جناح ٹرمینل پر کسٹمز کنٹرول روم قائم مسافروں کی فیس ریڈنگ شروع

انسداد اسمگلنگ اور بیرون ملک کے مسافروں اور بیگیج کی 100 فیصد اسکیننگ کیلیے اقدام، مختلف حصوں میں 22 سی سی ٹی وی نصب۔

موبائل اسکینرز متحرک، بعض فضائی کمپنیوں کی مخالفت، سخت اقدامات سے گراؤنڈ ہینڈلرز کھیپ مافیا کا گٹھ جوڑ متاثر، شرح کھیپ صفر۔ فوٹو: فائل

پاکستان کسٹمز نے فضائی راستے انسداداسمگلنگ اور بیرون ملک جانیوالے مسافروں اوران کے بیگیج کی 100 فیصد اسکیننگ کے لیے جناح ٹرمینل میں ایک کنٹرول روم قائم کردیا ہے جس نے ایئرپورٹ کے مختلف حصوں میں نصب 22 سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ملک سے جانے اور آنے والے مسافروں کی نقل و حمل اور ان کی فیس ریڈنگ کا آغاز کر دیا ہے۔

پاکستان کسٹمز پریونٹیو نے انسداد اسمگلنگ کو 100 فیصد یقینی بنانے کے لیے جناح ٹرمینل میں موبائل اسکینرز کو بھی متحرک کردیا ہے۔ مذکورہ کنٹرول روم میں 24 گھنٹے کی مختلف شفٹوں میں مانیٹرنگ کے لیے ذمے دار کسٹمز افسران کو تعینات کیاگیا ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ کھیپ مافیا نے کسٹمز پریونٹیو کلکٹریٹ کی سخت جانچ پڑتال ودیگر اقدامات کے تناظر میں اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے کئی متبادل طریقے اختیار کرتے ہوئے عمر رسیدہ بزرگ افراد اور خواتین کا استعمال بھی کیا لیکن انھیں فضائی راستے کھیپ لانے یا ملک سے کرنسی ودیگر اشیا بیرون ملک لے جانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ پاکستان کسٹمز کی جناح ٹرمینل پر مسافروں کے سامان کی 100 فیصد اسکیننگ پرکچھ فضائی کمپنیاں مخالفت بھی کررہی ہیں اور ان کا موقف ہے کہ مسافروں کے تمام سامان کی اسکیننگ کے عمل سے ان کے عملے کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ جناح ٹرمینل میں کسٹمز پریونٹیوکے سخت اقدامات کی بدولت گزشتہ 4 ماہ سے کھیپ کی شرح صفر ہوگئی ہے جبکہ ایئرپورٹ کے گراؤنڈ ہینڈلرز اور کھیپ مافیا کی باہمی گٹھ جوڑ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے کیونکہ فضائی راستے کھیپ کے کاروبار میں گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنٹس کے ملوث ہونے کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔ سخت مانیٹرنگ کی بدولت گزشتہ 6ماہ کے دوران50 ملین روپے مالیت کا 1000 تولہ سونا، 5 لاکھ روپے مالیت کا 5 کلوگرام چاندی کے علاوہ موبائل فونز کی اسمگلنگ اورملک سے غیرملکی کرنسی لے جانے کی وارداتوں کو ناکام بنایا گیا۔
Load Next Story