پٹرول بم…عوام کو نئے سال کا تحفہ
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اوگرا کی سفارش پر پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی منظوری دی
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اوگرا کی سفارش پر پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی منظوری دی . فوٹو:فائل
حکومت نے نئے سال پر عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تحفہ دے دیا اور تمام مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کردیا ۔ پٹرول 4 روپے 6 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 روپے 96 پیسے، لائٹ ڈیزل 6 روپے 25 پیسے اور مٹی کا تیل 6 روپے 74 پیسے فی لٹر مہنگا کردیا گیا۔ اتوار کو مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس میں پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ۔اضافے کے بعد پٹرولیم کی نئی قیمت 81 روپے 53 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 89 روپے 91 پیسے، لائٹ ڈیزل 58 روپے 37 پیسے اور مٹی کے تیل کی نئی قیمت 64 روپے 32 پیسے فی لٹر ہوگئی۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اوگرا کی سفارش پر پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی منظوری دی۔ اپوزیشن کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو عوام پر ''ڈرون حملہ'' قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام دشمنی پر مبنی حکومت کے اس اقدام کے خلاف پارلیمنٹ میں بھر پور احتجاج کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو' آصف زرداری اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے حکومت کے اس اقدام کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران غربت کے بجائے غریب مکاؤ ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔
حکومت نے اپنی معاشی پالیسیوں میں پٹرولیم قیمتوں میں ماہانہ ردوبدل کا جو نظام رائج کر رکھا ہے وہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کے مسائل میں خاطر خواہ افزونی کا محرک ثابت ہوا ہے۔ اس حقیقت سے ہمارے پالیسی ساز بخوبی آگاہ ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر روزمرہ کی اشیائے خورونوش اور دیگر معمولات پر براہ راست پڑتا ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے روز مرہ اشیا کی قیمتیں خودبخود بڑھ جاتی ہیں۔
تاجر حضرات کا موقف بجا ہوتا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے سبب لاگت زیادہ آنے سے وہ اشیا کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب خام مال کی قیمتوں کا گراف بھی اوپر جانے سے صنعتی پیداواری لاگت میں ہونے والا اضافہ مہنگائی کو مہمیز کرتا ہے۔ اسی طرح صرف پٹرول کی قیمت ہی نہیں بڑھتی بلکہ ہر چیز کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں۔ حکومت نے کچھ عرصہ قبل منی بجٹ پیش کرتے ہوئے ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا' کاسمیٹکس' ہوزری اور دیگر اشیا پر عائد ٹیکس بھی بڑھا دیا گیا۔
دوسری جانب ڈالر کی قیمت بڑھنے سے روپے کی قدر میں واضح کمی آئی۔ اب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے مہنگائی کا بھاری بم گرا دیا ہے' اس پر مستزاد یہ کہ ڈالر کی قیمت میں مزید اضافے کی افواہیں بھی پورے زور شور سے گردش کر رہی ہیں۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے سیکڑوں اشیا کی قیمت بڑھ جاتی ہے جس سے عام آدمی کے اخراجات پر مزید بوجھ بڑھنے سے اس کی آمدن خود بخود کم ہو جاتی لہٰذا اس کے لیے اپنے اخراجات اور محدود آمدن میں توازن رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے معاشرے میں جنسی بے راہ روی' جرائم اور بے روز گاری میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔
حکومت مہنگائی کم کرنے اور سستے داموں اشیائے خورونوش مہیا کرنے کے بجائے ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے عام آدمی کے مسائل تیزی سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ وزارت خزانہ کے ذرایع کے مطابق پٹرولیم قیمتوں پر ماہانہ ردوبدل کے نظام کے تحت گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران 18مرتبہ قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ۔ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جب کہ پاکستان میں بنگلہ دیش' بھارت اور ترکی کے مقابلے میں پٹرول کی قیمت سب سے کم ہے۔
مشیر خزانہ کو یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ کیا ان ممالک کی کرنسی بھی ڈالر کے مقابلے میں اسی تیزی سے کم ہو رہی ہے جس طرح پاکستانی کرنسی ڈی ویلیو ہو رہی ہے۔ انھیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ ترکی میں صحت' تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتیں عوام کو کس معیار کی فراہم کی جا رہی ہیں اور پاکستان میں ان کا معیار کیا ہے۔
