گلستان جوہر میں نوجوان کی ہلاکت معمہ بن گئی

مرسلین کی لاش12مارچ کو ملی تھی، اہلخانہ واردات کو قتل قرار دے رہے ہیں.

خواجہ مرسلین ۔ فوٹو : ایکسپریس

گلستان جوہر میں نوجوان کی ہلاکت معمہ بن گئی،پولیس واقعے کو خودکشی جبکہ اہلخانہ واردات کو قتل قرار دے رہیں۔

گلستان جوہر میں ہل ٹاپ شادی لان کے قریب 12 مارچ کو کار سے 27 سالہ خواجہ مرسلین کی لاش ملی تھی جس کے سر پر گولی لگی تھی جبکہ متوفی کا پستول بھی کار میں پڑا ہوا پولیس کو ملا تھا ، واردات کے بعد پولیس نے لاش کو جناح اسپتال پہنچایا اور واقعے کو خودکشی قرار دیدیا ، خواجہ مرسلین کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ واقعہ قتل ہے اور اسے پولیس کی جانب سے جان چھڑانے کے لیے خودکشی کا رنگ دیا جا رہا ہے۔




اہلخانہ کے مطابق مقتول خواجہ مرسلین کو کئی ہفتوں سے نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں تاہم ڈیڑھ ماہ کے بعد وہ گھر سے کسی کام کا بول کر نکلا تھا جبکہ اس کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ بھی تھا اور کچھ ہی دیر کے بعد اطلاع آگئی کہ خواجہ مرسلین کو گولی لگ گئی ہے۔

، مقتول ایم بی اے کا طالبعلم تھا ، اہلخانہ کا کہنا ہے کہ کچھ عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے کار سے کچھ افراد کو نکل کر بھاگتے ہوئے دیکھا تھا، پولیس مقدمہ درج کرنے سے گریز کر رہی ہے ، متوفی گلستان جوہر بلاک 18 روفی گرین سٹی فلیٹ نمبر B-105 کا رہائشی تھا ۔
Load Next Story