خواجہ قرض پرست کی کہانی

قرض کے معاملے میں اس کا نظریہ غالب جیسا ہے کہ قرضہ ہو اور بہت ہو، کس شرح سود پر ہوں؟

barq@email.com

کیا ''پہلوان ''ملک ہے یہ نیا پاکستان بھی جب سے دیکھا ہے طرح طرح کی آفتوں، بلاؤں اور عفریتوں کو اس سے چمٹے ہوئے دیکھا ہے کوئی دانت گاڑھ رہا ہے ،کوئی ناخنوں سے کھرچ رہا ہے ،کوئی ڈریکولہ کی طرح دانت گاڑھے لبالب خون پی رہا ہے ،کوئی پیروں پر کلہاڑے مار رہا ہے، کوئی ہاتھ نیچے مروڑ رہا ہے، کوئی گرانے کی کوشش کر رہا ہے، کوئی گردن کو شکنجے میں لیے ہوئے ہے، جن کو قریب آنے کا موقع نہیں مل رہا ہے وہ دور ہی سے پتھر ڈیلے مار رہا ہے لیکن مجال ہے جو اس کو ذرا بھی ہلا سکے، اکھاڑ سکے یا گرا سکے ۔ بقول رحمن بابا

لکہ اونہ مستقیم پہ خپل مقام یم

کہ خزاں را باندی راشی کہ بھار

یعنی میں ایک پیڑ کی طرح اپنی جگہ سیدھا کھڑا ہوں چاہے خزاں آئے یا بہار ۔ اور یہاں تو طوفان آندھیاں، زلزلے، سونامیاں، نیامیاں، بدنامیاں ناجانے کیا کیا چلا آرہا ہے لیکن مجال ہے جو اس مرد آہن کے پیروں میں لغزش تک آئے

کیوں جل گیا نہ ، تاب رخ یار دیکھ کر

جلتا ہوں اپنی '' طاقت دیدار '' دیکھ کر

اس سب کچھ کے باوجود بھی اتنا دیالو اور سخی ہے کہ جو بھی آتا ہے یا جو بھی کلہاڑا کلہاڑی آتے ہیں خوشی خوشی اپنی لکڑی دے کر اسے دستہ بھی فراہم کرتا ہے، کہ لے تو بھی اپنے ارمان نکال لے کیا یاد کروگے کہ کس سخی داتا سے پالا پڑا تھا۔

کوئی اور ملک ہوتا تو اب تک جاکر مریخ یا عطارد وغیرہ کو فرار ہو چکا ہوتا اور اخباروں میں یہ بڑی بڑی سرخیاں جمتیں کہ ملزم بلکہ '' مجرم '' فرار ہونے میں کامیاب، کوئی پہاڑ ہوتا تو کسی سمندر میں جاغروب ہو چکا ہوتا بلکہ بھاگنے ہی کون دیتا کھڑے کھڑے ہی یاجوج ماجوج دیوار کی طرح چاٹ چکے ہوتے لیکن شاباش ہے اس آہنی فولادی اور مضبوط ملک کے حوصلے پر کہ ٹس سے مس تک نہیں ہوتا بلکہ مسلسل پکارے جا رہا ہے کہ ایک ستم اور سہی

مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سراڑ جائے

قاتل کو مگر وہ یہ کہے جائیں کہ ہاں اور

ویسے تو اور بھی ہر لحاظ سے ثابت قدم ہے لیکن قرض کے معاملے میں تو اس کا حوصلہ اتنا زیادہ ہے کہ اگر یہ ساری دنیا سے قرض لے اور اس کے ذمے ڈالے تو مجال ہے کہ اس کے ماتھے پر شکن تک آئے بلکہ سنا ہے کہ اس نے پورے '' گاؤں '' میں اعلان کیا ہوا ہے کہ جس کسی کو جس کام کے لیے جس بھی شرح سود پر قرضے کی ضرورت ہو وہ دل کھول کر میرے نام پر جتنا چاہے قرض لے سکتا ہے میں جانوں اور سود سمیت قرض، چاہے اس کے بدلے مجھے خود کو (گروی تو میں ہوں ) فروخت یا نیلام بھی کرنا پڑے تو میں سمجھوں گا ٹھکانے لگا سر مایۂ تن۔ چنانچہ گاؤں کے ہر کس و ناکس کو قرضے لینا کا ہوکا سا پڑ گیا۔


