مقتول ارشد معذور تھا6 ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی
ایف آئی آر تاخیر سے درج ہونے کی وجہ سے تفتیش میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔
مقتول ارشد کے اہلخانہ نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا ملازم تھا۔ فوٹو : فائل
لانڈھی میں6روز قبل فائرنگ کر کے قتل کیے جانے والے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے معذور ملازم کے قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی گئی۔
مقتول ارشد کی 6ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی، تفصیلات کے مطابق 14مارچ کو لانڈھی بابر مارکیٹ کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 41 سالہ ارشد علی ولد شاہد علی خان کے قتل کا مقدمہ 53/2013 لانڈھی تھانے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر کے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
لانڈھی انویسٹی گیشن افسر انسپکٹر علی خان نے ایکسپریس کو بتایا کہ پولیس کو جائے وقوع سے 9ایم ایم پستول 3خالی خول ملے تھے جنھیں واقعے اگلے روز ہی فارنسک لیبارٹری میں جمع کردیا گیا تھا جس کی رپورٹ جلد انھیں موصول ہو جائے گی ، ایف آئی آر تاخیر سے درج ہونے کی وجہ سے تفتیش میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔
مقتول ارشد کے اہلخانہ نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا ملازم تھا اور فارغ اوقات میں لانڈھی نمبر 3 پر قائم ایدھی فاؤنڈیشن کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا، انھوں نے بتایا کہ مقتول پولیو کے مرض کا شکار ہو کر معذور ہو گیا تھا اور اپنے کام وکاج کیلیے4 پہیوں والی موٹر سائیکل استعمال کرتا تھااور 6 ماہ قبل ہی مقتول ارشد کی شادی ہوئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ اگلے مہینے مقتول ارشد کی بھانجی کی شادی تھی، واقعے کے روز ارشد بابر مارکیٹ کے قریب واقع دکان سے خرید اری کر اپنی موٹر سائیکل پر واپس گھر جا رہا تھا کہ نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کر کے قتل کردیا، مقتول ارشد کو 8 گولیاں ماری گئیں تھیں ، ارشد کی کسی سے نہ توکوئی دشمنی تھیں اور نہ ارشد کی آج تک کسی سے تلخ کلامی ہوئی تھی، انھوں نے کہا کہ ارشد انسانی خدمت سمجھ پورے محلے کے کام خوشی سے کیا کرتا تھا اور محلے کے لوگ ارشد کی بہت عزت بھی کیا کرتے تھے۔
مقتول ارشد کی 6ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی، تفصیلات کے مطابق 14مارچ کو لانڈھی بابر مارکیٹ کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 41 سالہ ارشد علی ولد شاہد علی خان کے قتل کا مقدمہ 53/2013 لانڈھی تھانے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر کے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
لانڈھی انویسٹی گیشن افسر انسپکٹر علی خان نے ایکسپریس کو بتایا کہ پولیس کو جائے وقوع سے 9ایم ایم پستول 3خالی خول ملے تھے جنھیں واقعے اگلے روز ہی فارنسک لیبارٹری میں جمع کردیا گیا تھا جس کی رپورٹ جلد انھیں موصول ہو جائے گی ، ایف آئی آر تاخیر سے درج ہونے کی وجہ سے تفتیش میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی۔
مقتول ارشد کے اہلخانہ نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا ملازم تھا اور فارغ اوقات میں لانڈھی نمبر 3 پر قائم ایدھی فاؤنڈیشن کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا، انھوں نے بتایا کہ مقتول پولیو کے مرض کا شکار ہو کر معذور ہو گیا تھا اور اپنے کام وکاج کیلیے4 پہیوں والی موٹر سائیکل استعمال کرتا تھااور 6 ماہ قبل ہی مقتول ارشد کی شادی ہوئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ اگلے مہینے مقتول ارشد کی بھانجی کی شادی تھی، واقعے کے روز ارشد بابر مارکیٹ کے قریب واقع دکان سے خرید اری کر اپنی موٹر سائیکل پر واپس گھر جا رہا تھا کہ نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کر کے قتل کردیا، مقتول ارشد کو 8 گولیاں ماری گئیں تھیں ، ارشد کی کسی سے نہ توکوئی دشمنی تھیں اور نہ ارشد کی آج تک کسی سے تلخ کلامی ہوئی تھی، انھوں نے کہا کہ ارشد انسانی خدمت سمجھ پورے محلے کے کام خوشی سے کیا کرتا تھا اور محلے کے لوگ ارشد کی بہت عزت بھی کیا کرتے تھے۔