حکومت دہشت گردوں کی سزاؤں پر عمل کرائے جسٹس مشیر عالم
6 خصوصی عدالتوں میں سے 2 منگل سے کام شروع کرینگی،خصوصی عدالتوں کی فعالیت سے امن وامان قائم ہوگا،چیف جسٹس.
15ایڈیشنل اور سیشن ججز کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات خصوصی اختیار کے ساتھ منتقل کردیے، منتظم جج فوٹو: فائل
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عدالتوں سے سنائی گئی سزاؤں کے فیصلے پر عملدرآمد پر زور دیا ہے۔
انھوں نے پیر کو سندھ سیکریٹریٹ میں تعمیر کی گئی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کی عمارت کا دورہ کیا،اس موقع پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے مانیٹرنگ جج جسٹس سجاد علی شاہ، ایڈمنسٹریٹو جج بشیر احمد کھوسو، رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ عبدالمالک گدی اور ممبر انسپکشن ٹیم سندھ ہائیکورٹ فہیم احمد صدیقی بھی موجود تھے۔
چیف جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کی زیادہ تعداد میں فعالیت سے شہر کے امن وامان پر براہ راست مثبت اثرات مرتب ہونگے تاہم ضروری ہے کہ حکومت دہشت گردوں کو سنائی جانیوالی سزاؤں پرعملدرآمد کرے کیونکہ اس سے دہشت گردی کے خلاف مثبت پیغام جائے گا اور یہی دہشت گردی کے خلاف رکاوٹ ثابت ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے محکمہ خزانہ کی یہ بیرکس ملنے سے یہاں 6 خصوصی عدالتیں کام کرسکیں گی ،تاہم پہلے مرحلے پر دو خصوصی عدالتیں منگل سے یہاں کام شروع کردیں گی، انھوں نے کہاکہ مقدمات کی ایڈیشنل سیشن ججوں کو منتقلی میں سٹی کورٹ کی حساس نوعیت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے ،انھوں نے بتایاکہ سٹی کورٹ کے گنجان علاقے سے منتقلی کے معاملے پر بھی پیشرفت جاری تھی لیکن ایڈمنسٹریٹر کراچی محمد حسین سید کے تبادلے سے اس عمل کو نقصان پہنچا، اس موقع پر منتظم جج نے چیف جسٹس اور دیگر کو بتایاکہ جن15ایڈیشنل وسیشن ججز کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کا خصوصی اختیاردیاگیا ہے انھیں مقدمات منتقل کردیے گئے ہیں۔
انھوں نے پیر کو سندھ سیکریٹریٹ میں تعمیر کی گئی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کی عمارت کا دورہ کیا،اس موقع پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے مانیٹرنگ جج جسٹس سجاد علی شاہ، ایڈمنسٹریٹو جج بشیر احمد کھوسو، رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ عبدالمالک گدی اور ممبر انسپکشن ٹیم سندھ ہائیکورٹ فہیم احمد صدیقی بھی موجود تھے۔
چیف جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کی زیادہ تعداد میں فعالیت سے شہر کے امن وامان پر براہ راست مثبت اثرات مرتب ہونگے تاہم ضروری ہے کہ حکومت دہشت گردوں کو سنائی جانیوالی سزاؤں پرعملدرآمد کرے کیونکہ اس سے دہشت گردی کے خلاف مثبت پیغام جائے گا اور یہی دہشت گردی کے خلاف رکاوٹ ثابت ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے محکمہ خزانہ کی یہ بیرکس ملنے سے یہاں 6 خصوصی عدالتیں کام کرسکیں گی ،تاہم پہلے مرحلے پر دو خصوصی عدالتیں منگل سے یہاں کام شروع کردیں گی، انھوں نے کہاکہ مقدمات کی ایڈیشنل سیشن ججوں کو منتقلی میں سٹی کورٹ کی حساس نوعیت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے ،انھوں نے بتایاکہ سٹی کورٹ کے گنجان علاقے سے منتقلی کے معاملے پر بھی پیشرفت جاری تھی لیکن ایڈمنسٹریٹر کراچی محمد حسین سید کے تبادلے سے اس عمل کو نقصان پہنچا، اس موقع پر منتظم جج نے چیف جسٹس اور دیگر کو بتایاکہ جن15ایڈیشنل وسیشن ججز کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت کا خصوصی اختیاردیاگیا ہے انھیں مقدمات منتقل کردیے گئے ہیں۔