خصوصی ٹاک شوز کی ضرورت
عوام کو معاشی پسماندگی سے نکالنے کے لیے ان میں سیاسی اور سماجی شعور کے ساتھ ساتھ فکری ترقی پیدا کرنا ضروری ہے۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
ہمارے معاشرے کو پسماندہ معاشرہ کہا جاتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ نو آبادیاتی نظام سے آزادی کے بعد نو آزاد ملکوں میں جو حکمران طبقات برسر اقتدار آئے، ان کی ترجیحات میں عوام میں تعلیم کا فروغ شامل ہی نہ تھا۔ پاکستان کا شمار بھی ان ہی ملکوں میں ہوتا ہے جہاں شرح تعلیم افسوسناک حد تک کم ہے۔
اس سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کا مفاد اسی میں ہے کہ عوام تعلیم سے محروم رہیں۔ پسماندگی دو طرح کی ہوتی ہے ایک اقتصادی پسماندگی دوسرے معاشرتی پسماندگی جن معاشروں سے اقتصادی پسماندگی ختم ہونا مشکل ہوتا ہے کیونکہ معاشرتی پسماندگی ایسے طرح طرح کے توہمات پیدا کرتی ہیں جس کی وجہ سے عوام اقتصادی پسماندگی کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں۔ اقتصادی پسماندگی عوام پر لادنے والوں کے خلاف ڈنڈا نہیں اٹھاتے، بدقسمتی سے پاکستان ان ملکوں میں سر فہرست ہے جہاں غربت، بھوک، افلاس، بیکاری، بیماری کو قسمت سے جوڑا جاتا ہے اور عوام صبر وقناعت کے حصار میں قید ہوکر رہ جاتے ہیں۔
عام تعلیم سے محروم انسان تو اقتصادی اور ذہنی پسماندگی کا شکار رہتا ہی ہے۔ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ تعلیم یافتہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی فکری پسماندگی کا شکار رہتے ہیں کیونکہ جدید علوم کو ہمارے نظریاتی رہنما اعتقاد میں رخنہ ڈالنے والی تعلیم کہتے ہیں، اس تعینات کا نتیجہ یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ عوام خاص طور پر نوجوان جدید علوم سے تہی دامن رہتے ہیں۔ یہ مدارس میں جدید علوم کا داخلہ سختی سے بند کردیاگیا ہے اور نوجوان جدید تعلیم سے محروم ہیں۔
اکیسویں صدی تحقیق اور انکشافات کی صدی ہے آج دنیا سائنس ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں جو حیرت انگیز ترقی کررہی ہے سو سال پہلے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ اس حوالے سے بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا تعلیم کا شعبہ جو عوام میں فکری پسماندگی دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے انتہائی مایوس کن کردار ادا کررہا ہے۔
اس حوالے سے پہلا المیہ یہ ہے کہ عوام کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے والا شعبہ تعلیم کا ایک بڑا حصہ سرکاری تعلیمی اداروں پر مشتمل ہے اور سرکاری تعلیمی ادارے خواہ پرائمری ہوں، سیکنڈری ہوں، ہائرسیکنڈری یا اعلیٰ تعلیمی ادارے نوجوانوں کو تعلیم کے حصول میں قطعی معاون ثابت نہیں ہوتے کیونکہ سرکاری اداروں میں معیار تعلیم اس قدر پست ہوتا ہے کہ ان اداروں میں تعلیم پانے والے جدیدعلوم سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔
چونکہ ہمارے سماج کی طرح ہمارا تعلیمی نظام بھی دہرا ہے اس لیے وہی طبقات جدید تعلیمی اداروں میں جدید علوم حاصل کرتے ہیں جو ان تعلیمی اداروں کی مہنگی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ یہ صرف طبقاتی تضاد نہیں بلکہ عوام کے خلاف ایک گہری سازش ہے جس کا مقصد عام آدمی کو ان اعلیٰ عہدوں تک جانے سے روکنا ہے جو ملک کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس حوالے سے سول سروس کو لے لیں اس شعبے تک عام آدمی کا پہنچنا ناممکن بنادیاگیا ہے اس سازش کا مقصد ملک کے نظم و نسق کے اداروں سے غریب عوام کو دور رکھنا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اور بہت ساری خرابیاں موجود ہیں لیکن ان ملکوں میں تعلیم اور علاج فری ہے اور ہر شہری تعلیم اور علاج مفت حاصل کرسکتا ہے۔
