گنے کا بحران اور حکومتی مائنڈ سیٹ

کسانوں نے کھاد کی کنٹرول ریٹ پر فراہمی کو یقینی بنانے اور سبسڈی جاری کرانے کا پھر سے مطالبہ کیا ہے

کسانوں نے کھاد کی کنٹرول ریٹ پر فراہمی کو یقینی بنانے اور سبسڈی جاری کرانے کا پھر سے مطالبہ کیا ہے . فوٹو : فائل

گنے کے بحران کی شدت بڑھتی جارہی ہے جس کا بنیادی سبب وہ فرسودہ حکومتی مائنڈ سیٹ ہے جو کاشتکاروں کو درپیش مسائل سے زیادہ لا حاصل بلیم گیم میں الجھا ہوا ہے جس سے کاشتکاروں کو اپنی فصل کی منصفانہ قیمت تو ملنے سے رہی الٹا صورتحال کے مزید ابتر ہونے کا اندیشہ ہے۔

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں گنے کے بحران کا ذمے دار پنجاب ہے،وفاق سبسڈی نہیں دیتا جب کہ سندھ کی شوگر ملوں کو پنجاب سے 100 روپے فی من گنا ملے گا تو وہ سندھ کے کاشتکاروں کا مہنگا گنا کیوں خریدیں، تاہم اصولی بات یہ ہے کہ صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا الزام وفاق پر ڈالنے سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی، کاشتکار مسئلہ کا حل اور انصاف چاہتے ہیں جو انھیں نہیں مل رہا۔


سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت گنے کی کرشنگ سیزن کادرست ادراک کرتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی ۔حالانکہ بحران کی حقیقت یہ ہے کہ کسان چاہے سندھ کا ہو یا پنجاب کا ،دونوں کا برا حال ہے، زرعی شعبے کی نشاہ ثانیہ اور گنے کی قیمتوں کے جائز میکنزم اور پالیسی کے اجرا پر سختی سے عمل درآمد ہو تو کوئی مسئلہ نہ رہے، لیکن مسلسل بیان بازی سے زرعی شعبہ تباہ ہورہا ہے، پنجاب میں کھاد کی مہنگے داموں فروخت کے باعث کسان سخت پریشان ہیں۔

کسانوں نے کھاد کی کنٹرول ریٹ پر فراہمی کو یقینی بنانے اور سبسڈی جاری کرانے کا پھر سے مطالبہ کیا ہے ، زرعی ماہرین کے مطابق 2017ء بھی زراعت کے شعبہ میں ناکام زرعی پالیسیوں کا سال رہا اور کاشتکار جائز حقوق کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے، پنجاب کے بعض علاقوں میں کنڈا مالکان شوگر ملز کی انتظامیہ کی ملی بھگت سے کاشتکاروں کا استحصال جاری رکھنے پر کاشتکار برہم ہیں ، حکومت پالیسی وضع کرنے سے گریزاں ہے، کھاد اور زرعی ادویات مہنگی، فصلوں کی قیمتوں کا تنازع بدستور حل طلب اور کاشتکاروں کے لیے در بدر کی ٹھوکریں تو مسئلہ کا حل نہیں۔

ستم تو یہ ہے کہ شوگر ملز مالکان چاہیں تو ان سے گنا خریدیں، کچی رسیدیں دیں، کسان بیچارا ان پڑھ ہونے کے باعث زرعی شعبے کا اہم پرزہ ہونے کے باوجود حکومت اور ملز مالکان کی چکی میں پس رہا ہے،آخر صورتحال کی اصلاح اور کاشتکاروں سے انصاف کے لیے ارباب اختیاراور کتنا وقت لیں گے۔ جاری بحران کسی کے مفاد میں نہیں۔ حکمراں کوئی حل ڈھونڈیں ۔
Load Next Story