کوئی پختہ کرنے نالیاں اور کوئی تعمیر کرنے گلیاں کے لیے قرض لے رہا ہے تو کوئی شادی بیاہ اور ختنہ عقیقہ کے لیے۔ ایک وقت میں تو پاس پڑوس کے دیہات نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ کیوں نہ اس '' عزیز '' کا نام بدل کر قرضستان یا سودستان رکھا جائے لیکن خود اس مرد با وفا نے یہ تجویز رد کر دی کہ اس طرح کچھ '' خود نمائی ''کا شائبہ پید اہو سکتا ہے اور میں نیکی کر بلکہ قرض لے کر دریا میں ڈال کا قائل ہوں اس لیے میں '' مالی جمہوریہ سودی قرضستان '' کے بجائے اپنے نام سے ٹھیک ہوں اور خوش ہوں چنانچہ قرض قرض لیے جاتے رہے اور اس کے نام ہوتے رہے۔

سنا ہے ان دنوں اس کا بال بال بچہ بچہ اور رونگٹا رونگٹا قرضے میں جکڑا ہوا ہے بلکہ اگر آیندہ اس کے جسم پر کچھ بال بچے یا رونگٹے پیدا ہوں گے ان کے لیے بھی پیشگی قرضے لیے جا چکے ہیں اور سود نامے ان کے نام کیے جا چکے ہیں۔ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ یہ اتنے قرضے جو آتے ہیں وہ جاتے کہاں ہیں تو

سب کہاں کچھ '' نالہ وپل '' میں نمایاں ہو گئیں

قرض کی کیا صورتیں ہوں گی جو '' پنہاں '' ہو گئیں

قرض کے معاملے میں اس کا نظریہ غالب جیسا ہے کہ قرضہ ہو اور بہت ہو، کس شرح سود پر ہوں؟ یہ اس نے نہ کبھی سوچا ہے نہ پوچھا ہے بلکہ غالب سے بھی آگے بڑھ کر اس بیوی کا سا ہے جو چوڑیاں خریدنا چاہتی تھیں لیکن شوہر پہلے سے قرضے میں جکڑا ہوا تھا اس گو مگو سے اس نے سرجھٹک کر خود کو نکالتے ہوئے کہا کہ

سل پہ لالی پورے دا یو پرے د بنگڑو

یعنی ویسے بھی شوہر پر سو روپے چڑھے ہوئے ہیں یہ ایک اور چوڑیوں کا بھی سہی، اونٹ کو چھلنی کے وزن سے کیا فرق پڑ جائے گا۔ کبھی کبھی تو ہم ششدر رہ جاتے ہیں جب گاؤں میں کوئی نیا اسٹوپڈ منصوبہ دیکھتے ہیں کہ اس '' شخص '' کا دل کتنا بڑا ہے اور نہ جانے کس مٹی کا بنا ہوا ہے کہ قرضوں کا پہاڑ اس کے کاندھوں پر دھرا ہوا ہے اور یہ پھر بھی خوش خوش پھرتا ہے بلکہ گلی گلی آواز ے لگاتا ہے کہ ہے کوئی قرضہ دینے والے مجھے رادھا کو نچانا ہے اور اس کے لیے نومن تیل خریدنا ہے

آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے

مصروف نالہ ہائے '' قرض بار '' دیکھ کر

اس مرد قرض پسند کے حوصلے کا اندازہ اس سے لگائیں کہ پچھلے دنوں گاؤں کی ایک خاتون بے وقت فوت ہو گئیں تو اس کے لواحقین نے اس مرد قرض نواز سے جاکر کہا کہ مرحومہ ابھی بہت ساری نیکیاں کرنے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن بے وقت موت نے اس کے نیک ارادے پورے نہیں ہونے دیے ۔ویسے تو مرحومہ معصومہ کے اعمال نیک اور پھر شہادت کے عوض وہ جنت نشین ہی ہوں گی لیکن پھر بھی اگر پیچھے سے ثواب دارین کے کچھ پیکیج ارسال کیے جائیں تو بہشت میں مرحومہ کی آنکھیں اور اونچی ہو جائیں گی۔

اس لیے ہماری خواہش ہے کہ اس کے نام سے کچھ صدقات جاریہ کا اہتمام کیا جائے۔ یہ سنتے ہی مرد قرض آراء کی آنکھیں بھر آئیں ایک ایک آنکھ سے بیک وقت دو دو آنسو ٹپکاتے ہوئے بولا ، جاؤ میرے نام پر جتنا قرضہ اٹھا سکتے ہو کسی بھی شرح سود پر کیوں نہ اٹھاؤ اور مرحومہ کے ایصال ثواب کے منصوبے لانچ کردو ۔ چنانچہ پل بنائے گئے چاہ کھودے گئے، تالاب تعمیر کیے گئے اور مرحومہ کی روح کو ایصال ثواب پہنچانے کے منصوبے لانچ کیے گئے۔اب آپ خود ہی اندازہ لگائیے کہ یہ مرد '' قرض پرست '' کس حوصلے اور دل کا مالک ہے کہ زندے تو زندے مردے بھی اس کی دریا دلی سے مستفید ہو رہے ہیں۔
Load Next Story