ملے، ایک دن میں الیکشن ہو جائیں گے مگر یہ خونیں ہونگے، انتخابات کے بعد یہ لوگ جمہوریت کو سنبھالا نہیں دے سکیں گے نہ ہی ملک کو چلا سکیں گے، راجہ رینٹل نے جس دن سچ بولا وہ اسکی سیاسی زندگی کا آخری دن ہو گا، لوگوں نے واپڈا کے ایک لائن مین کو تو سریس لیا ہے مگر وزیراعظم کو سریس نہیں لیا۔ ''ایکسپریس نیوز'' کے پروگرام ''تکرار'' کے میزبان عمران خان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقتدار کے آخری چند گھنٹوں میں تقرریوں کے جتنے پروانوں پر دستخط کئے ہیں اگلے روز انہوں نے اپنی انگلیوں کا مساج ضرور کرایا ہو گا۔

انہوں نے تو خاکروب کی نوکری بھی بیچی ہے، جیب کترا جیب کترا ہی رہتا ہے، انہوں نے پانچ سال حرام سے کمایا ہوا پیسہ لگا کر اپنا امیج بنایا ہے، انکے اوپر کا حصہ خالی ہے، یہ دکاندار تھے جو حکمران بن گئے مگر دکانداری نہ چھوڑی۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اس لوٹ مار اور بندر بانٹ کا نوٹس لیں مگر وہ بھی کیا کریں گے انہوں نے پرویز اشرف کیخلاف فیصلہ دیا مگر کچھ نہ ہوا، میری اطلاع کے مطابق آخری روز حکومتی اداروں میں جو کچھ ہوا نیب نے محکموں کو نوٹس بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔




انہوں نے کہا کہ عوام نجات دھندہ کے منتظر تھے مگر کسی رہنما نے باہر نکلنے کی کال نہیں دی، جمہوری نظام اور سیاستدان بانجھ ہیں، یہ کسی کارکن کو اوپر نہیں لاتے صرف اپنے بچوں کو ہی آگے لاتے ہیں، انہیں صرف تعریف کرنیوالے میراثیوں کی ضرورت ہے۔ فوج کو بھی ایک سازش کے تحت بدنام کیا گیا کہ اسکا خوف ہی جاتا رہا، اسکی پھنکار بھی ختم ہو گئی۔

یہ پیپلز پارٹی بھٹو کی نہیں آصف زرداری کی پارٹی ہے، آصف زرداری نے نواز شریف سمیت ہر شخص کو استعمال کیا اور گالیاں ملنے کے باوجود شرمندہ نہ ہوئے اور نہ ہی کسی چینل کو چھیڑا، مگر اگلے دور میں ایسا نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ زرداری اپنے بندے کو نگران وزیراعظم بنوا لیں گے، نوازشریف کو پتہ ہے کہ اگر معاملے کو طول دیا گیا تو پھر الیکشن کمیشن اسکا فیصلہ کریگا۔ طالبان کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ وہ ایک حقیقت ہیں اور پورے ملک میں پھیل چکے ہیں۔
Load Next Story