ہوش اور اعتدال کی ضرورت ہے
عدلیہ پر تنقید قانون اور آئین کی حدود میں ہی ہونی چاہیے تاکہ ملک انارکی کی طرف نہ چلا جائے۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
KARACHI:
سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب عدلیہ کے فیصلوں کے خلاف تحریک عدل چلائیںگے۔ میاں برادران کے رقیب روسیاہ کی جماعت کا نام نامی اسم گرامی بھی تحریک انصاف ہے اور اس حوالے سے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ میاں صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
انھیں وزارت عظمیٰ اور ممبر قومی اسمبلی سے نا اہل قرار دے کر ان کے ''قومی ترقی'' کے پروگراموں میں ایسی کھنڈت ڈال دی ہے کہ ان کے لیے اب نہ جائے رفتن ہے نہ پائے ماندن۔ ایسی صورت میں بڑے سے بڑا مضبوط اعصاب کا مالک بھی ہاتھ پاؤں چھوڑ دیتا ہے لیکن آفرین ہے میاں صاحب پر کہ وہ مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے اس قدر جرأت کا اظہار کر رہے ہیں کہ جمہوریت کی عطا کردہ ''آزادی اظہار رائے'' اپنے استعمال پر حیرت سے منہ کھولے کھڑی ہے۔
قانون اور انصاف کی حرمت کو برقرار رکھنے کے لیے قانون کے پاسبانوں نے ایک سخت قانون بنایا ہے جسے ہم ''توہین عدالت'' کا قانون کہتے ہیں، یہ قانون اس قدر سخت اور بے لچک ہوتا ہے کہ اس کی زد میں خواہ شاہ آئے یا گدا بخشا نہیں جاتا۔ لیکن سابق وزیراعظم کس جرأت رندانہ کے ساتھ ''اظہار رائے'' کے جمہوری حق کو استعمال کررہے ہیں۔
میاں صاحب ہمیں ذاتی طور پر بہت پسند ہیں ان کی آواز کی نغمگی اورگفتگو کی شیرینی ایسی ہوتی ہے کہ بڑے سے بڑا رقیب روسیاہ رسوا ہے۔ میاں صاحب کا ایک جملہ ''مجھے کیوں نکالا؟'' اب اس قدر پاپولر ہوگیا ہے کہ بچے بچے کی زبان پر یہی سوالیہ جملہ چڑھا ہوا ہے۔ کم از کم اس حوالے سے میاں صاحب کی مقبولیت کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا حتیٰ کہ عمران خان بھی اپنی کرکٹ کی کپتانی کی مقبولیت کو بھی ''مجھے کیوں نکالا'' کی مقبولیت کے سامنے پیش نہیں کرسکتے۔
میاں صاحب ہی کیا بہت سارے لوگ عدلیہ کے بعض فیصلوں سے اختلاف کرتے ہیں کیونکہ جمہوریت نے عوام کو اختلاف کا حق دیا ہے لیکن اس حوالے سے کچھ اخلاقی بلکہ قانونی حدیں متعین کردی گئی ہیں جسے کراس کرنے والوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ سوائے موت کے وہ قیدی جن کی ساری اپیلیں مسترد ہوجاتی ہیں کسی قانون کی پرواہ اس لیے نہیں کرتے کہ انھیں پتا ہوتا ہے کہ وہ جس انجام سے دوچار ہیں اس سے انھیں کوئی قانون کوئی انصاف نہیں بچاسکتا یہ صورتحال مایوسی کی انتہا پر پیدا ہوتی ہے۔
میاں صاحب کے لیے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ ان کے ایک طرف کنواں ہے تو دوسری طرف کھائی ہے اور معاملہ اس قدر پیچیدہ ہے کہ گویم مشکل نہ گویم مشکل کی صورت حال سامنے ہے۔ عدلیہ اور قانون کو عموماً ہم معنی ہی سمجھاجاتا ہے لیکن بعض وقت سچویشن ایسی پیچیدہ ہوجاتی ہے کہ عدلیہ اور انصاف یعنی عدل کو الگ الگ کرنا پڑجاتا ہے۔
میاں صاحب عدل سے سخت نالاں ہیں لیکن مشکل یہ آن پڑی ہے کہ عدل کے مخرج عدلیہ کو عدل سے الگ کرنا پڑ رہا ہے۔ میاں صاحب عدل کے خلاف اپنا حق آزادی اظہار تو بھرپور طریقے سے استعمال کررہے ہیں لیکن ماہرین قانون جب ٹوکتے ہیں کہ آپ توہین کا بارڈر کراس کررہے ہیں تو میاں صاحب کا کوئی وزیر فوری بیان داغ دیتا ہے کہ ''میاں صاحب عدلیہ کا بہت احترام کرتے ہیں۔''
