ایک بھوت دانشور اور ریڈیو سے ملاقات
ہمارا تعلق قلم و کالم کی دنیا سے ہے۔ لیکن ہم یہ بھول گئے تھے کہ آخر وہ ایک بھوت تھا
barq@email.com
گزشتہ دنوں بالکل ہی اتفاقاً بلکہ حادثتاً بلکہ بدبختاً ہماری ایک بھوت دانشور سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات کیا ہم اس کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ اگر ہمیں ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ اس گھر میں بھوت رہتا ہے اور وہ بھی دانشور تو ہم اس گلی بلکہ سڑک کا رخ بھی نہ کرتے اور وہی پالیسی اختیار کرتے جو ہم نے ان سڑکوں کے بارے میں اختیار کی ہوئی جن پر کوئی تھا نہ یا کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کا ڈیرا ہو اور ان سڑکوں اور گلیوں پر بھی ہم سرخ نشان دل ہی دل میں لگا چکے ہیں جہاں کسی بھوت دانشور یا بری آتما کا سایہ ہوتا ہے۔
لیکن ہم تو وہاں ایک ایسے افسر سے ملنے گئے تھے جس سے اس کے دفتر میں کئی ''بے سود'' ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ لیکن ایک دانائے راز بابو نے ہمیں بعیضہ راز بتایا کہ اگر گوہر مقصود چاہیے تو گھر پر اس سے ملاقات کیجیے۔ پھر پتہ اور اس تریاق کے بارے بھی سمجھایا تھا جو اس زہریلے ناگ کو کیچوا بنانے کے لیے ضروری تھا۔
وہ تو گھر پر موجود نہیں تھا لیکن دروازہ کھولنے والے بڈھے نے ہمیں کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر بڑی خندہ پیشانی سے ہمارا نہ صرف خیر مقدم کیا بلکہ ہاتھ سے پکڑ کر گھر کے اندر بھی لے گیا۔ اس کا چہرہ یوں کھل اٹھا تھا جیسے ہماری اور اس کی زبردست دوستی رہی ہو اور بعد مدت کے ہمیں دیکھ کر یوں سرشار وہ رہا تھا جیسے کسی بیوی کا کھویا ہوا شوہر مدتوں بعد اچانک گھر پہنچا ہو۔
اس گرم جوشی کو ہم نے اس کی خوش اخلاقی اور مہمان نوازی پر محمول کیا لیکن اصل بات کچھ اور نکلی۔ ایک اچھے خاصے لگژری ڈرائنگ روم میں بٹھا کر اس نے نوکر کو چائے کا آرڈر دیا اور آرام سے بیٹھنے کو کہا۔ اس امید کے ساتھ کہ اس کا بیٹا یعنی ہمارا مطلوب و مقصود افسر تھوڑی دیر میں آجائے گا۔ حالانکہ ہم نے ابھی تک نہ تو زبان کھولی تھی اور نہ آنے کا مقصد بتایا تھا نہ ہی اپنا تعارف کیا تھا۔ مطلب یہ کہ اچھا خاص ذہین اور زود ہضم تھا ۔لیکن جب وہ شروع ہو گیا تو اس کی ساری گرہیں کھل گئیں نہ صرف وہ بھوت دانشور تھا بلکہ ریڈیو بھی تھا یعنی صرف سناتا تھا سننے کے سارے آلات ہی اس کے چوپٹ ہو چکے تھے۔
ہمیں فوراً ہی ایسا لگا جیسے اس نے منہ سے دانت وغیرہ نکال کر کسی ماہر مکینک سے اپنے منہ کے اندر کلاشن کوف فٹ کیا ہوا تھا اور وہ بھی رپیڈ فائرنگ کے موڈ میں فکس کرکے۔ اور نیچے آنتوں کی جگہ شاید میگزیں کی پٹیاں رکھی ہوئی تھیں۔اس فائرنگ نما تقریر بلکہ اسپیچ سے ہمیں پتہ چلا کہ وہ بھی ایک اعلیٰ درجے کا افسر رہا ہے اور تین محکموں کو باقاعدہ طور پر اور چھ سات کو آدھا ادورا چوپٹ کر چکا ہے۔
