رہائشی اراضی کی حیثیت تبدیل کرنے پر حکم امتناع جاری

گلشن معمار اسکیم 45کے لے آؤٹ پلان میں قوانین کی خلاف ورزی کی گئی، پائلر.

اراضی کی تبدیلی خلاف قانون ہے،عدالت عالیہ کا مدعاعلیہان کونوٹس جاری فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے رہائشی اراضی کی حیثیت میں تبدیلی پر مبنی نظر ثانی شدہ لے آؤٹ پلان کیخلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے مدعا علیہان کو 12 اپریل کیلیے نوٹس جاری کردیے۔

پائلر کی جانب سے دائر درخواست میں چیف سیکریٹری سندھ ،ڈی جی ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی،ادارہ تحفظ ماحولیات اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایم ڈی اے نے تیسر ٹاؤن اسکیم اورگلشن معمار اسکیم 45 کے نظر ثانی شدہ لے آؤٹ پلان کے سلسلے میں مقامی اخبارات میں ایک عوامی نوٹس شائع کرایا اور اعتراضات طلب کیے جس پر درخواست گزار کی جانب سے بھی بروقت اعتراضات جمع کرائے گئے۔




اس ضمن میں مدعا علیہان نے 9 جولائی 2012 کو درخواست گزرا کا اعتراض تسلیم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ کے ای ایس سی گرڈ اسٹیشن کیلیے مختص جگہ پر قبرستان تعمیر کیا جائے گا اور رہائشی اراضی کی حیثیت تبدیل نہیں کی جائے گی،تاہم نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلان میں بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کی گئی اور مقامی آبادی کے اعتراضات کو نظرانداز کردیا گیا۔

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر پر مشتمل سنگل بینچ نے پی ٹی سی ایل کی زمین واقع ملیر ہالٹ کراچی پر نا جائز قبضے کے خلاف دعوے پر مدعا علیہان کو 22مارچ کے لیے نوٹس جاری کردیے،پی ٹی سی ایل کی جانب سے اعجاز احمد ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کردہ کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے ناظر کو ہدایت کی کہ وہ جائے وقوعہ کا معائنہ کرکے جامع رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کرے۔
Load Next Story