پروین رحمن امر ہوگئی

اس وقت ایک بین الاقوامی بینک بی سی سی آئی اس پروجیکٹ کے لیے سرمایہ کاری کے لیے تیار تھا۔

tauceeph@gmail.com

KARACHI/ISLAMABAD:
پروین رحمن نے اپنی زندگی کے 31 سال کراچی میں غریبوں کی حالات کو بہتر بنانے پر نچھاورکردیے مگر کراچی میں متحرک مافیا نے پروین کو قتل کرکے غریبوں کانقصان کیا اوراپنے مفادات کو تحفظ دیا ۔تاریخ اس سوال کا جواب ضرور دے گی۔ پروین کے قریبی ساتھی کہتے ہیں کہ ا س عظیم سماجی کارکن کے قتل کی ذمے داری لینڈ مافیاپر ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبان پروین کے قتل کے ذمے دار ہیں ۔

کراچی میں ریاست کی عملداری موجود نہیں لہٰذا کراچی میں قتل ہونے والے چار ہزار سے زیاد ہ افراد کی طرح پروین کے قاتلوں کو بھی سزا نہیں ملے گی ۔ پروین رحمن 1957میں سابقہ مشرقی پاکستان میں پیدا ہوئی انھوں نے کراچی کے دائود انجینئرنگ کالج میں آرکیٹکچر کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک نجی آرکیٹکچر فرم میں ملازمت شروع کی اس دوران ڈاکٹر اختر حمید خان نے ایشیاء کی سب سے بڑی کچی آبادی اورنگی ٹائون میں سماجی ترقی کا منصوبہ بنایا ۔ ڈاکٹر اختر حمید خان مشرقی پاکستان کے شہر کومیلاکی طرح کراچی میں جدید سائنسی اصولوں کے مطابق سماجی ترقی کا عمل شروع کرنے کی تیاری کررہے تھے ۔

اس وقت ایک بین الاقوامی بینک بی سی سی آئی اس پروجیکٹ کے لیے سرمایہ کاری کے لیے تیار تھا۔ ڈاکٹر اختر حمید خان نے بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اس پروجیکٹ میں انتظامی ذمے داریوں کی پیشکش کی مگر کراچی یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے استاد انور راشد اور پروین رحمن شہر سے دور ایک کچی آبادی میں کام کرنے پر آمادہ ہوئے تو غریبوں کی بستی میں سماجی ترقی کا پروجیکٹ شروع ہوا ۔ ڈاکٹر اختر حمید خان نے گندے پانی کی نکاسی ، صحت ، ہائوسنگ اور مائیکرو فائننسنگ منصوبے شروع کیے یوں پروین کے لیے ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کرکام کرنے کے بجائے فیلڈ میں جاکر کام کرناایک مختلف تجربہ تھا۔

اب گندے پانی کی نکاسی کی پائپ لائن کی تنصیب کے لیے نقشہ تیار کرنے کے ساتھ آبادی میں لوگوں کو اس کام کو اپنی مددآپ کے اصول کے تحت آمادہ کرنا مشکل کام تھا ۔ عام آدمی کو اس کام کی اہمیت کا احساس نہیں تھا غریبوںکی آمدنی انتہائی کم ہوتی تھی یوں صحت کے اصولوں پر عملدرآمد خواتین کو خاندانی منصوبہ بندی کے لیے تیارکرنا اور خواتین اورمردوں کو مائیکرو فائننسنگ کے ذریعے کاروبار پر آمادہ کرنا ایک بہت بڑا چیلنج تھا ۔اورنگی میں 1985سے نسلی فسادات کے مرکز میں تبدیل ہوا اور زندگی کو خطرے کے ساتھ مختلف نسلی گروہوں کا اعتماد حاصل کرنا سب سے بڑا مسئلہ تھا مگر پروین رحمن ایک کمزور اور محنتی خاتون ہونے کے باوجود پرعزم تھیں اور اورنگی پائلٹ پروجیکٹ نے کام جاری رکھا ۔

