ابو ظفر اور عطیہ خاتون کی کہانیاں پریوں جیسی ہیں زبیدہ مصطفی

جدوجہد کے راستے پر چلنے والوں کیلیے یہ کہانی سبق آموز ہے،سحر انصاری.

ڈاکٹر شیر شاہ سید تقریب رونمائی میں کتاب زبیدہ مصطفی کو پیش کررہے ہیں ،احفاظ الرحمن اور دیگر بھی موجود ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

ابو ظفر اور عطیہ خاتون کی کہانیوں کو پریوں کی کہانی جیسی کہانی کہا جا سکتا ہے۔

اس فرق کے ساتھ کہ اس میں ایک بھی پری نہیں ہے، یہ ایک انسان کے خوابوںکی کہانی ہے جسے صرف بڑے خواب دیکھنے کی عادت ہے، یہ کہانی اس انسان کی صلاحیت کی بھی کہانی ہے کہ وہ اپنے خوابوں کوحقیقت کس طرح بنا دیتا ہے، ان خیالات کااظہار زبیدہ مصطفی نے آرٹس کونسل میں ڈاکٹر شیر شاہ سید کی کتاب ''وہ صورت گر کچھ خوابوں کا'' کی تعارفی تقریب میں اپنے صدارتی خطبے میں کیا۔

انھوں نے کہا کہ مجھے اس کہانی کا علم شیر شاہ کے ذریعے ہوا جو اس کہانی کا کردار ہونے کے ساتھ اپنی ذات میں ایک منفرد اور گوناں گوں شخصیت کے مالک ہیں، تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ یہ کہانی ابو ظفر اور عطیہ خاتون کی داستان حیات کابیانیہ ہے، جو کسی بھی افسانے ، ڈرامے یا ناول سے دلچسپ اور چونکادینے والاہے ، بظاہر وہ عام سے انسان جو اپنے زندگی میں کئی لوگوں کی زندگی میں اثر انداز ہوئے ان کی دنیا بدل دی، انھوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ان کی کہانی ان تمام لوگوں کے لیے سبق آموز ہو گی جو جدوجہد کے راستے پر چل رہے ہیں اور چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


اس کہانی کو بیان کرنے کا مقصد بھی یہی ہے، سینئر صحافی نذیر لغاری نے کہا کہ ظفر آزارد اور عطیہ ظفر کی بصیرت اور حوصلے سے فیض اور جذبہ حاصل کرنے والے خاندان کو یقین ہے کہ تعلیم ناممکن کو ممکن سے بدل دیتی ہے، تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے ہر جنگ جیتی جاسکتی ہے، انھوں نے کہا کہ غریب لوگ تعلیم کا راستہ اؒختیار کرکہ نہ صرف یہ کہ وہ اپنی قسمتیں بدل لیتے ہیں بلکہ اپنے ساتھ اپنے سماج کو بھی بدل دیتے ہیں۔



کتاب کے مصنف شیر شاہ سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ دوسروں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کا عمل، دوسروں کی جھولیوں میں خوشیاں بھرنے کی دھن کے پیچھے میرے اب جی کا بہت اہم کردار رہا ہے، انھوں نے کہا کہ یہ کہانی میری اماں کی ہے، میر ے ابا کی ہے، ہم سب بھائی بہنوں کی ہے اور ان تمام لوگوں کی ہے جو میرے اماں اور ابا کی زندگیوںمیں آئے اور علم کی نعمت سے مالا مال ہو کر زندگیوں میں خوشیاں بکھیرنے کے عمل کاحصہ بن گئے، یہ میری زندگی کی انتہائی اہم کہانی ہے جو میں سب کو سنانا چاہتا ہوں۔

،اس لیے اس کتاب کے ذریعے میں نے اس عمل کو سر انجام دیا ہے، سینئر صحافی اور روزنامہ ایکسپریس کے میگزین انچارج احفاظ الرحمٰن نے کہا کہ میرے خیال میں جتنی گہرائی تک آپ جاتے ہیں ا تنی ہی بلندی آپ کو نصیب ہوتی ہے، چاہے یہ فرد ہو یا خاندان، سامنے کی کامیابی حقیقی کامیابی نہیں ہوتی ہے، کامیابی وہ ہوتی ہے جس کی جڑیں گہرائی تک ہوتی ہے، انھوں نے کہا کہ ابو ظفر آزاد کی یہ قول جو ان کی وزیٹنگ کارڈ کی پشت پر درج ہوتا تھا ''خوشی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنی ضرورتوں کو کم سے کم رکھواور خواہشوں کے غلام نہ بنو'' ہماری نجوا نسل اس فلسفے پر عمل کر کے ایک کامیاب زندگی گزار سکتی ہے۔
Load Next Story