سیاست دان مثبت روش کی نوید دیں
ملک کو تحمل، کشادہ نظری اور رواداری کی ضرورت ہے۔
غیر منتخب حکومت کا حصہ بننے اور شب خون مارنے کی خواہش رکھنے والوں کو ناکامی ہوگی۔ فوٹو: فائل
PESHAWAR:
ملکی سیاسی منظر نامہ میں بظاہر تناؤ کی شدت اور کیفیت کم نہیں ہوئی، روایتی سیاسی جوڑ توڑ ، رابطوں میں تیزی ، بے نام سی کشیدگی، محاذ آرائی ، الزام اور جوابی الزام سمیت قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
سیاسی جماعتوں کے سامنے اہداف اور سیاسی فتح کے امکانات اور غلط فیصلوں سے پسپائی کے خدشات بھی سر اٹھا سکتے ہیں تاہم ایک مثبت سیاسی روش بھی دیکھنے میں آئی ہے جو مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندیوں کے ترمیمی بل کی سینیٹ سے حالیہ منظوری اور فاٹا انضمام کی کوششوں میں بریک تھرو سے متعلق ہے ، مزید برآں ادھر ڈرامائی طور پر شہباز شریف اہم اجلاسوں میں شرکت کے لیے اچانک سعودی عرب پہنچ گئے،وہ عمرہ بھی کریں گے ۔
ان کے لیے سعودی حکومت نے خصوصی طیارہ بھیجا تھا۔ بلاشبہ فاٹا انضمام کا معاملہ بھی مبصرین اور حکومتی حلقوں کے مطابق ''لب بام رہ گیا''ہے اور سیاست دانوں سے اجتماعی بصیرت، افہام وتفہیم اور دور اندیشی کا متقاضی ہے، توقع کی جارہی ہے کہ اگر جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ، قبائلی عمائدین اور گرینڈ جرگہ نے اس مسئلہ کے حل پر اتفاق کرلیا تو جمہوری حکومت ایک سنگ میل کو عبور کرنے کا دعویٰ کرسکتی ہے مگر ابھی بھی سرد موسم کے باوجود سیاسی درجہ حرارت گرم تر ہے۔
لہذا صائب سیاسی حکمت عملی یہی ہے کہ تمام مین اسٹریم سیاسی جماعتیں سیاسی معاملات کے حل میں اپنی ترجیحات واضح کریں ، جمہوریت کے غیر مشروط تسلسل ، پارلیمنٹ کی بالادستی اور ریاستی اداروں کے مابین خیر سگالی، اعتماد سازی اور مثالی ہم آہنگی پر استوار کریں تاکہ سیاسی کشمکش کا خاتمہ ہو اور سیاسی جماعتیں اپنی پوری توجہ آیندہ انتخابات کے شفاف اور منصفانہ انعقاد پر مرکوز رکھیں، پارٹیاں اپنا منشور تیار کریں ۔ افواہوں ،خود ساختہ خبروں اور خواہشات کے اس غلط تاثر کو مٹائیں کہ نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی ملک میں کوئی انہونی ہونے والی ہے،کوئی ''دست غیب'' سینیٹ کے الیکشن اورعام الیکشن کے بروقت انعقاد کے التوا کا طبل بجانے کو بے تاب ہے۔
ایسی چہ میگوئیاں جمہوری عمل کے لیے زہر قاتل ہیں جب کہ عدلیہ اور عسکری قیادت جمہوریت کی حمایت کا عہد کرچکی ہیں چنانچہ یکسوئی سے قوم کو یہ اطمینان دلایا جائے کہ کوئی طالع آزمائی یا ماورائے آئین عبوری سیٹ اپ کی آمد اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سیاست دان خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی نہ ماریں۔ میڈیا کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کے ترمیمی بل کی منظوری سے الیکشن کے انعقاد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے، غیر منتخب حکومت کا حصہ بننے اور شب خون مارنے کی خواہش رکھنے والوں کو ناکامی ہوگی۔
سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ اب کوئی این آر او ہوا تو اس کا مقابلہ کرینگے جب کہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عدلیہ سے ہمیں انصاف نہیں ملا۔ گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کی 10ویں برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پی پی رہنماؤں نے کہا کہ بی بی شہید نے آمرانہ قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، وہ مثالی لیڈر تھیں، اس موقع پر بے نظیر کے قتل کی سازش میں ملوث کرداروں میں سابق صدر پرویز مشرف کا نام بھی لیا گیا ، مشرف کا فوری رد عمل بھی میڈیا کی زینت بنا۔
ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا کہ نواز شریف اور عمران دونوں لاڈلے ہیں جب کہ بلاول کا مقابلہ دو لاڈلوں سے ہو گا۔دریں اثنا کرپشن کیسز اور احتسابی عمل بھی جاری ہے، پاناما اور حدیبیہ کیس کے بعد قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ نے گزشتہ روزسابق وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف ریفرنس دائر کرنے جب کہ سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، سابق وزیر قانون بابر اعوان، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی اور دیگرکے خلاف انویسٹی گیشنز کی منظوری دیدی ہے۔
ن لیگ کے صدر نواز شریف نے جاتی امرا میں منعقدہ مشاورتی اجلاس میں کہا کہ آئین کی حکمرانی اور ووٹ کے تقدس کا پیغام ایک ایک فرد تک پہنچاؤں گا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر طاہرالقادری کے ساتھ پیپلز پارٹی کے کھڑے ہونے کا وعدہ کیا ہے جس کے تحت پیپلزپارٹی کا وفد طاہرالقادری کی اے پی سی میں شرکت کرے گا۔
واضح رہے پیپلزپارٹی اور عوامی اتحاد جی ڈی اے میں اتحادی رہ چکے ہیں، یہ بات قابل ذکر ہے کہ طاہرالقادری آیندہ چند روز میں ایک شو ڈاؤن کا الٹی میٹم دے چکے ہیں۔دریں اثنا متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے گلگت بلتستان میں گزشتہ 7 روز سے جاری احتجاج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا فیصلہ کیے بغیر ان پر ظالمانہ ٹیکس عائد کرنا صریحاً اخلاقی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے ، ادھر گلگت بلتستان اصلاحات کی سفارشات کے آیندہ ہفتہ کابینہ سے منظوری کے فیصلہ کی اطلاعات ہیں۔
بہر حال تحمل، کشادہ نظری اور رواداری کی ملک کو ضرورت ہے۔ زمینی حقائق اور ملکی داخلی صورتحال سیاست دوراں سے غیر معمولی سنجیدگی کا تقاضہ کرتی ہے۔ ملک کسی قسم کے تشدد کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ کسی دانا کا قول ہے کہ ''ایک اچھا لیڈر اپنے خلاف الزامات کا زیادہ بوجھ شیئر کرتا اور اپنے سیاسی کارناموں کا کم ہی کریڈٹ لیتا ہے۔''
ملکی سیاسی منظر نامہ میں بظاہر تناؤ کی شدت اور کیفیت کم نہیں ہوئی، روایتی سیاسی جوڑ توڑ ، رابطوں میں تیزی ، بے نام سی کشیدگی، محاذ آرائی ، الزام اور جوابی الزام سمیت قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
سیاسی جماعتوں کے سامنے اہداف اور سیاسی فتح کے امکانات اور غلط فیصلوں سے پسپائی کے خدشات بھی سر اٹھا سکتے ہیں تاہم ایک مثبت سیاسی روش بھی دیکھنے میں آئی ہے جو مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندیوں کے ترمیمی بل کی سینیٹ سے حالیہ منظوری اور فاٹا انضمام کی کوششوں میں بریک تھرو سے متعلق ہے ، مزید برآں ادھر ڈرامائی طور پر شہباز شریف اہم اجلاسوں میں شرکت کے لیے اچانک سعودی عرب پہنچ گئے،وہ عمرہ بھی کریں گے ۔
ان کے لیے سعودی حکومت نے خصوصی طیارہ بھیجا تھا۔ بلاشبہ فاٹا انضمام کا معاملہ بھی مبصرین اور حکومتی حلقوں کے مطابق ''لب بام رہ گیا''ہے اور سیاست دانوں سے اجتماعی بصیرت، افہام وتفہیم اور دور اندیشی کا متقاضی ہے، توقع کی جارہی ہے کہ اگر جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ، قبائلی عمائدین اور گرینڈ جرگہ نے اس مسئلہ کے حل پر اتفاق کرلیا تو جمہوری حکومت ایک سنگ میل کو عبور کرنے کا دعویٰ کرسکتی ہے مگر ابھی بھی سرد موسم کے باوجود سیاسی درجہ حرارت گرم تر ہے۔
لہذا صائب سیاسی حکمت عملی یہی ہے کہ تمام مین اسٹریم سیاسی جماعتیں سیاسی معاملات کے حل میں اپنی ترجیحات واضح کریں ، جمہوریت کے غیر مشروط تسلسل ، پارلیمنٹ کی بالادستی اور ریاستی اداروں کے مابین خیر سگالی، اعتماد سازی اور مثالی ہم آہنگی پر استوار کریں تاکہ سیاسی کشمکش کا خاتمہ ہو اور سیاسی جماعتیں اپنی پوری توجہ آیندہ انتخابات کے شفاف اور منصفانہ انعقاد پر مرکوز رکھیں، پارٹیاں اپنا منشور تیار کریں ۔ افواہوں ،خود ساختہ خبروں اور خواہشات کے اس غلط تاثر کو مٹائیں کہ نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی ملک میں کوئی انہونی ہونے والی ہے،کوئی ''دست غیب'' سینیٹ کے الیکشن اورعام الیکشن کے بروقت انعقاد کے التوا کا طبل بجانے کو بے تاب ہے۔