او پی بی کا نام صرف ایک بستی اورنگی تک محدود نہیں رہا بلکہ دوسری بستیوں تک پھیل گیا ۔ سندھ کے مختلف شہروں کے علاوہ پنجاب اور پختونخواہ کے شہروں میں او پی بی کے ماہرین کو بلایا جانے لگا ۔او پی بی کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ یہ قرضوں کے بوجھ کے باوجود لوگوں کو اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت ترقیاتی عمل پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ کم لاگت سے تیار ہونے والے گندے پانی کی نکاسی کے نظام میں لوگوں کی دلچسپیاں بڑھتی چلی گئی یوں اب سندھ کے علاوہ پنجاب کے 21 چھوٹے شہروں میں بھی یہ منصوبے شروع ہوئے اور اب تک 70 فیصد منصوبے مکمل ہوچکے ہیں۔

کراچی کے قدیم گوٹھوں کی ترقی کے لیے بھی جامع منصوبہ بندی شروع ہوئی تھی اس پروگرام میں گوٹھوں کے نقشوں کی تیاری کے علاوہ تکنیکی سروے میں مکمل ہوا ۔ کراچی کے سابقہ 18 ٹائونز میں سے 16 میں یہ سروے مکمل ہوا ۔جنرل ضیاء کے دور میں ان گوٹھوں کے گرد چاردیواری کھینچ کر انھیں شہر سے کاٹ دیا گیا تھا اوران کے مکینوں کو اپنے ریڈ انڈین ہونے کا جو احسا س پیدا ہوا تھا وہ پروین رحمن اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں سے دور ہوا۔پروین نے کراچی کے گوٹھوں کی شفافیت اور قدیم باشندوں کی نفسیات پر کتنا عبور حاصل کیا تھا ۔


بائیں بازو کے ممتاز مزدور رہنما عثمان بلوچ ایک واقعہ میں اس کا ذکر کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب بے نظیر بھٹو کے دور میں ان گوٹھوں کی زمین بہتر کی گئی تو پروین نے عثمان بلوچ کو انتباہ کیا تھا۔ اب بلڈرز مافیا غریب بلوچوں کو سبز باغ دکھا کرکوڑیوں کے دام زمین خریدلے گی پھر ان زمینوں پر فلیٹ اور ہائوسنگ اسکیموں سے بلڈرز کتنا منافع کمائیں گے ان کا حساب لگانا مشکل ہوگا ۔ 90 کی دہائی میں مذہبی انتہا پسندوں نے پروجیکٹ کے بانی ڈاکٹر اختر حمید کے خلاف توہین رسالت کے جھوٹے الزام میںشرم ناک مہم شروع کی ۔

ڈاکٹر اختر حمید کے خلاف پنجاب کے دو شہروں میں ایف آئی آر درج کی گئی،اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کے عملے کو دھمکیاں دی گئی اس ماحول میں کئی مضبوط اعصاب کا دعویٰ کرنے والے بھی کمزور پڑگئے، پروین ،انورراشد اور اس پروجیکٹ سے تعلق رکھنے والے کئی بااصول لوگوں نے انتہا پسندی کے اس پروپیگنڈے کے تدارک کے لیے جوابی مہم شروع کی، اس مہم میں شہر اور ملک بھر کی غیر سرکاری تنظیموں انسانی حقوق کے کارکنوں کو اکٹھا کیا گیا۔ نواز شریف حکومت کو ڈاکٹر اختر حمید خان کے خلاف درج مقدمے کو واپس لینا پڑا پھر 1999میں ڈاکٹر اختر حمید خان انتقال کرگئے۔

اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کو اس سانحے سے سخت دھچکا لگا ،انور راشد ، تسنیم صدیقی اور عارف حسین وغیرہ کی مشاورت سے پروین کی قیادت کے انتخاب سے پروجیکٹ میں نئی امید پیدا ہوگئی ۔ او پی بی کو عالمی اعزازات ملنا شروع ہوئے اس پروجیکٹ کے بناء پر پوری دنیا میں پاکستان کی نیک نامی کو تقویت ملی ۔ پروین نے زمینوں کی دستاویزات کی تصدیق پر خصوصی توجہ دی یوں صرف کراچی کے اطراف میں 1500گوٹھوں کا سروے ہوا پھر گوٹھوں کی زمینوں پر تحفظ کا احساس ہوا۔ اس صورتحال میں زمین پر قبضہ کرنے والی مافیا کے عزائم ناکام ہوئے ، گوٹھوں کی یہ زمین باہر سے آنے والے افراد کیلیے نعمت سے کم نہ تھی مگر پروین اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں سے ان زمینوں کی ناجائز خرید وفروخت ختم ہوئی ۔

