شاہ زیب قتل کیس نیا سرکاری وکیل ملزم کے زیر اثر ہے والدین

عینی شاہدین اور گواہوں کو پریشان کیا جارہا ہے، چیف جسٹس نوٹس لیں، پریس کانفرنس

عینی شاہدین اور گواہوں کو پریشان کیا جارہا ہے، چیف جسٹس نوٹس لیں، پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل

مقتول شاہ زیب کے والدین نے کہا ہے کہ شاہ زیب قتل کیس میں دوران سماعت سرکاری وکیل کو اچانک تبدیل کیا جانا غیر قانونی اور غیر آئینی عمل ہے۔

سرکاری وکیل کو تبدیل کیے جانے کے نوٹیفکیشن کے خلاف آج سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی جائیگی ۔ مقتول شاہ زیب کی والدہ امبرین نے اپنے شوہر ڈی ایس پی اورنگزیب خان اور وکیل صلاح الدین پنہور کے ہمراہ کراچی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سر کاری وکیل شاہد محمود آرائیں کو تبدیل کرنے کا مقصد صرف کیس کو طول دینے کی کوشش ہے،جس وقت سرکاری وکیل کو تبدیل کیا گیا اس وقت نہ جج کو علم تھا اور نہ ہی سر کاری وکیل کو علم تھا، انھوں نے کہا کہ نئے سرکاری وکیل مظفر سولنگی پر انھیں بالکل اعتماد نہیں ہے اور نہ ہی وہ شاہ زیب قتل کیس کی فائل ان کے حوالے کرسکتے ہیں۔




انھوں نے الزام عائد کیا کہ نئے سر کاری وکیل ملزم شاہ رخ جتوئی کے گائوں کے ہیں اور ان کے زیر اثر اور زیر کفالت ہیں انھوں نے کہا سرکاری وکیل کو تبدیل کے جانے کے حوالے سے DIG سائوتھ زون کو بھی باقاعدہ طور پر تحریری خط لکھ کر آگاہ کردیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ شاہ زیب قتل کیس کے عینی شاہدین اور دیگر گواہ شدید دبائو میں ہیں اور انھیں مختلف طریقے سے پریشان کیا جارہا ہے، شاہ زیب قتل کیس کی سماعت کے دوران بھی عدالت کے احاطے میں ملزمان کے کئی ساتھی موجود ہوتے ہیں جس کی وجہ سے عدالت کے باہر بھگڈر مچ جاتی ہے۔

مقتول شاہ زیب کے والد ڈی ایس پی اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ان پر بھی مسلسل دبائو ڈالا جا رہا ہے اور ان کے تبادلے کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کا تبادلہ ڈرائیونگ لائسنس برانچ کلفٹن سے کر بھی دیا جاتا ہے تو ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا انھوں نے چیف جسٹس آف پاکستان نے مطالبہ کیا ہے وہ شاہ زیب قتل کیس میں اچانک سرکاری وکیل کو تبدیل کیے جانے اور ان کے گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے نوٹس لیں۔

Recommended Stories

Load Next Story