ایسی چہ میگوئیاں جمہوری عمل کے لیے زہر قاتل ہیں جب کہ عدلیہ اور عسکری قیادت جمہوریت کی حمایت کا عہد کرچکی ہیں چنانچہ یکسوئی سے قوم کو یہ اطمینان دلایا جائے کہ کوئی طالع آزمائی یا ماورائے آئین عبوری سیٹ اپ کی آمد اس وقت تک ممکن نہیں جب تک سیاست دان خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی نہ ماریں۔ میڈیا کے مطابق نئی حلقہ بندیوں کے ترمیمی بل کی منظوری سے الیکشن کے انعقاد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے، غیر منتخب حکومت کا حصہ بننے اور شب خون مارنے کی خواہش رکھنے والوں کو ناکامی ہوگی۔
سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ اب کوئی این آر او ہوا تو اس کا مقابلہ کرینگے جب کہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عدلیہ سے ہمیں انصاف نہیں ملا۔ گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کی 10ویں برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پی پی رہنماؤں نے کہا کہ بی بی شہید نے آمرانہ قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، وہ مثالی لیڈر تھیں، اس موقع پر بے نظیر کے قتل کی سازش میں ملوث کرداروں میں سابق صدر پرویز مشرف کا نام بھی لیا گیا ، مشرف کا فوری رد عمل بھی میڈیا کی زینت بنا۔
ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا کہ نواز شریف اور عمران دونوں لاڈلے ہیں جب کہ بلاول کا مقابلہ دو لاڈلوں سے ہو گا۔دریں اثنا کرپشن کیسز اور احتسابی عمل بھی جاری ہے، پاناما اور حدیبیہ کیس کے بعد قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ نے گزشتہ روزسابق وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف ریفرنس دائر کرنے جب کہ سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، سابق وزیر قانون بابر اعوان، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی اور دیگرکے خلاف انویسٹی گیشنز کی منظوری دیدی ہے۔
ن لیگ کے صدر نواز شریف نے جاتی امرا میں منعقدہ مشاورتی اجلاس میں کہا کہ آئین کی حکمرانی اور ووٹ کے تقدس کا پیغام ایک ایک فرد تک پہنچاؤں گا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر طاہرالقادری کے ساتھ پیپلز پارٹی کے کھڑے ہونے کا وعدہ کیا ہے جس کے تحت پیپلزپارٹی کا وفد طاہرالقادری کی اے پی سی میں شرکت کرے گا۔
واضح رہے پیپلزپارٹی اور عوامی اتحاد جی ڈی اے میں اتحادی رہ چکے ہیں، یہ بات قابل ذکر ہے کہ طاہرالقادری آیندہ چند روز میں ایک شو ڈاؤن کا الٹی میٹم دے چکے ہیں۔دریں اثنا متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے گلگت بلتستان میں گزشتہ 7 روز سے جاری احتجاج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا فیصلہ کیے بغیر ان پر ظالمانہ ٹیکس عائد کرنا صریحاً اخلاقی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے ، ادھر گلگت بلتستان اصلاحات کی سفارشات کے آیندہ ہفتہ کابینہ سے منظوری کے فیصلہ کی اطلاعات ہیں۔
بہر حال تحمل، کشادہ نظری اور رواداری کی ملک کو ضرورت ہے۔ زمینی حقائق اور ملکی داخلی صورتحال سیاست دوراں سے غیر معمولی سنجیدگی کا تقاضہ کرتی ہے۔ ملک کسی قسم کے تشدد کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ کسی دانا کا قول ہے کہ ''ایک اچھا لیڈر اپنے خلاف الزامات کا زیادہ بوجھ شیئر کرتا اور اپنے سیاسی کارناموں کا کم ہی کریڈٹ لیتا ہے۔''