ذہنی پسماندگی کو دور کرنے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب اور شاعری بھی بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں اس شعبے کا حال ''ہر چند کہ ہیں نہیں ہیں'' کا سا ہوکر رہ گیا ہے معاشرتی اور فکری پسماندگی کو دور کرنے میں میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا اہم ترین کردار ادا کرسکتا ہے لیکن ہماری اشرافیہ نے میڈیا کو اس حوالے سے عضو معطل بناکر رکھ دیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں ٹاک شوز ایک ایسا حصہ ہے جسے آکر فکری پسماندگی، معاشرتی پسماندگی دور کرنے میں استعمال کیا جائے تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں لیکن اس میڈیم کو سیاسی محاذ آرائی کا ایسا گڑھ بناکر رکھ دیا گیا ہے اور اس میڈیم کو الزامات اور جوابی الزامات کی گھٹیا سیاست میں اس طرح ملوث کردیاگیا ہے کہ عام آدمی اس میڈیا سے صرف ذہنی انتشار کا شکار ہوسکتا ہے اس میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں۔
یہ سیاسی جماعت میں ایسے منجھے ہوئے ماہر پروپیگنڈا بازوں کے گروہ موجود ہیں جو اپنا سارا وقت حریف جماعت کے ماہرانہ انداز میں جوابات دیتے ہیں ہر روز دن اور رات اس بے ہودہ اور سازشانہ مقابلہ بازی کی وجہ سے عوام میں ذہنی پسماندگی کم ہونے کے بجائے ذہنی انتشار اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ انتخابی حوالے سے کوئی درست فیصلہ کرنے سے معذور ہوکر رہ جاتے ہیں اس سازش کا ایک مقصد یہ نظر آتا ہے کہ عوام اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرنے سے معذور ہوجائیں اور پروپیگنڈے کی بنیاد پر اپنا ووٹ استعمال کرکے اپنے لیے مشکلات پیدا کرلیں۔
اس کلچرکے عام ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ میڈیا ہاؤسز کے کرتا دھرتا صحافتی اقدار کو پس پشت ڈال کر حصول دولت کے بھنور میں اس طرح پھنس گئے ہیں کہ انھوں نے صحافتی ذمے داریوں کو بالکل بھلا کر رکھ دیا ہے اب تو الزام اور جوابی الزام سے ٹاک شوز اس قدر گندے ہوگئے ہیں کہ کوئی پڑھا لکھا شریف انسان ان بے ہودہ مقابلہ بازیوں سے گھن کرنے لگا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرے کو معاشرتی، معاشی اور فکری پسماندگی سے نکالنے کے خواہش مند اس کام بلکہ اہم قومی ذمے داری کو پورا کرنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کریں؟
ہمارے ملک میں 80 فی صد سے زیادہ لوگ معاشی پسماندگی کا شکار ہیں عوام کو معاشی پسماندگی سے نکالنے کے لیے ان میں سیاسی اور سماجی شعور کے ساتھ ساتھ فکری ترقی پیدا کرنا ضروری ہے۔
اس کے لیے میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ پرنٹ میڈیا اور ٹاک شوز سیاسی سماجی شعور پیدا کرنے کے بجائے عوام کے دماغوں کو سیاسی گندگی سے بد بودار بنارہے ہیں اس صورتحال سے نکلنے کا ایک موثر طریقہ یہ ہے کہ ٹاک شوز میں دانشوروں، مفکروں، تعلیمی ماہروں، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں کو بلایاجائے اس کے ساتھ ساتھ ماہرین ارض، خلائی ماہرین، سائنسی اسکالروں سمیت جدید علوم کے ماہرین کو ٹاک شوز میں بلایا جائے اگر الزامی اور جوابی الزامی ٹاک شوز میں ان کے لیے گنجائش نہیں نکلتی تو خصوصی ٹاک شوز کا اہتمام کیا جائے تاکہ ہم معاشرتی اور فکری پسماندگی سے نکل کر جدید دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چل سکیں۔