دنیا کے ہر ملک میں عدلیہ ہی ایک ایسا ادارہ ہے جو انصاف کے ذریعے ملک میں توازن برقرار رکھتا ہے اسی وجہ سے ہر ملک میں عدلیہ پر اعتماد کیا جاتا ہے اور اس کا احترام بھی کیا جاتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہماری عدلیہ ماضی میں بعض فیصلوں کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہی لیکن ماضی کے حوالے سے حال کی صورتحال کا موازنہ اس لیے درست نہیں کہ حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔
اسی طرح جمہوری حکومتوں میں فوجی مداخلت بھی عالمی سطح پر قابل مذمت سمجھی جاتی ہے لیکن پاکستان کی صورتحال اس حوالے سے اس لیے مختلف ہے کہ ہمارے سیاست دانوں پر خود سیاست دان ہی یہ الزام لگاتے ہیں کہ ''سیاست دان آمروں کی گود میں پل کر جوان ہوئے ہیں۔''
جمہوریت بلاشبہ سیاسی تاریخ کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے لیکن جس طرح غیر سیاسی عناصر کو آئین اور قانون کی حد میں رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے اسی طرح اہل سیاست کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ قانون اور آئین کی حد میں رہیں تاکہ غیر جمہوری قوتوں کو مداخلت کا موقع نہ مل سکے۔ عدلیہ پر تنقید قانون اور آئین کی حدود میں ہی ہونی چاہیے تاکہ ملک انارکی کی طرف نہ چلا جائے۔ پاکستان اس وقت چاروں طرف سے خطرات کی زد میں ہے، امریکا اس وقت دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان پر غیر معمولی دباؤ ڈال رہا ہے ایسے وقت میں ہر ادارے کا قانون اور آئین کی حد میں رہنا ضروری ہے۔
2018 کے انتخابات کے حوالے سے خدشات اور تشویش کی گرم بازاری کو سینیٹ میں ہمارے سپہ سالار کی آمد اور بریفنگ نے ٹھنڈا کردیا ہے بلکہ اس آمد سے اہل سیاست کی جان میں جان آئی ہے اور محترم اہل سیاست 2018 کے الیکشن کی تیاری فرما رہے ہیں اس وقت لیلائے سیاست کے تین مجنوں میدان میں ڈنڈ پیلتے نظر آرہے ہیں۔ ہر ایک دوسرے سے کہہ رہا ہے کہ ''بھیا تو کیتی؟ اور بے چارے عوام منہ کھولے حیرت سے جنگ کی ان تیاریوں کو دیکھ رہے ہیں۔ اب انھیں آہستہ آہستہ یہ احساس ہورہا ہے کہ جمہوریت کی اس جنگ کے اصل اور با اختیار فریق تو وہ خود ہیں اور صورتحال کا المیہ یہ ہے کہ اصل اور با اختیار فریق (عوام) کی حالت ''بھیا تو کیتی'' والی بناکر رکھ دی گئی ہے۔
ہم کو تاریخ سے تھوڑی بہت شد و بد ہے، 1989 میں فرانس میں بھی یہی کچھ ہورہاتھا اور فرانس کی اشرافیہ نے عوام کو ''بھیا تو کیتی'' بناکر رکھ دیا تھا۔ بھیوں کو آخر کار جلال آہی گیا اور وہ اصحاب کہف کی نیند بیدار ہوئے اور پھر کیا ہوا؟
فرانس کی سڑکیں بدمعاشیہ کے خون سے سرخ ہوگئیں بعد میں جو کچھ ہوا اس پر تاریخ دان غور کررہے ہیں اور غور کرتے رہیںگے لیکن فرانس کے عوام نے دنیا کو یہ ضرور باور کرادیا کہ ''ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے'' آج کل توہین عدالت کے حوالے سے بھی اہل دانش یہ کہہ رہے ہیں کہ ''ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے'' خدا نہ کرے ہمارے ملک میں بھی انقلاب فرانس کی تاریخ دہرائی جائے اور اشرافیہ شکوہ کرے کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔
سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب عدلیہ کے فیصلوں کے خلاف تحریک عدل چلائیںگے۔ میاں برادران کے رقیب روسیاہ کی جماعت کا نام نامی اسم گرامی بھی تحریک انصاف ہے اور اس حوالے سے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ میاں صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔
انھیں وزارت عظمیٰ اور ممبر قومی اسمبلی سے نا اہل قرار دے کر ان کے ''قومی ترقی'' کے پروگراموں میں ایسی کھنڈت ڈال دی ہے کہ ان کے لیے اب نہ جائے رفتن ہے نہ پائے ماندن۔ ایسی صورت میں بڑے سے بڑا مضبوط اعصاب کا مالک بھی ہاتھ پاؤں چھوڑ دیتا ہے لیکن آفرین ہے میاں صاحب پر کہ وہ مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے اس قدر جرأت کا اظہار کر رہے ہیں کہ جمہوریت کی عطا کردہ ''آزادی اظہار رائے'' اپنے استعمال پر حیرت سے منہ کھولے کھڑی ہے۔
قانون اور انصاف کی حرمت کو برقرار رکھنے کے لیے قانون کے پاسبانوں نے ایک سخت قانون بنایا ہے جسے ہم ''توہین عدالت'' کا قانون کہتے ہیں، یہ قانون اس قدر سخت اور بے لچک ہوتا ہے کہ اس کی زد میں خواہ شاہ آئے یا گدا بخشا نہیں جاتا۔ لیکن سابق وزیراعظم کس جرأت رندانہ کے ساتھ ''اظہار رائے'' کے جمہوری حق کو استعمال کررہے ہیں۔
میاں صاحب ہمیں ذاتی طور پر بہت پسند ہیں ان کی آواز کی نغمگی اورگفتگو کی شیرینی ایسی ہوتی ہے کہ بڑے سے بڑا رقیب روسیاہ رسوا ہے۔ میاں صاحب کا ایک جملہ ''مجھے کیوں نکالا؟'' اب اس قدر پاپولر ہوگیا ہے کہ بچے بچے کی زبان پر یہی سوالیہ جملہ چڑھا ہوا ہے۔ کم از کم اس حوالے سے میاں صاحب کی مقبولیت کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا حتیٰ کہ عمران خان بھی اپنی کرکٹ کی کپتانی کی مقبولیت کو بھی ''مجھے کیوں نکالا'' کی مقبولیت کے سامنے پیش نہیں کرسکتے۔
میاں صاحب ہی کیا بہت سارے لوگ عدلیہ کے بعض فیصلوں سے اختلاف کرتے ہیں کیونکہ جمہوریت نے عوام کو اختلاف کا حق دیا ہے لیکن اس حوالے سے کچھ اخلاقی بلکہ قانونی حدیں متعین کردی گئی ہیں جسے کراس کرنے والوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ سوائے موت کے وہ قیدی جن کی ساری اپیلیں مسترد ہوجاتی ہیں کسی قانون کی پرواہ اس لیے نہیں کرتے کہ انھیں پتا ہوتا ہے کہ وہ جس انجام سے دوچار ہیں اس سے انھیں کوئی قانون کوئی انصاف نہیں بچاسکتا یہ صورتحال مایوسی کی انتہا پر پیدا ہوتی ہے۔
میاں صاحب کے لیے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ ان کے ایک طرف کنواں ہے تو دوسری طرف کھائی ہے اور معاملہ اس قدر پیچیدہ ہے کہ گویم مشکل نہ گویم مشکل کی صورت حال سامنے ہے۔ عدلیہ اور قانون کو عموماً ہم معنی ہی سمجھاجاتا ہے لیکن بعض وقت سچویشن ایسی پیچیدہ ہوجاتی ہے کہ عدلیہ اور انصاف یعنی عدل کو الگ الگ کرنا پڑجاتا ہے۔
میاں صاحب عدل سے سخت نالاں ہیں لیکن مشکل یہ آن پڑی ہے کہ عدل کے مخرج عدلیہ کو عدل سے الگ کرنا پڑ رہا ہے۔ میاں صاحب عدل کے خلاف اپنا حق آزادی اظہار تو بھرپور طریقے سے استعمال کررہے ہیں لیکن ماہرین قانون جب ٹوکتے ہیں کہ آپ توہین کا بارڈر کراس کررہے ہیں تو میاں صاحب کا کوئی وزیر فوری بیان داغ دیتا ہے کہ ''میاں صاحب عدلیہ کا بہت احترام کرتے ہیں۔''
