سانحہ لاہور کیس میں پنجاب حکومت کی رپورٹ پھر مسترد

پتہ چل جائیگاپلاٹ میں کس کی دلچسپی ہے،آپ لاہورنہیں سنبھال سکتے صوبہ کیسے سنبھالیں گے،چیف جسٹس

فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے سانحہ بادامی باغ کے بارے میں پنجاب حکومت کی رپورٹ مستردکرتے ہوئے جوزف کالونی لاہورکے رہائشیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے کہا پنجاب حکومت اور پولیس واقعہ کی شفاف تحقیقات میں ناکام ہوگئی ہے۔ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جوزف کالونی کے رہائشیوں نے کیس میں فریق بننے کی درخواست بھی دیدی ہے،ان کے وکیل نے کہا وہ نئے گھروں میں رہنے کیلیے تیار نہیں اور خودکو غیر محفوظ تصورکررہے ہیں۔

عدالت نے آبزرویشن دی پولیس کچھ نہیں کررہی ابھی تک یہ نہیں معلوم کیاجا سکا کہ حملہ کرنے والے کون لوگ تھے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیے کیا اب تفتیش بھی عدالت کو اپنے ہاتھ میں لینا پڑے گی ؟پنجاب حکومت کی رپورٹ میںکہاگیا کہ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کیلیے خط لکھا گیا ہے۔


ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتر اوصاف نے بتایا کہ جلائے گئے گھروں میں سے 50کی دوبارہ تعمیر ومرمت کرلی گئی ہے جبکہ دیگر پرکام جاری ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ملزم کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،کسی ایک شخص کے فعل پر ساری برادری کو ملوث قرار نہیں دیاجاسکتا نہ سب کو سزادی جاسکتی ہے۔



چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ حضرت محمدؐ کی عزت وناموس پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کیلیے قانون موجود ہے۔ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بابر بخت سے تفتیش لیکر نئے سی سی پی اوکو سونپ دی ہے۔آن لائن کے مطابق چیف جسٹس نے کہا معاملے کی اصل جڑسامنے نہیں لائی گئی۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، اصل وجہ پتہ چل جائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سب پتہ چل جائیگا کہ جوزف کالونی والے پلاٹ میں کس کی دلچسپی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا آئی جی واقعہ سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ عدالت نے گوجرہ واقعہ کی رپورٹ عام کرنے کی تفصیل اور اس کی روشنی میں اقدامات کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 25مارچ تک ملتوی کردی۔
Load Next Story