اس سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کا مفاد اسی میں ہے کہ عوام تعلیم سے محروم رہیں۔ پسماندگی دو طرح کی ہوتی ہے ایک اقتصادی پسماندگی دوسرے معاشرتی پسماندگی جن معاشروں سے اقتصادی پسماندگی ختم ہونا مشکل ہوتا ہے کیونکہ معاشرتی پسماندگی ایسے طرح طرح کے توہمات پیدا کرتی ہیں جس کی وجہ سے عوام اقتصادی پسماندگی کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں۔ اقتصادی پسماندگی عوام پر لادنے والوں کے خلاف ڈنڈا نہیں اٹھاتے، بدقسمتی سے پاکستان ان ملکوں میں سر فہرست ہے جہاں غربت، بھوک، افلاس، بیکاری، بیماری کو قسمت سے جوڑا جاتا ہے اور عوام صبر وقناعت کے حصار میں قید ہوکر رہ جاتے ہیں۔
عام تعلیم سے محروم انسان تو اقتصادی اور ذہنی پسماندگی کا شکار رہتا ہی ہے۔ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ تعلیم یافتہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی فکری پسماندگی کا شکار رہتے ہیں کیونکہ جدید علوم کو ہمارے نظریاتی رہنما اعتقاد میں رخنہ ڈالنے والی تعلیم کہتے ہیں، اس تعینات کا نتیجہ یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ عوام خاص طور پر نوجوان جدید علوم سے تہی دامن رہتے ہیں۔ یہ مدارس میں جدید علوم کا داخلہ سختی سے بند کردیاگیا ہے اور نوجوان جدید تعلیم سے محروم ہیں۔
اکیسویں صدی تحقیق اور انکشافات کی صدی ہے آج دنیا سائنس ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں جو حیرت انگیز ترقی کررہی ہے سو سال پہلے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ اس حوالے سے بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا تعلیم کا شعبہ جو عوام میں فکری پسماندگی دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے انتہائی مایوس کن کردار ادا کررہا ہے۔
اس حوالے سے پہلا المیہ یہ ہے کہ عوام کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے والا شعبہ تعلیم کا ایک بڑا حصہ سرکاری تعلیمی اداروں پر مشتمل ہے اور سرکاری تعلیمی ادارے خواہ پرائمری ہوں، سیکنڈری ہوں، ہائرسیکنڈری یا اعلیٰ تعلیمی ادارے نوجوانوں کو تعلیم کے حصول میں قطعی معاون ثابت نہیں ہوتے کیونکہ سرکاری اداروں میں معیار تعلیم اس قدر پست ہوتا ہے کہ ان اداروں میں تعلیم پانے والے جدیدعلوم سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔
چونکہ ہمارے سماج کی طرح ہمارا تعلیمی نظام بھی دہرا ہے اس لیے وہی طبقات جدید تعلیمی اداروں میں جدید علوم حاصل کرتے ہیں جو ان تعلیمی اداروں کی مہنگی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ یہ صرف طبقاتی تضاد نہیں بلکہ عوام کے خلاف ایک گہری سازش ہے جس کا مقصد عام آدمی کو ان اعلیٰ عہدوں تک جانے سے روکنا ہے جو ملک کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس حوالے سے سول سروس کو لے لیں اس شعبے تک عام آدمی کا پہنچنا ناممکن بنادیاگیا ہے اس سازش کا مقصد ملک کے نظم و نسق کے اداروں سے غریب عوام کو دور رکھنا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اور بہت ساری خرابیاں موجود ہیں لیکن ان ملکوں میں تعلیم اور علاج فری ہے اور ہر شہری تعلیم اور علاج مفت حاصل کرسکتا ہے۔