حالانکہ اس نے اس کام کے لیے ''سروس'' اور خدمات کے الفاظ استعمال کیے تھے اپنے پہلے والے محکمے سے جب وہ ریٹائرمنٹ کی موت مرا تو دوسرے پر بیٹھ گیا پھر تیسرے پر اورابھی چوتھے کو لاحق ہونے والا تھا کہ کسی وزیر نے ملک و قوم کو زبردست ''نقصان'' دیتے ہوئے مکمل ریٹائرمنٹ کی موت مار دیا تھا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ تینوں محکموں میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے اس کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو اعلیٰ پوسٹوں کو لاحق کرکے خدمات کا صلہ جاری رکھا تھا ۔اپنی قصیدہ خوانی فرض شناسی اور قومی خدمات کے ساتھ ساتھ اس کا بنیادی موضوع لیڈروں وزیروں وغیرہ کی نا اہلی تھا۔
جس میں وہ جگہ جگہ ملک و قوم کی خاطر بے حد دکھی ہونے کا تڑکا بھی لگا دیتا تھا۔ پتہ نہیں اسے یہ کیسے اندازہ ہوا تھاکہ ہمارا تعلق قلم و کالم کی دنیا سے ہے۔ لیکن ہم یہ بھول گئے تھے کہ آخر وہ ایک بھوت تھا اور وہ بھی دانشور بھوت جن کو سب پتہ بھی ہوتا ہے اور سب کچھ آتا بھی ہے۔ اس نے اپنی آواز اور لہجے میں تقریباً مساوی حقدار کے آنسو ملاکر پہلے تو ہم سے یہ سوال پوچھا کہ آخر ہم جاکہاں رہے ہیں پھر ملک کی حالت زار کا نہایت ہی درد ناک نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ جس ملک کوہم نے اپنے خون پسینے سے سینچ سینچ کر تعمیر کیا ہے اسے یوں ان نااہل لیڈروں کے ہاتھوں تباہ ہوتے دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔
اسے اچھی طرح پہچان لینے کے بعد کہ بھوت دانشور ہے یہ ''خون پسینے'' اور تعمیر کے الفاظ سن کر ہمیں حیرت ہوئی کہ بھوت بھی کتنا جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ اس کے خون پسینے اور تعمیر کا اندازہ اس کے بنگلے اور اس کے بیٹوں اور باہر گیراج میں کھڑی آٹھ دس گاڑیوں سے ہو جاتا تھا۔ اور چند ٹیلیفون سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ اس کا اقتصادی مقام کیا ہے لاکھوں کی تو وہ بات ہی نہیں کرتا تھا صرف کروڑوں کے ہندسے کو منہ لگاتا تھا اور خود اس کی باتوں سے پتہ چلا کہ پاکستان کے ہر شہر کے علاوہ باہر کے ممالک میں بھی بہت کچھ چل رہا ہے۔ تمام سیاق و سباق سے ہمیں پورا پورا اندازہ ہوا کہ اس نے ملک و قوم کے لیے کتنا ''خون پسینہ'' بہایا تھا (دوسروں کا) اور پھر اس خون پسینے کو کس قسم کی تعمیر میں لگایا تھا۔ لیکن شکر خدا کا کہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی وہ ایک محرومی کا شکار تھا یہ وہ محرومی تو نہیں تھی جو اکبر الہ آبادی نے گوہر جان نامی طوائف میں دیکھی تھی کہ:
خوش نصیب اور یہاں کون ہے گوہر کے سوا
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا
لیکن اس کی محرومی گوہر جان سے مختلف تھی اسے ''دو انسانی کان'' میسر نہ تھے جو اس کی یک طرفہ''دانش'' کو سن سکے۔ بیٹے سنتے بیٹیاں حتیٰ کہ بیوی تک بھی خود اس کے بقول اس کی ایک نہیں سنتے تھے اور نوکر اس کی دانش سمجھتے تھے اس لیے ہم جیسے بھولے بھٹکوں پر اس کا گزارہ چل رہا تھا۔ تب ہمیں اپنی اتنی آؤ بھگت کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی۔ اس کے پاس بہت بڑی دانشوری جمع ہوئی تھی جو اس نے ہمارے سپرد کی۔ ملک و قوم کی بھلائی اور لیڈروں کی سر کوبی کے لیے اس کے پاس جو تجاویز تھیں۔