دنیا کے ہر ملک میں عدلیہ ہی ایک ایسا ادارہ ہے جو انصاف کے ذریعے ملک میں توازن برقرار رکھتا ہے اسی وجہ سے ہر ملک میں عدلیہ پر اعتماد کیا جاتا ہے اور اس کا احترام بھی کیا جاتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہماری عدلیہ ماضی میں بعض فیصلوں کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہی لیکن ماضی کے حوالے سے حال کی صورتحال کا موازنہ اس لیے درست نہیں کہ حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔
اسی طرح جمہوری حکومتوں میں فوجی مداخلت بھی عالمی سطح پر قابل مذمت سمجھی جاتی ہے لیکن پاکستان کی صورتحال اس حوالے سے اس لیے مختلف ہے کہ ہمارے سیاست دانوں پر خود سیاست دان ہی یہ الزام لگاتے ہیں کہ ''سیاست دان آمروں کی گود میں پل کر جوان ہوئے ہیں۔''
جمہوریت بلاشبہ سیاسی تاریخ کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے لیکن جس طرح غیر سیاسی عناصر کو آئین اور قانون کی حد میں رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے اسی طرح اہل سیاست کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ قانون اور آئین کی حد میں رہیں تاکہ غیر جمہوری قوتوں کو مداخلت کا موقع نہ مل سکے۔ عدلیہ پر تنقید قانون اور آئین کی حدود میں ہی ہونی چاہیے تاکہ ملک انارکی کی طرف نہ چلا جائے۔ پاکستان اس وقت چاروں طرف سے خطرات کی زد میں ہے، امریکا اس وقت دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان پر غیر معمولی دباؤ ڈال رہا ہے ایسے وقت میں ہر ادارے کا قانون اور آئین کی حد میں رہنا ضروری ہے۔
2018 کے انتخابات کے حوالے سے خدشات اور تشویش کی گرم بازاری کو سینیٹ میں ہمارے سپہ سالار کی آمد اور بریفنگ نے ٹھنڈا کردیا ہے بلکہ اس آمد سے اہل سیاست کی جان میں جان آئی ہے اور محترم اہل سیاست 2018 کے الیکشن کی تیاری فرما رہے ہیں اس وقت لیلائے سیاست کے تین مجنوں میدان میں ڈنڈ پیلتے نظر آرہے ہیں۔ ہر ایک دوسرے سے کہہ رہا ہے کہ ''بھیا تو کیتی؟ اور بے چارے عوام منہ کھولے حیرت سے جنگ کی ان تیاریوں کو دیکھ رہے ہیں۔ اب انھیں آہستہ آہستہ یہ احساس ہورہا ہے کہ جمہوریت کی اس جنگ کے اصل اور با اختیار فریق تو وہ خود ہیں اور صورتحال کا المیہ یہ ہے کہ اصل اور با اختیار فریق (عوام) کی حالت ''بھیا تو کیتی'' والی بناکر رکھ دی گئی ہے۔
ہم کو تاریخ سے تھوڑی بہت شد و بد ہے، 1989 میں فرانس میں بھی یہی کچھ ہورہاتھا اور فرانس کی اشرافیہ نے عوام کو ''بھیا تو کیتی'' بناکر رکھ دیا تھا۔ بھیوں کو آخر کار جلال آہی گیا اور وہ اصحاب کہف کی نیند بیدار ہوئے اور پھر کیا ہوا؟
فرانس کی سڑکیں بدمعاشیہ کے خون سے سرخ ہوگئیں بعد میں جو کچھ ہوا اس پر تاریخ دان غور کررہے ہیں اور غور کرتے رہیںگے لیکن فرانس کے عوام نے دنیا کو یہ ضرور باور کرادیا کہ ''ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے'' آج کل توہین عدالت کے حوالے سے بھی اہل دانش یہ کہہ رہے ہیں کہ ''ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے'' خدا نہ کرے ہمارے ملک میں بھی انقلاب فرانس کی تاریخ دہرائی جائے اور اشرافیہ شکوہ کرے کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