ذہنی پسماندگی کو دور کرنے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب اور شاعری بھی بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں اس شعبے کا حال ''ہر چند کہ ہیں نہیں ہیں'' کا سا ہوکر رہ گیا ہے معاشرتی اور فکری پسماندگی کو دور کرنے میں میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا اہم ترین کردار ادا کرسکتا ہے لیکن ہماری اشرافیہ نے میڈیا کو اس حوالے سے عضو معطل بناکر رکھ دیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں ٹاک شوز ایک ایسا حصہ ہے جسے آکر فکری پسماندگی، معاشرتی پسماندگی دور کرنے میں استعمال کیا جائے تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں لیکن اس میڈیم کو سیاسی محاذ آرائی کا ایسا گڑھ بناکر رکھ دیا گیا ہے اور اس میڈیم کو الزامات اور جوابی الزامات کی گھٹیا سیاست میں اس طرح ملوث کردیاگیا ہے کہ عام آدمی اس میڈیا سے صرف ذہنی انتشار کا شکار ہوسکتا ہے اس میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں۔
یہ سیاسی جماعت میں ایسے منجھے ہوئے ماہر پروپیگنڈا بازوں کے گروہ موجود ہیں جو اپنا سارا وقت حریف جماعت کے ماہرانہ انداز میں جوابات دیتے ہیں ہر روز دن اور رات اس بے ہودہ اور سازشانہ مقابلہ بازی کی وجہ سے عوام میں ذہنی پسماندگی کم ہونے کے بجائے ذہنی انتشار اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ انتخابی حوالے سے کوئی درست فیصلہ کرنے سے معذور ہوکر رہ جاتے ہیں اس سازش کا ایک مقصد یہ نظر آتا ہے کہ عوام اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرنے سے معذور ہوجائیں اور پروپیگنڈے کی بنیاد پر اپنا ووٹ استعمال کرکے اپنے لیے مشکلات پیدا کرلیں۔
اس کلچرکے عام ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ میڈیا ہاؤسز کے کرتا دھرتا صحافتی اقدار کو پس پشت ڈال کر حصول دولت کے بھنور میں اس طرح پھنس گئے ہیں کہ انھوں نے صحافتی ذمے داریوں کو بالکل بھلا کر رکھ دیا ہے اب تو الزام اور جوابی الزام سے ٹاک شوز اس قدر گندے ہوگئے ہیں کہ کوئی پڑھا لکھا شریف انسان ان بے ہودہ مقابلہ بازیوں سے گھن کرنے لگا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرے کو معاشرتی، معاشی اور فکری پسماندگی سے نکالنے کے خواہش مند اس کام بلکہ اہم قومی ذمے داری کو پورا کرنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کریں؟
ہمارے ملک میں 80 فی صد سے زیادہ لوگ معاشی پسماندگی کا شکار ہیں عوام کو معاشی پسماندگی سے نکالنے کے لیے ان میں سیاسی اور سماجی شعور کے ساتھ ساتھ فکری ترقی پیدا کرنا ضروری ہے۔
اس کے لیے میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ پرنٹ میڈیا اور ٹاک شوز سیاسی سماجی شعور پیدا کرنے کے بجائے عوام کے دماغوں کو سیاسی گندگی سے بد بودار بنارہے ہیں اس صورتحال سے نکلنے کا ایک موثر طریقہ یہ ہے کہ ٹاک شوز میں دانشوروں، مفکروں، تعلیمی ماہروں، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں کو بلایاجائے اس کے ساتھ ساتھ ماہرین ارض، خلائی ماہرین، سائنسی اسکالروں سمیت جدید علوم کے ماہرین کو ٹاک شوز میں بلایا جائے اگر الزامی اور جوابی الزامی ٹاک شوز میں ان کے لیے گنجائش نہیں نکلتی تو خصوصی ٹاک شوز کا اہتمام کیا جائے تاکہ ہم معاشرتی اور فکری پسماندگی سے نکل کر جدید دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چل سکیں۔