بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں ایک اور ڈیم تعمیر کرنے کی سازش

آبی منصوبے کا مقصد پاکستان کو سبق سکھانا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں ڈیم تعمیر کر کے پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنا سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ فوٹو: فائل

BAHAWALPUR:
بھارت نے آبی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اور ڈیم بناکر پاکستان کا پانی روکنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ بھارتی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں دریائے اجھ پر پانی ذخیرہ کرنے کے بڑے منصوبے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اجھ ڈیم ساڑھے6 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کاحامل منصوبہ ہوگا جس کے ذریعے بھارت پانی کا رخ موڑ کر اپنی30 ہزار ایکڑ اراضی کوسیراب کرے گا۔

بھارت کے سینٹرل واٹرکمیشن نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں دریائے اجھ پر ڈیم تعمیر کرنے کی تفصیلی رپورٹ جموں و کشمیر حکومت کے پاس جمع کرادی ہے۔ رپورٹ منظور ہوتے ہی فوری طور پر اجھ ڈیم کی تعمیر شروع کردی جائے گی۔ دریائے اجھ دریائے راوی کی ایک شاخ ہے جو کٹھوعہ سے پاکستان میں داخل ہوتی ہے۔


رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس آبی منصوبے کا مقصد پاکستان کو سبق سکھانا ہے۔ بھارت پاکستانی دریاؤں کے پانی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں مختلف ڈیموں کی تعمیر کر رہا ہے جس کا مقصد پاکستان کو دباؤ میں لانا، معاشی اور زرعی طور پر اسے کمزور کرنا ہے۔ دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم اور دریائے جہلم پر کشن گنگا ڈیم کی تعمیر بھارت کے اسی ناپاک منصوبے کا حصہ ہے ۔ بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف پاکستان عالمی عدالت انصاف کا دروازہ تک کھٹکھٹا چکا ہے مگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر تلا بیٹھا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں ڈیم تعمیر کر کے پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنا سندھ طاس معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے' اس معاہدے کا ضامن ورلڈ بینک ہے۔ جس طرح بھارت کی آبی جارحیت پر عالمی سطح پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے وہ سب کسی گہری سازش کا حصہ معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا اور عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ عالمی قوانین کے تحت بھارت پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کا حق نہیں رکھتا۔ پاکستان کو بھارت کی اس آبی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں میں بھرپور احتجاج کرنا چاہیے ورنہ مستقبل میں پاکستان کو پانی کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Load Next Story