ان میں سر فہرست یہ تھیں کہ سب سے پہلے تو لیڈروں کو ایماندار بنایا جائے میڈیا کو چاہیے کہ وہ لیڈروں کو سیدھا کرے کرپشن کو بالکل ختم کیا جائے اور تمام اہل وطن کو دیانتدار بنایا جائے قرضے چکائے جائیں بیروزگاری ختم کی جائے حب الوطنی کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ ایک اعلی درجے کا ضابطہ اخلاق بنایا جائے اور سارے نظام کو درست کیا جائے اور ریٹائرڈ تجربہ کار افسران سے کام لیا جائے۔ لیکن ہم اس کی ریپڈ فائرنگ سے اتنے مفلوج ہو گئے تھے کہ اس سے یہ نہیں پوچھ سکے کہ یہ سب کچھ کون کرے اور اگر ہم پوچھ بھی لیتے تو وہ تو ریڈیو تھا۔
لیکن ہم تو وہاں ایک ایسے افسر سے ملنے گئے تھے جس سے اس کے دفتر میں کئی ''بے سود'' ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ لیکن ایک دانائے راز بابو نے ہمیں بعیضہ راز بتایا کہ اگر گوہر مقصود چاہیے تو گھر پر اس سے ملاقات کیجیے۔ پھر پتہ اور اس تریاق کے بارے بھی سمجھایا تھا جو اس زہریلے ناگ کو کیچوا بنانے کے لیے ضروری تھا۔
وہ تو گھر پر موجود نہیں تھا لیکن دروازہ کھولنے والے بڈھے نے ہمیں کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر بڑی خندہ پیشانی سے ہمارا نہ صرف خیر مقدم کیا بلکہ ہاتھ سے پکڑ کر گھر کے اندر بھی لے گیا۔ اس کا چہرہ یوں کھل اٹھا تھا جیسے ہماری اور اس کی زبردست دوستی رہی ہو اور بعد مدت کے ہمیں دیکھ کر یوں سرشار وہ رہا تھا جیسے کسی بیوی کا کھویا ہوا شوہر مدتوں بعد اچانک گھر پہنچا ہو۔
اس گرم جوشی کو ہم نے اس کی خوش اخلاقی اور مہمان نوازی پر محمول کیا لیکن اصل بات کچھ اور نکلی۔ ایک اچھے خاصے لگژری ڈرائنگ روم میں بٹھا کر اس نے نوکر کو چائے کا آرڈر دیا اور آرام سے بیٹھنے کو کہا۔ اس امید کے ساتھ کہ اس کا بیٹا یعنی ہمارا مطلوب و مقصود افسر تھوڑی دیر میں آجائے گا۔ حالانکہ ہم نے ابھی تک نہ تو زبان کھولی تھی اور نہ آنے کا مقصد بتایا تھا نہ ہی اپنا تعارف کیا تھا۔ مطلب یہ کہ اچھا خاص ذہین اور زود ہضم تھا ۔لیکن جب وہ شروع ہو گیا تو اس کی ساری گرہیں کھل گئیں نہ صرف وہ بھوت دانشور تھا بلکہ ریڈیو بھی تھا یعنی صرف سناتا تھا سننے کے سارے آلات ہی اس کے چوپٹ ہو چکے تھے۔
ہمیں فوراً ہی ایسا لگا جیسے اس نے منہ سے دانت وغیرہ نکال کر کسی ماہر مکینک سے اپنے منہ کے اندر کلاشن کوف فٹ کیا ہوا تھا اور وہ بھی رپیڈ فائرنگ کے موڈ میں فکس کرکے۔ اور نیچے آنتوں کی جگہ شاید میگزیں کی پٹیاں رکھی ہوئی تھیں۔اس فائرنگ نما تقریر بلکہ اسپیچ سے ہمیں پتہ چلا کہ وہ بھی ایک اعلیٰ درجے کا افسر رہا ہے اور تین محکموں کو باقاعدہ طور پر اور چھ سات کو آدھا ادورا چوپٹ کر چکا ہے۔
حالانکہ اس نے اس کام کے لیے ''سروس'' اور خدمات کے الفاظ استعمال کیے تھے اپنے پہلے والے محکمے سے جب وہ ریٹائرمنٹ کی موت مرا تو دوسرے پر بیٹھ گیا پھر تیسرے پر اورابھی چوتھے کو لاحق ہونے والا تھا کہ کسی وزیر نے ملک و قوم کو زبردست ''نقصان'' دیتے ہوئے مکمل ریٹائرمنٹ کی موت مار دیا تھا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ تینوں محکموں میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے اس کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو اعلیٰ پوسٹوں کو لاحق کرکے خدمات کا صلہ جاری رکھا تھا ۔اپنی قصیدہ خوانی فرض شناسی اور قومی خدمات کے ساتھ ساتھ اس کا بنیادی موضوع لیڈروں وزیروں وغیرہ کی نا اہلی تھا۔
