سال نو2018 توقعات خدشات اور چیلنجز

اب جب کہ 2018 کا سورج طلوع ہو چکا ہے، ملکی سالمیت کو داخلی اور خارجہ خطرات کا سامنا ہے۔

سال 2017ء سے ملکی سیاسی معاشی اور عالمی حالات کا جائزہ ارباب اختیار کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ فوٹو؛ گوگل

زندہ قوموں کی سیاسی ، سماجی اور معاشی زندگی میں سال نو خوشیوں بھرا استعارہ ہوتا ہے۔ عوام اپنے خوابوں کی تکمیل اور حکومتی ریلیف کے حوالہ سے پچھلے سارے غم و آلام فراموش کرکے پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کی تصویر بن جاتے ہیں، لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو کہنے کی انھیں آج فرصت نہیں اور کسی تہذیبی اور سیاسی نرگسیت سے بالاتر رہتے ہوئے وہ اس توقع پر جیتے ہیں کہ ریاست ان کی ماں ہے، سائبان ہے، حکومت عوام کی فلاح و بہبود ، تعلیم و صحت اور روزگار و رہائش سمیت دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی ذمے دار ہے۔

دنیا کی تمام مہذب جمہوری ریاستوں میں فرد اور ریاست کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے کیونکہ ریاست و حکومت کی کمٹمنٹ اس نظریہ پر ہوتی ہے کہ ہر شہری کا یہ حق ہے کہ اسے زندگی کی بنیادی سہولتیں اس کی دہلیز پر ملیں جب کہ آمریت میں عوام کے حقوق اور ان کے مطالبات کا کوئی گزر نہیں ہوتا اس لیے جمہوریت اور آمریت کے اسی فرق سے سیاسی و سماجی نظام کی ہیئت ترکیبی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں یکسر بدل جاتی ہے اور ہر نئے سال سے وابستہ امیدوں کے نشیمن بھی سنورتے بگڑتے رہتے ہیں۔

اس تناظر میں مملکت خداداد پاکستان کی سیاسی تاریخ تجربات کی ایک دہکتی ہوئی بھٹی سے نکلی ہے، صدہا تلخ و شیریں تجربات نے اسے کندن بھی بنایا جب کہ حکومتی ناکامیوں، سول اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کی کشمکش، سیاسی جوڑ توڑ، اشرافیہ کی بالادستی اور انصاف سے محروم طبقات اور عدم مساوات کے باعث جمہوریت کے گل و ثمر قوم کے دامن میں نہیں گرے مگر قوم کی قناعت پسندی اور ملک کی افرادی طاقت کی وطن سے محبت رنگ لائی ، چنانچہ ہزار بحرانوں سے لڑتے بھڑتے اہل وطن آج لمحہ موجود تک آپہنچے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ ملک قیادت کے زبردست اور سنگین بحران سے دوچار ہے اور لوگ مرزا غالب کے اس شعرکو دہرا رہے ہیں کہ؎

کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب

اک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آئے

سال 2017ء سے ملکی سیاسی معاشی اور عالمی حالات کا جائزہ ارباب اختیار کے لیے لمحہ فکریہ ہے ، تمام سیاسی جماعتوں کو ان بنیادی سوالات پر غور کرنا چاہیے کہ کل کا پاکستان کیا تھا اور آج ملک کو کیا چیلنجز درپیش ہیں، کیا ملک داخلی استحکام کے مروجہ ، مسلمہ اور مستند معیار پر پورا اترتا ہے، عوام آسودہ حال ہیں ، سیاست رواداری ،وسیع المشربی ، تشدد، ظلم و بربریت سے پاک شفافیت کی چاندنی سے دھلی ہوئی ہے، کیا ملک خطرات سے نکل چکا ہے۔ یہ اور کتنے ہی سلگتے سوالات عوام کو سونے نہیں دیتے ۔ سال رفتہ یقین وگمان کے دریا عبور کرکے اب 2018 ء کے افق پر عوامی امنگوں اور آرزؤں کی ایک نئے کہکشاں سجانے کو تیار ہے۔ مگر ایک نظر پچھلے سال کے واقعات و حالات پر ڈالتے ہیں تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ 2017ء میں جمہوریت اور اس ملک پر کیا گزری؟

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سال رفتہ سویلین اور عسکری قیادت کے مابین کئی حوالوں سے زیر بحث رہا ، پاناما اور دیگر کیسز کے فیصلوں نے عدالتی اور سیاسی تاریخ کے اوراق پلٹ کر رکھ دیے، اس میں سیاسی تناؤ ، غیر معمولی رسہ کشی، محاذ آرائی اور دشنام طرازیوں کی نئی سیاسی لغت تیار ہوئی ، زبان ، لہجے اور دہن تک بگڑے، اسمبلیوں میں سخن گسترانہ اور معیوب باتیں اس شدت کے ساتھ دہرائی گئیں کہ خواتین ارکان کو بھی نہیں بخشا گیا، ٹی وی ٹاکس میں سیاست دان ایک دوسرے سے الجھتے رہے، قانون سازی ہوتی رہی مگر جن ایشوز کا جلد طے پاجانا قومی مفاد میں تھا اس پر بھی مصلحتیں چھائی رہیں، مثلاً فاٹا اور نئی حلقہ بندیوں کے بل اسی زمرے میں آتے ہیں، سیاست گالی ہوکر رہ گئی ہے۔


