قومی بینک کا پے آرڈر وصول کرنے سے انکار کلیئرنگ ایجنٹس نے تمام کسٹمز ٹرمینلز پر ہڑتال کی دھمکی دیدی

قومی بینک کی برانچ کی جانب سے پیرکی صبح سے پے آرڈرز کی وصولیاں بند ہونے سے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس وڈلیوری رک گئی.

قومی بینک کی برانچ کی جانب سے پیرکی صبح سے پے آرڈرز کی وصولیاں بند ہونے سے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس وڈلیوری رک گئی. فوٹو: فائل

کسٹمز ایئرفریٹ یونٹ کراچی میں قومی بینک کی جانب سے بھاری مالیت کے پے آرڈرز کی وصولی بحال نہ کرنے کی صورت میں کسٹمزکلیرنگ ایجنٹس نے تمام کسٹمز ٹرمینلز پر ہڑتال کرنے کی دھمکی دیدی ہے۔

ذرائع کے مطابق کسٹمز ایئرفریٹ یونٹ کراچی میں ایک قومی بینک کی برانچ کی پیرکی صبح سے اچانک پے آرڈرز کی وصولیاں بند ہونے کے باعث درآمدی کنسائمنٹس کی کلیرنس وڈلیوری رک گئی، بینک کی جانب سے پے آرڈرز کی عدم وصولی کے باعث محکمہ کسٹمز بھی کروڑوں روپے مالیت کے ریونیو کے حصول سے محروم رہا۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کوبتایا کہ قومی بینک کی اے ایف یو برانچ کوایک جعلی پے آرڈرکی وصولی ہوئی تھی جسکے بعد متعلقہ برانچ کے منیجر نے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں جمع کیے جانے والے تمام پے آرڈرز کی وصولیاں روک دیں جس پر اے ایف یو کراچی کے کسٹمزکلیرنگ ایجنٹس اور درآمدکنندگان نے زبردست احتجاج بھی کیا۔


صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدرسیف اللہ خان نے ایسوسی ایشن کے منیجنگ کمیٹی کے رکن مرزاحنان بیگ ودیگر کے ہمراہ ہنگامی طور پر اے ایف یوبرانچ کے سربراہ سے ملاقات کی لیکن اسکے باوجود متعلقہ برانچ نے کسٹمزڈیوٹی کے پے آرڈرزکی وصولیاں بند رکھیں، کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدرسیف اللہ خان نے قومی بینک کے اعلیٰ حکام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور پے آرڈرز کی وصولیوں کو بحال کرے بصورت دیگروہ تمام ٹرمینلز پر کام بند کردیں گے۔



انہوں نے بتایا کہ قومی بینک کی اے ایف یو برانچ میں ایک جعلی پے آرڈر کی وصولی کے بعد بینک انتظامیہ نے آئینی بحران پیدا کرکے اسکی سزا دیگر کسٹمرز کو دے رہی ہے حالانکہ فراڈ کا یہ معاملہ خالصتا بینک کا داخلی معاملہ ہے جسے جواز بناکر دیگر کسٹمرز سے پے آرڈرز کی وصولیاں و دیگر بینکاری خدمات کو بند کرنا پیشہ ورانہ بینکاری کے زمرے میں نہیں آتی ہے بلکہ بینک انتظامیہ کودیگر کسٹمرز کو خدمات کی فراہمی کے ساتھ فراڈ کے محرکات کا صرف داخلی طور پرتحقیقات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ قومی بینک کے اس رویے کی وجہ سے پیر کی صبح سے ایئرفریٹ یونٹ میں کلیرنس وڈلیوری کی سرگرمیاں نہ صرف بند رہیں بلکہ اضافی اخراجات کا بوجھ بھی متعلقہ درآمدکنندگان پر پڑگیا ہے، سیف اللہ خان نے کہا کہ بینک کو ملک گیر سطح پر یکساں پالیسی وضح کرنا چاہیے اور ملک میں امن وامان کی سنگین صورتحال کے باعث کوئی بھی کسٹمرکسٹمز ڈیوٹی سمیت دیگر محصولات کی ادائیگیاں کیش کی صورت میں نہیں کرسکتا ہے اور ہرپاکستانی کو قانونی طور پر یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ پے آرڈرز کی صورت میں لاکھوں روپے مالیت کی ڈیوٹی ودیگر محصولات قومی بینک میں جمع کراسکتا ہے۔
Load Next Story