معاشی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے سبب ملک میں نئی صنعتیں نہیں لگ رہیں اور پرانی صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنے سے ان کی پیداوار میں نمایاں کمی آرہی ہے' یہی سبب ہے کہ ملک میں برآمدات میں کمی اور درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت پٹرولیم قیمتوں میں ماہانہ ردوبدل کے بجائے اس کو سالانہ بنیادوں پر کر دے تو اس سے بے یقینی کی کیفیت ختم ہونے سے معاشی استحکام آئے گا اور حکومت کو فروغ پذیر صنعتوں ہی سے اتنا ٹیکس حاصل ہوجائے گا کہ اسے اپنی آمدن میں اضافے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اوگرا کی سفارش پر پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی منظوری دی۔ اپوزیشن کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو عوام پر ''ڈرون حملہ'' قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام دشمنی پر مبنی حکومت کے اس اقدام کے خلاف پارلیمنٹ میں بھر پور احتجاج کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو' آصف زرداری اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے حکومت کے اس اقدام کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران غربت کے بجائے غریب مکاؤ ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔
حکومت نے اپنی معاشی پالیسیوں میں پٹرولیم قیمتوں میں ماہانہ ردوبدل کا جو نظام رائج کر رکھا ہے وہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کے مسائل میں خاطر خواہ افزونی کا محرک ثابت ہوا ہے۔ اس حقیقت سے ہمارے پالیسی ساز بخوبی آگاہ ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر روزمرہ کی اشیائے خورونوش اور دیگر معمولات پر براہ راست پڑتا ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے روز مرہ اشیا کی قیمتیں خودبخود بڑھ جاتی ہیں۔
تاجر حضرات کا موقف بجا ہوتا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے سبب لاگت زیادہ آنے سے وہ اشیا کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب خام مال کی قیمتوں کا گراف بھی اوپر جانے سے صنعتی پیداواری لاگت میں ہونے والا اضافہ مہنگائی کو مہمیز کرتا ہے۔ اسی طرح صرف پٹرول کی قیمت ہی نہیں بڑھتی بلکہ ہر چیز کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں۔ حکومت نے کچھ عرصہ قبل منی بجٹ پیش کرتے ہوئے ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا' کاسمیٹکس' ہوزری اور دیگر اشیا پر عائد ٹیکس بھی بڑھا دیا گیا۔
دوسری جانب ڈالر کی قیمت بڑھنے سے روپے کی قدر میں واضح کمی آئی۔ اب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے مہنگائی کا بھاری بم گرا دیا ہے' اس پر مستزاد یہ کہ ڈالر کی قیمت میں مزید اضافے کی افواہیں بھی پورے زور شور سے گردش کر رہی ہیں۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے سیکڑوں اشیا کی قیمت بڑھ جاتی ہے جس سے عام آدمی کے اخراجات پر مزید بوجھ بڑھنے سے اس کی آمدن خود بخود کم ہو جاتی لہٰذا اس کے لیے اپنے اخراجات اور محدود آمدن میں توازن رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے معاشرے میں جنسی بے راہ روی' جرائم اور بے روز گاری میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔
حکومت مہنگائی کم کرنے اور سستے داموں اشیائے خورونوش مہیا کرنے کے بجائے ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے عام آدمی کے مسائل تیزی سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ وزارت خزانہ کے ذرایع کے مطابق پٹرولیم قیمتوں پر ماہانہ ردوبدل کے نظام کے تحت گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران 18مرتبہ قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ۔ مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جب کہ پاکستان میں بنگلہ دیش' بھارت اور ترکی کے مقابلے میں پٹرول کی قیمت سب سے کم ہے۔
مشیر خزانہ کو یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ کیا ان ممالک کی کرنسی بھی ڈالر کے مقابلے میں اسی تیزی سے کم ہو رہی ہے جس طرح پاکستانی کرنسی ڈی ویلیو ہو رہی ہے۔ انھیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ ترکی میں صحت' تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتیں عوام کو کس معیار کی فراہم کی جا رہی ہیں اور پاکستان میں ان کا معیار کیا ہے۔
معاشی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے سبب ملک میں نئی صنعتیں نہیں لگ رہیں اور پرانی صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنے سے ان کی پیداوار میں نمایاں کمی آرہی ہے' یہی سبب ہے کہ ملک میں برآمدات میں کمی اور درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت پٹرولیم قیمتوں میں ماہانہ ردوبدل کے بجائے اس کو سالانہ بنیادوں پر کر دے تو اس سے بے یقینی کی کیفیت ختم ہونے سے معاشی استحکام آئے گا اور حکومت کو فروغ پذیر صنعتوں ہی سے اتنا ٹیکس حاصل ہوجائے گا کہ اسے اپنی آمدن میں اضافے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