ادھر انسانی المیوں اور دہشتگردانہ وارداتوں سے وطن کی دھرتی بیگناہوں کے خون سے لالہ زار ہوتی رہی ۔ داعش کی موجودگی سے انکار اور پھر اقرار کے بعد طالبان،داعش، جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی العالمی سمیت ان گنت مذہبی ، مسلکی ،جہادی اور فسطائی تنظیموں نے جمہوریت اور سماج کا محاصرہ کیا، بلوچستان ٹارگٹ بنا ہوا ہے، دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے آپریشن رد الفساد جاری ہے۔

کراچی آپریشن کو حتمی انجام تک پہنچانے کے لیے رینجرز اور پولیس کا عزم پختہ ہے مگر کراچی میں سٹریٹ کرائمز کا دھندا سال بھر چلتا رہا، ایک چھراباز 13خواتین کو چھرے سے زخمی کرنے کے باوجود کسی کے قابو میں نہیں آیا ، حتیٰ کہ کراچی پولیس نے ناکامی کا اعتراف کرلیا، حساس و مذہبی مقامات اور جامعات پر دہشتگردوں کے خود کش حملے ہوئے، ایک طالب علم مشال خان کو ہاسٹل کے کمرے سے بہیمانہ طریقہ سے قتل کردیا گیا، جنسی جرائم بڑھ گئے، خود کشیوں کی وارداتوں اور بنت حوا کی بے حرمتی کے کئی شرمناک واقعات ہوئے۔

سوشل میڈیا کے بے سمت بھینسے نے بھی قیامت برپا کی، گستاخانہ اور توہین آمیز مواد کی افراط وتفریط سے وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کے سائبر کرائم شعبے حرکت میں آئے، بعض ایکٹی وسٹ جائز و ناجائز حراست میں لیے گئے، اسی سیاق وسباق میں لاپتا افراد کی درد انگیز خبروں سے حکومت کو عدلیہ کے سامنے حقائق سے گریز پائی کی کڑوی گولی نگلنا پڑی، سال گزشتہ لاپتا افراد کی ان کہی کہانیوں کے ساتھ ختم ہورہا ہے۔بادی النظر میں قوم نے محسوس کیا کہ جمہوریت وہی کچھ نہیں ہے جس کی ابراہام لنکن نے تعریف متعین کی تھی۔

سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے بروقت تجویز دی کہ تمام ریاستی ادارے مل بیٹھ کر ایک لائحہ عمل طے کریں، شکر ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے عسکری رفقا سمیت سینیٹ کی ان کیمرہ بریفنگ میں تشریف لائے،ان کی معروضات سب نے سنیں مگر بعض سینیٹرز کے حوالے سے آرمی چیف سے منسوب باتیں میڈیا تک آئیں۔

رضا ربانی نے اسے سینیٹ کا استحقاق مجروح کرنے سے تعبیر کیا جب کہ سیاسی اور سفارتی حلقوں نے اسے مستحسن پیش رفت قراردیا، یہ عسکری اور سیاسی قربتوں میں غیر مرئی فاصلوں کو مٹانے کی دور رس ترکیب ثابت ہوئی مگر ڈی جی آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی ایک حالیہ پریس کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل تھی جس میں انھوں نے پاک امریکا کشیدہ تعلقات، پاکستان کے خلاف یک طرفہ ممکنہ کارروائی کے خدشہ اور ڈو مور کے تقاضوں کا دوٹوک جواب دیا، ساتھ ہی انھوں نے قومی اسمبلی میں سعد رفیق کی تقریر پر گرفت کی اور اسے غیر ذمے دارانہ کہا جس کا سعد رفیق نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اداروں میںہم آہنگی کے ہمیشہ سے حامی رہے ہیں ان کی تقریرکے چند جملوں سے نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے، تاہم اس پریس کانفرنس کا تناظر پورے ملکی سیاسی منظر نامہ پر فوکس کرنے کا باعث بنا۔

اب جب کہ 2018 کا سورج طلوع ہو چکا ہے، ملکی سالمیت کو داخلی اور خارجہ خطرات کا سامنا ہے، پاک امریکا تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر پلٹ آئے ہیں، ٹرمپ نے اپنی ڈو مور کی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کرنے کا ارادہ کرلیا ہے، بھارت و افغانستان کی مخاصمت جاری ہے، پورے عالم اسلام کی نگاہ پاکستان پر مرکوز ہے۔ سیاست دان نئے سفر کی تیاری کریں۔ نئے سال کو '' الیکشن ایئر'' کے طور پر منانے کا اہتمام کریں۔

جمہوری رواداری کا تقاضہ ہے کہ سیاسی جماعتیں وطن عزیز کو سال رفتہ کے عذابوں سے محفوظ رکھیں، ہوش مندی کا ثبوت دیں، ملکی کشتی بھنور میں پھنسی ہے، عالمی سطح پر پاکستان کا سافٹ امیج ابھارنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ جو ہوا سو ہوا۔ اب سال نو کی خوشیوں سے قوم کو جلد شادماں کرنا چاہیے۔نیا سال سب کو مبارک ہو۔

 
Load Next Story