اس طرح پروین رحمن نے اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے پانی کی سرکاری خرید وفروخت اور واٹر ہائیڈرنیٹ کے کاروبار کا سروے کیا ، اس سروے میں بہت سے حقائق سامنے آئے یہ حقائق پانی فروخت کرنیو الی مافیا کے مفادات کے منافی تھے یوں مافیا کے لیے تشویش پیدا ہونا شروع ہوئی ، پروین رحمن کا کہنا تھا کہ کراچی میں ہر سال دوسرے شہروں سے آنے والے ایک ملین افراد کے لیے غیر قانونی طور پر ایک لاکھ پلاٹوں پر قبضہ کرکے مکانات تعمیر کیے جاتے ہیں ۔ کراچی کی 70 فیصد آبادی غیر قانونی کچی آبادیوں میں رہ رہی ہے۔

ممتاز سماجی تنظیم شہری کے سیکریٹری جنرل اختر علی بھائی کا کہنا ہے کہ ان غیر قانونی بستیوں سے سیاسی جماعتیں کروڑوں روپے سالانہ حاصل کرتی ہیں اور ووٹ بینک بڑھاتی ہیں۔ اور نگی اور پٹھان کالونی کے درمیان کٹی پہاڑی کے علاقے میں ایک پارک پر غیر قانونی اپارٹمنٹ تعمیر کرکے فروخت کردیے گئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں غیر قانونی زمینوں پر قبضہ بھی شہر میں بدامنی کی ایک وجہ ہے۔ پروین رحمن سے پہلے کئی سماجی کارکن نامعلوم افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوچکے ہیں ان میں سے نمایاں نام نثار بلوچ کا ہے ، نثار بلوچ نے پرانا گولیمار ٹرانزٹ لیاری کے علاقے میں مافیا کے خلاف مہم منظم کی تھی وہ گٹر باغیچہ کی زمین کی فروخت کے خلاف تھے وہ اس مقام پر پارک بنانا چاہتے تھے۔

اورنگی پروجیکٹ کے علاوہ دوسری غیر سرکاری تنظیمیں بھی یہی چاہتی تھیں۔ نثار بلوچ کو اس جرم میں قتل کردیا گیا ، نثار بلوچ کا ایک زمانے میں پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق تھا ، پیپلزپارٹی کے چند رہنمائوں نے جن میں تاج حیدرشامل ہیں اس قتل پر احتجاج کیا مگر پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت مافیا کے سامنے بے بس تھی ، وہ مافیائیں حکومت کا حصہ تھیں۔اب پروین رحمن بھی قتل کردی گئی تھی ۔ پروین کے قتل کا تعلق کسی قسم کے مافیا سے ہو یا طالبا ن میں سے ہو مگر ہر صورت میں بالخصوص کراچی کے غریب لوگ اپنے ایک ہمدردسے محروم ہوگئے ہیں ۔

پیپلزپارٹی کی وفاقی اور صوبائی حکومت ایک سماجی کارکن کے تحفظ میں ناکامی کے سائے میں ختم ہوگئی ، پروین کے قاتل نہ پکڑے گئے تو کوئی بے لوث سماجی کارکن نہیں بچ سکے گا۔کیا پیپلزپارٹی آیندہ سندھ میں حکومت قائم کرنے کے بعد عام آدمی کو تحفظ دے سکے گی تاکہ پھر غریبوں کو ایک اور پروین کی جدائی کا صدمہ برداشت نہ کرنا پڑے ، پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور عوام کو ووٹ دیتے وقت ان پہلوئوں کو مد نظر رکھنا چاہیے ، بہر حال پروین رحمن قتل ہوکر امر ہوگئی۔
Load Next Story