جس میں وہ جگہ جگہ ملک و قوم کی خاطر بے حد دکھی ہونے کا تڑکا بھی لگا دیتا تھا۔ پتہ نہیں اسے یہ کیسے اندازہ ہوا تھاکہ ہمارا تعلق قلم و کالم کی دنیا سے ہے۔ لیکن ہم یہ بھول گئے تھے کہ آخر وہ ایک بھوت تھا اور وہ بھی دانشور بھوت جن کو سب پتہ بھی ہوتا ہے اور سب کچھ آتا بھی ہے۔ اس نے اپنی آواز اور لہجے میں تقریباً مساوی حقدار کے آنسو ملاکر پہلے تو ہم سے یہ سوال پوچھا کہ آخر ہم جاکہاں رہے ہیں پھر ملک کی حالت زار کا نہایت ہی درد ناک نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ جس ملک کوہم نے اپنے خون پسینے سے سینچ سینچ کر تعمیر کیا ہے اسے یوں ان نااہل لیڈروں کے ہاتھوں تباہ ہوتے دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔
اسے اچھی طرح پہچان لینے کے بعد کہ بھوت دانشور ہے یہ ''خون پسینے'' اور تعمیر کے الفاظ سن کر ہمیں حیرت ہوئی کہ بھوت بھی کتنا جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ اس کے خون پسینے اور تعمیر کا اندازہ اس کے بنگلے اور اس کے بیٹوں اور باہر گیراج میں کھڑی آٹھ دس گاڑیوں سے ہو جاتا تھا۔ اور چند ٹیلیفون سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ اس کا اقتصادی مقام کیا ہے لاکھوں کی تو وہ بات ہی نہیں کرتا تھا صرف کروڑوں کے ہندسے کو منہ لگاتا تھا اور خود اس کی باتوں سے پتہ چلا کہ پاکستان کے ہر شہر کے علاوہ باہر کے ممالک میں بھی بہت کچھ چل رہا ہے۔ تمام سیاق و سباق سے ہمیں پورا پورا اندازہ ہوا کہ اس نے ملک و قوم کے لیے کتنا ''خون پسینہ'' بہایا تھا (دوسروں کا) اور پھر اس خون پسینے کو کس قسم کی تعمیر میں لگایا تھا۔ لیکن شکر خدا کا کہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی وہ ایک محرومی کا شکار تھا یہ وہ محرومی تو نہیں تھی جو اکبر الہ آبادی نے گوہر جان نامی طوائف میں دیکھی تھی کہ:
خوش نصیب اور یہاں کون ہے گوہر کے سوا
سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا
لیکن اس کی محرومی گوہر جان سے مختلف تھی اسے ''دو انسانی کان'' میسر نہ تھے جو اس کی یک طرفہ''دانش'' کو سن سکے۔ بیٹے سنتے بیٹیاں حتیٰ کہ بیوی تک بھی خود اس کے بقول اس کی ایک نہیں سنتے تھے اور نوکر اس کی دانش سمجھتے تھے اس لیے ہم جیسے بھولے بھٹکوں پر اس کا گزارہ چل رہا تھا۔ تب ہمیں اپنی اتنی آؤ بھگت کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی۔ اس کے پاس بہت بڑی دانشوری جمع ہوئی تھی جو اس نے ہمارے سپرد کی۔ ملک و قوم کی بھلائی اور لیڈروں کی سر کوبی کے لیے اس کے پاس جو تجاویز تھیں۔
ان میں سر فہرست یہ تھیں کہ سب سے پہلے تو لیڈروں کو ایماندار بنایا جائے میڈیا کو چاہیے کہ وہ لیڈروں کو سیدھا کرے کرپشن کو بالکل ختم کیا جائے اور تمام اہل وطن کو دیانتدار بنایا جائے قرضے چکائے جائیں بیروزگاری ختم کی جائے حب الوطنی کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ ایک اعلی درجے کا ضابطہ اخلاق بنایا جائے اور سارے نظام کو درست کیا جائے اور ریٹائرڈ تجربہ کار افسران سے کام لیا جائے۔ لیکن ہم اس کی ریپڈ فائرنگ سے اتنے مفلوج ہو گئے تھے کہ اس سے یہ نہیں پوچھ سکے کہ یہ سب کچھ کون کرے اور اگر ہم پوچھ بھی لیتے تو وہ تو ریڈیو تھا۔